انسانی کہانیاں عالمی تناظر
مصنوعی ذہانت کی مدد سے ڈیٹا پروسیسنگ کے عمل کے حوالے سے پرائیوسی پر تحفظات پائے جاتے ہیں۔

کاپ 29: ماحول دوست ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے حصول کا اعلامیہ منظور

© Unsplash/Steve Johnson
مصنوعی ذہانت کی مدد سے ڈیٹا پروسیسنگ کے عمل کے حوالے سے پرائیوسی پر تحفظات پائے جاتے ہیں۔

کاپ 29: ماحول دوست ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے حصول کا اعلامیہ منظور

موسم اور ماحول

آذربائیجان میں جاری اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی کانفرنس (کاپ 29) میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی تیاری میں کاربن اور آلودگی کے اخراج کو کم کرنے اور اسے موسمیاتی اقدامات کی رفتار تیز کرنے کے لیے استعمال میں لانے کے لیے اعلامیے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

کانفرنس کی تاریخ کے پہلے 'ڈیجیٹلائزیشن ڈے' پر 'ماحول دوست ڈیجیٹل اقدامات کے اعلامیے' کی حکومتوں، کمپنیوں، سول سوسائٹی کے اداروں، بین الاقوامی و علاقائی تنظیموں اور دیگر فریقین کے 1,000 سے زیادہ نمائندوں نے توثیق کی۔

Tweet URL

اس موقع پر عالمی ٹیلی مواصلاتی یونین (آئی ٹی یو) کی سیکرٹری جنرل ڈورین بوگڈان۔مارٹن نے کہا کہ اس اعلامیے کو دنیا کے اس یقین کی بنیاد بننا چاہیے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا موسمیاتی بحران پر قابو پانے کے لیے استعمال ماحول دوست انداز میں بھی ممکن ہے۔

انہوں نے مندوبین سے کہا کہ وہ 'کاپ 30' تک اس پیش رفت میں مزید اضافہ کریں تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے مزید پائیدار ڈیجیٹل مستقبل ممکن ہو سکے۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور پائیدار ترقی

'کاپ 29' میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے متعلق موضوعات پر اجلاسوں کا انعقاد اقوام متحدہ کی بین الاقوامی ٹیلی مواصلاتی یونین (آئی ٹی یو) کے زیراہتمام ہوا جس کا کہنا ہے کہ پائیدار ترقی کے لیے 2030 کے ایجنڈے کو حاصل کرنے میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اسی طرح موسمیاتی نگرانی، قدرتی آفات سے بروقت آگاہی کے نظام اور موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے اور اس کے اثرات کو محدود کرنے میں بھی اس کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔

مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور بِگ ڈیٹا جیسی ٹیکنالوجی کا آج کی ڈیجیٹل دنیا میں توانائی کے استعمال کو بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر 'اے آئی' کے الگورتھم سے کام لے کر ڈیٹا سنٹر توانائی کی استعداد میں بہتری لا سکتے ہیں، اپنی کارروائیوں کو باترتیب بنا سکتے ہیں اور کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

ٹیکنالوجی اور توانائی کے مسائل

ادارے کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل اشیا اور خدمات میں اضافے کے ساتھ ان میں پانی اور توانائی کے استعمال اور ان سے خارج ہونے والے ای فضلے کی مقدار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

معمولات زندگی جتنے زیادہ ڈیجیٹل ہوتے جائیں گے توانائی کی طلب بھی اتنی ہی بڑھتی جائے گی جس کے نتیجے میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بھی بڑھے گا۔ مصنوعی ذہانت کے پرگراموں کو چلانے والے کمپیوٹر سرور چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں۔ یہ سرور اور ان کے ڈیٹا سنٹر بڑی مقدار میں بجلی استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیٹا سنٹر کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بھی بہت سی توانائی درکار ہوتی ہے۔

'کاپ 29' میں موسمیاتی اقدامات میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے کام لینے کے تناظر میں مندرجہ بالا اور دیگر امور و مسائل بھی زیرغور آئے۔

ماحول دوست ڈیجیٹل اقدامات کے اعلامیے میں موسمیاتی تبدیلی کو محدود رکھنے اور اس سے مطابقت پیدا کرنے میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اس اعلامیے کے مقاصد سے واضح ہوتا ہے کہ کیسے ڈیجیٹل اختراعات گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے اور لوگوں کو موسمیاتی کیفیات سے آگاہ اور خبردار رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔