موجودہ عالمی نظام پر لوگوں کا اعتماد ختم، اصلاحات کی ضرورت: گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی نظام پر لوگوں کا اعتماد ختم ہو گیا ہے جس کی بحالی کے لیے بین الاقوامی مالیاتی نظام، سلامتی کونسل اور دیگر اداروں میں اصلاحات لانا ضروری ہے۔
برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں جی 20 کانفرنس کے موقع پر عالمی انتظام کو بہتر بنانے سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ دنیا میں غربت، عدم مساوات اور موسمیاتی بحران شدت اختیار کر رہے ہیں جبکہ امن پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ ان مسائل کا حل اقوام متحدہ کے چارٹر پر کاربند رہنے میں مضمر ہے تاہم اس حوالے سے عالمی ادارے اپنا کردار ادا نہیں کر پا رہے۔
معصوم لوگ بڑھتی ہوئی جنگوں کی ہولناک قیمت چکا رہے ہیں اور سلامتی کونسل یہ تنازعات ختم کرانے میں ناکام ہے۔ کونسل میں پرعزم طور سے اصلاحات کی ضرورت ہے کیونکہ دنیا میں ہر فرد اقوام متحدہ کے چارٹر، قانون، ادارے کی قراردادوں اور خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کی مطابقت سے امن چاہتا ہے۔
سلامتی کونسل میں اصلاحات
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ انہی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر مستقبل کا معاہدہ طےپایا تھا تاکہ کثیرفریقی نظام اور عالمی انتظام کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس کا آغاز سلامتی کونسل سے ہونا ہے جو اپنی تاثیر اور جواز کھوتی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ سلامتی کونسل میں تبدیلیاں لانا آسان نہیں ہو گا لیکن اس کے لیے کام جاری رکھنا ضروری ہے۔ عالمی اداروں میں ضروری اصلاحات کے بغیر چارہ نہیں اور اسی صورت ان پر دنیا کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔
انہوں نے جی 20 ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بہت سے مسائل اور امور پر فیصلے انہی کے ہاتھ میں ہیں اور بیشتر عالمی اداروں میں انہی کی بڑی نمائندگی ہے۔ اسی لیے انہیں مثالی کردار ادا کرتے ہوئے دنیا کی بہتری کی جانب رہنمائی کرنا ہو گی۔
جی 20 کی ذمہ داری
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ جی 20 ممالک دنیا کی سب سے بڑی معیشتیں ہیں جن میں سے بیشتر نے عالمی مالیاتی اداروں کے بورڈ کو چلانے کے لیے قوانین طے کیے ہیں۔ دنیا مستقبل کے معاہدے میں کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کے لیے انہی ممالک کی جانب دیکھ رہی ہے تاکہ عالمی مالیاتی نظام میں تیز رفتار اصلاحات لائی جا سکیں اور اسے دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ان اداروں میں ترقی پذیر ممالک کو جائز نمائندگی دینا ہو گی۔ انہیں کمزور معیشتوں کو عالمی اقتصادی دھچکے سہنے میں مدد فراہم کرنے کے قابل بنانا ہو گا اور تمام ممالک کو مساوی معاشی تحفظ دینا ہو گا۔
اس نظام کو ایسی شکل دینا ہو گی جس کی بدولت یہ پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کی راہ میں مالی مسائل پر قابو پانے میں مددگار ہو۔ یہ نظام ایسا ہونا چاہیے جس میں غریب ممالک کو مالی وسائل کی فراہمی کے موقع پر محض ان کے جی ڈی پی کو دیکھنے کے بجائے انہیں درپیش تمام مشکلات کو مدنظر رکھا جائے۔
قرضوں میں سہولت کی ضرورت
انتونیو گوتیرش نے غریب ممالک کو قرضوں کی فراہمی اور ان کی واپسی میں سہولت مہیا کرنے پر بھی خاص زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ممالک قرضوں میں جکڑے ہوئے ہیں ان کی مدد کے لیے بروقت اور موثر اقدامات ضروری ہیں۔ اس کے علاوہ قرضوں کی فراہمی کے نظام کو ایسا ہونا چاہیے کہ ترقی پذیر ممالک خوف و خدشات سے بے نیاز ہو کر اس سے مستفید ہو سکیں۔ علاوہ ازیں، بین الاقوامی محصولاتی نظام کو بھی مزید مشمولہ و مساوی بنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جولائی میں سپین میں مالیات برائے ترقی کے موضوع پر ہونے والی کانفرنس ان اصلاحات کو بہتر بنانے کا موقع ہو گی۔
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں تعاون
انتونیو گوتیرش نے کہا کہ کانفرنس برائے مستقبل میں طے پانے والا عالمی ڈیجیٹل میثاق مصنوعی ذہانت کے انتظام پر پہلا عالمی معاہدہ ہے جس کے لیے تمام ممالک اکٹھے ہیں۔ اس میں مصنوعی ذہانت پر ایک غیرجانبدار بین الاقوامی سائنسی پینل بنانے اور اقوام متحدہ میں اس کے انتظام سے متعلق بین الاقوامی مکالمہ شروع کرنے کی بات بھی کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا اس میں آئندہ برس ترقی پذیر ممالک میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے رضاکارانہ بنیادوں پر مالی وسائل کی فراہمی کی درخواست بھی کی گئی ہے۔
سیکرٹری جنرل نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائیں اور خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کو بھی اس سمت میں مدد فراہم کریں تاکہ ترقی کے سفر میں انہیں ساتھ رکھا جا سکے۔