کاپ 29: ہمارے مستقبل کا فیصلہ ہمارے بغیر نامنظور، نوجوان شرکاء
آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں جاری اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی کانفرنس (کاپ 29) میں بچے اور نوجوان موسمیاتی تبدیلی سے تحفظ، کرہ ارض کو مزید تباہی سے بچانے اور قدرتی ماحول کو تحفظ دینے کی کوششوں میں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے فیصلہ سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ انہیں بھی مذاکرات کی میز پر جگہ دیں اور بچوں کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچانے کے لیے بلاتاخیر ٹھوس اقدامات کریں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کے مطابق، موسمیاتی اثرات تقریباً ایک ارب بچوں کی بہبود کو متاثر کر رہے ہیں جو کہ دنیا بھر کے بچوں کی نصف آبادی ہے۔ فضائی آلودگی، وبائی بیماریوں، ماحولیاتی انحطاط اور موسمی شدت کے واقعات سے ناصرف بچوں کی صحت متاثر ہو رہی ہے بلکہ ان کی تعلیم میں بھی خلل آ رہا ہے اور وہ بڑھوتری کے لیے درکار غذائیت سے محروم ہو رہے ہیں۔
گرمی کی لہروں کے دوران چھوٹے بچوں کو پانی کی کمی کا خطرہ لاحق ہوتا ہے کیونکہ ان کے جسم بدلتے درجہ حرارت سے مطابقت نہیں رکھ پاتے۔ خشک سالی اور سیلاب خاندانوں کو تباہ کر رہے ہیں جس کا بدترین اثر بچوں پر پڑتا ہے۔
بچوں پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات
کانفرنس میں شریک ورلڈ ایسوسی ایشن آف گرل گائیڈز اینڈ گرل سکاؤٹس کی لائبیریا سے تعلق رکھنے والی رکن جنیتا تامبا نے یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ملک میں سیلاب کے باعث بہت سے سکول بند ہیں اور بچے تعلیم سے محروم ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب، خشک موسم میں لوگوں کو پانی بھرنے کے لیے طویل فاصلے طے کرنا پڑتے ہیں اور اس دوران لڑکیوں کو تشدد کا سامنا ہوتا ہے۔
یونیسف کا اندازہ ہے کہ موسمیاتی آفات کے باعث ہر سال تقریباً چار کروڑ بچے سکول نہیں جا پاتے اور یہ تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔
پاکستان سے تعلق رکھنے والی زنیرہ کاپ کانفرنس کے کم عمر ترین شرکا میں سے ایک ہیں جنہوں نے یو این نیوز کو بتایا کہ جب ان کے ملک میں سیلاب آیا تو وسائل محدود ہو گئے اور ایسے میں بچے اور خاص طور پر لڑکیاں بری طرح متاثر ہوئیں۔
آذربائیجان سے تعلق رکھنے والے رسول نے کاپ کانفرنس میں نوجوانوں کی پریس کانفرنس کے موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی حدت اور گرمی کے طویل ادوار کے باعث بحیرہ کیسپین میں پانی کی سطح تیزی سے کم ہو رہی ہے جو خشکی میں گھرا دنیا کا سب سے بڑا سمندر ہے۔ باکو کیسپین کے ساحل پر واقع ہے اور ملک کے لوگوں پر اس تبدیلی کے اثرات واضح ہیں۔ سمندر کا پانی ساحل سے دور ہوتا جا رہا ہے اور گرمی و سردی دونوں موسموں میں درجہ حرارت پہلے سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
نوجوانوں کی علیحدہ کاپ کا مطالبہ
برازیل سے تعلق رکھنے والی 16 سالہ موسمیاتی کارکن کترینا نے بتایا کہ وہ اوقیانوس کے ساحل پر واقع شہر سلواڈور میں رہتی ہیں۔ جب ان کی عمر نو برس تھی تو انہوں سمندر کو گرم ہوتا محسوس کیا کیونکہ جب وہ پانی میں جاتیں تو انہیں محسوس ہوتا کہ اس میں پہلے سے قدرے زیادہ حدت ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مونگے کے جزیروں پر سفید دھبے بھی دیکھے جو ان کا رنگ اترنے کی علامت تھی اور یہ منظر انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
کترینا کم عمر ہونے کے باوجود تجربہ کار ماحولیاتی کارکن ہیں۔ جب ان کی عمر 12 برس تھی تو انہوں نے دیگر بچوں کے ساتھ مل کر بچوں کے حقوق پر متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی کو ایک درخواست دی جس میں موسمیاتی بحران سے نمٹنے میں حکومت کی بے عملی کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا۔
کترینا نے یو این نیوز کو بتایا کہ یہ پہلا موقع تھا جب بچوں نے اقوام متحدہ کے طریقہ کار کے ذریعے اس معاملے میں عالمی سطح پر شکایت درج کرائی۔ اس میں پانچ ممالک کی مذمت کی گئی تھی اور اس درخواست کے نتیجے میں اقوام متحدہ نے باقاعدہ طور سے تسلیم کر لیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات نہ ہونے سے بچوں کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔
کاپ میں تقریر کرتے ہوئے کترینا نے کہا کہ بچوں کو بہت کچھ کہنا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ اپنی بات کیسے کرنا ہے۔ انہیں نمائندگی چاہیے اور یہ نمائندگی 'کاپ 30' میں درکار نہیں بلکہ بچوں کے لیے الگ کاپ ہونی چاہیے۔
بچوں کو ترجیح دینے کی ضرورت
یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کترینا کی بات کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتوں کو اپنے قومی موسمیاتی منصوبوں میں بچوں کے حقوق کو ترجیح دینا ہو گی۔ بچوں کو مسائل کے حل کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ ان کے لیے صحت، تعلیم، پانی جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی مستحکم ہونی چاہیے تاکہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متاثر نہ ہوں۔
یونیسف نے بتایا ہے کہ اس وقت موسمیاتی اقدامات پر مبنی نصف سے کم ممالک کے منصوبوں کو ہی بچوں اور نوجوانوں کے حوالے سے حساس قرار دیا جا سکتا ہے اور صرف تین فیصد منصوبے ایسے ہیں جن کی تیاری میں بچوں کو بھی شامل کیا گیا۔
اس تناظر میں، کینیڈا سے تعلق رکھنے والے 16 سالہ موسمیاتی کارکن پیٹن ایساؤ اپنے 800 ساتھیوں کے دستخط پر مبنی ایک منشور لے کر کاپ میں شریک ہیں۔
یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بچوں کو آسان الفاظ میں سمجھائیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف کون سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ عالمی حدت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد میں رکھنے کے لیے بلاتاخیر اقدامات کے سوا کوئی چارہ نہیں۔