انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سلامتی کونسل: سوڈان خانہ جنگی پر برطانوی قرارداد روس نے ویٹو کر دی

سوڈان پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں برطانیہ کی قرارداد پر رائے شماری ہو رہی ہے۔
UN Photo/Manuel Elías سوڈان پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں برطانیہ کی قرارداد پر رائے شماری ہو رہی ہے۔

سلامتی کونسل: سوڈان خانہ جنگی پر برطانوی قرارداد روس نے ویٹو کر دی

امن اور سلامتی

سوڈان میں متحارب عسکری دھڑوں کے مابین لڑائی کا فوری خاتمہ کرنے اور قومی سطح پر جنگ بندی کے لیے سلامتی کونسل میں پیش کردہ قرارداد روس نے ویٹو کر دی ہے۔

یہ قرارداد برطانیہ اور سیرالیون کی جانب سے پیش کی گئی جس میں فریقین سے کہا گیا کہ وہ ہتھیار پھینک کر نیک نیتی سے امن بات چیت شروع کریں۔ معصوم شہریوں کو تحفظ دینے کے لیے جنگ کو فوری طور پر روکا جائے جس میں اب تک 20 ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

اس میں سوڈان کی قومی فوج کے مخالف دھڑے ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کی جانب سے ریاست الجزیرہ، سانار اور ڈارفر کے شہر الفاشر پر حملوں کی مذمت کی گئی اور متحارب فریقین سےکہا گیا کہ وہ شہریوں کو تحفظ دینے کے لیے ہرممکن اقدامات کریں اور لڑائی میں ان کا نقصان کم سے کم رکھنے کی کوشش کریں۔ دوران جنگ جنسی تشدد کی روک تھام کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں اور اس تشدد کو جنگی حربے کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔

قرارداد میں فریقین پر زور دیا گیا کہ وہ امداد کی فراہمی میں سہولت دینے کے لیے لڑائی میں وقفے کریں اور سرحد پار سے انسانی امداد کی مکمل، تیزرفتار، محفوظ اور بلارکاوٹ ترسیل کی اجازت دی جائے۔

روس کا موقف

اقوام متحدہ میں روس کے نائب مستقل نمائندے دمتری پولینسکی نے قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دینے کے بعد کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوڈان میں متحارب فریقین کا جنگ بندی معاہدے پر پہنچنا ہی قیام امن کا واحد راستہ ہو گا۔ کونسل کو ان پر استعماری انداز میں یہ حکم  مسلط نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ قرارداد پیش کرنے والے درست طور سے یہ بات نہیں سمجھ سکے کہ شہریوں کو تحفظ دینے کی ذمہ داری کس کی ہے اور غیرملکی افواج کو سوڈان میں آنے کی دعوت دینے کا فیصلہ کسے کرنا چاہیے۔ دراصل یہ ذمہ داری سوڈان کی حکومت کی ہے اور برطانیہ کی پیش کردہ قرارداد میں اس کا تذکرہ نہیں کیا گیا اور اس طرح یہ سوڈان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔

برطانیہ کی مذمت

روس کی جانب سے قرارداد کو ویٹو کیے جانے کے بعد کونسل کے ارکان نے اپنے موقف کا اظہار بھی کیا اور بیشتر نے سوڈان میں جنگ بندی کے مطالبات کیے۔

رواں ماہ کے لیے کونسل کے صدر اور برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمے نے کہا کہ سوڈان کے شہری ڈیڑھ سال سے ناقابل تصور تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہیں نسلی منافرت پر مبنی مظالم، جنسی تشدد، اجتماعی جنسی زیادتیوں، بچوں کے اغوا اور انہیں جنگی مقاصد کے لیے بھرتی کیے جانے جیسے حالات درپیش ہیں۔ ملک میں امدادی کارکنوں پر حملے کیے جا رہے ہیں اور انسانی امداد کی فراہمی کو روکا جا رہا ہے۔

ڈیوڈ لیمے نے کہا کہ سوڈان کے لوگوں کی یہ تکالیف انسانیت کے ضمیر پر بہت بڑا گھاؤ ہیں جبکہ ایک ملک کونسل کی اجتماعی رائے کے سامنے رکاوٹ بن کر کھڑا ہو گیا ہے۔ یہ ایک ملک امن کا دشمن ہے اور روس کا اس قرارداد کو ویٹو کرنا توہین آمیز اقدام ہے جس سے دنیا کے سامنے روس کا حقیقی چہرہ ایک مرتبہ پھر بے نقاب ہو گیا ہے۔

'سوڈان کو تقسیم کرنے کی سازش'

اقوام متحدہ میں سوڈان کے نمائندے نے کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کے حوالے سے سچائی بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ غیرملکی طاقتیں جارحانہ جنگ مسلط کر کے ملکی حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ عالمی کردار اس سلسلے میں منظم طور سے دباؤ اور جبر سے کام لے رہے ہیں۔

سلامتی کونسل جارحین کا نام لینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی ہے جبکہ ملک میں ملیشیاؤں اور کرائے کی فورسز کے لیے اسلحے کے ذخائر بھیجے جا رہے ہیں۔ نئے حملوں میں شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور کونسل کو ان مظالم کی مذمت کرنے میں ڈیڑھ سال لگ گیا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ فریبانہ امن معاہدوں کے ذریعے سوڈان کو تقسیم کرنے کی سازش ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں ملک انسانی امداد کا محتاج ہو کر رہ جائے گا۔