بہانہ بازی چھوڑیں اور موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے وسائل مہیا کریں، سٹیئل
موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن کے ایگزیکٹو سیکرٹری سائمن سٹیئل نے 'کاپ 29' میں شریک مذاکرات کاروں پر زور دیا ہے کہ وہ غیرضروری باتوں کو چھوڑ کر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کا نیا ہدف طے کرنے پر توجہ دیں۔
آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں جاری اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس کے موقع پر انہوں نے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنے اور انہیں ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی کے لیے مالی وسائل کی فراہمی میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
سائمن سٹیئل نے مندوبین سے کہا کہ وہ کانفرنس کے آخری ہفتے میں کم متنازع امور کو فوری طور پر طے کریں تاکہ بڑے سیاسی فیصلوں کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت مل سکے۔
عالمی حدت کے بدترین صورت اختیار کرتے اثرات سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل کی مقدار میں اضافے کے لیے معاہدہ کرنا 11 نومبر سے جاری 'کاپ 29' کا مرکزی ہدف ہے۔ اقوام متحدہ کے زیرانتظام کاربن کی مارکیٹ کے قیام کے حوالے سے ضابطے طے ہونے کی صورت میں ایک بڑی کامیابی کے باوجود مالیاتی ہدف پر بات چیت سست رو ہے اور ممالک اتفاق رائے پر پہنچنے کے بجائے تاحال ایک دوسرے سے فروعی مسائل پر الجھ رہے ہیں۔
نزاعی رویوں سے گریز پر زور
سائمن سٹیئل نے کہا کہ بعض ممالک کی جانب سے دھونس، دھمکیوں اور اپنے مفادات کے لیے سوچے سمجھے ہتھکنڈوں سے کام لیے جانے کے باعث قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے اور پرعزم فیصلوں کے لیے درکار خیرسگالی میں کمی آ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فریقین دوسروں کو پہل کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں اور اپنا موقف تسلیم نہ کیے جانے کی صورت میں آگے نہ بڑھنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ تاہم، کامیابی لیے فریقین کا مل کر چلنا اور اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری ہے۔
یو این چیف کی تشویش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش بھی 'کاپ 29' میں بات چیت کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ممالک کو ایسے پرعزم موسمیاتی مالی ہدف پر اتفاق کرنا ہو گا جس سے ترقی پذیر دنیا کو درپیش مسائل حل ہو سکیں۔
اتوار کو برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں جی 20 کانفرنس کے آغاز سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں کے لیے مثالی کردار ادا کرنے کا وقت آ گیا ہے کہ کیونکہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں انہی کا سب سے بڑا کردار ہے۔ اس معاملے میں ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں۔