کاپ 29: پاکستان کا موسمیاتی تبدیلی سے بچوں کا تحفظ یقینی بنانے پر اتفاق
پاکستان نے بچوں کے حقوق اور مفادات کو موسمیاتی تبدیلی کے سبب لاحق خطرات سے تحفظ دینے کے اعلامیے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس اقدام سے موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں بچوں اور نوجوانوں کی بیان کردہ ترجیحات کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
پاکستان نے اس اعلامیے کی توثیق آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں جاری اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس (کاپ 29) کے چھٹے روز یونیسف کے ساتھ ایک اجلاس میں کی ہے۔ اس موقع پر ملک کی وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں کے نمائندے موجود تھے۔
پاکستان نے اس اعلامیے پر دستخط کر کے اپنے ہاں ان 11 کروڑ 20 لاکھ بچوں اور نوجوانوں کی زندگیوں کو تحفظ دینے کا عزم کیا ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں قدرتی حوادث، نقل مکانی اور تکالیف کا سامنا کر رہے ہیں۔
بچوں کے مسائل کا ادراک
اس موقع پر پاکستان کے وزیراعظم کی رابطہ کار برائے موسمیاتی تبدیلی رومینہ خورشید نے کہا کہ ان کا ملک بچوں کے حقوق اور ضروریات کو اپنی موسمیاتی پالیسیوں بالخصوص تیسرے دور کے لیے اپنے قومی موسمیاتی منصوبوں کا حصہ بنائے گا۔
یہ منصوبے دراصل ہر ملک کی ان کوششوں کا احاطہ کرتے ہیں جو وہ اپنے ہاں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ 2021 میں پاکستان نے دوسری مرتبہ اپنے منصوبے 'کاپ' میں پیش کیے تھے جو بچوں کے حوالے سے جزوی طور پر حساس تھے۔ آئندہ یہ منصوبے مارچ 2025 میں برازیل میں منعقد ہونے والی 'کاپ 30' میں پیش کیے جانا ہیں۔
پاکستان کے صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ بچوں اور نوجوانوں کو اس مستقبل کے لیے تیار کرنا ہو گا جس میں وہ بڑے ہو رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں دنیا میں آنے والی تبدیلیوں کو تعلیمی نصاب کا حصہ بھی ہونا چاہیے اور بچوں کو ماحول دوست معیشت کے لیے تیار کرنا ضروری ہے۔
صحت و بہبود کا تحفظ
اعلامیے پر دستخط کی تقریب میں یونیسف کی ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کِٹی وان ڈر ہیڈن نے کہا کہ اب موسمیاتی سرمایہ کاری سے بچوں کو براہ راست فوائد پہنچانے کا وقت آ گیا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں موسمیاتی اقدامات کے لیے مالی وسائل کا صرف 2.4 فیصد بچوں سے متعلق مسائل پر خرچ ہوتا ہے۔ اب بچوں کی صحت و بہبود کو موسمیاتی مسائل سے تحفظ دینے کے لیے ہر سماجی شعبے میں سرمایہ کاری کو بڑھانا ہو گا۔
پاکستان کی حکومت اور یونیسف کو بچوں اور نوجوانوں پر موسمیاتی تبدیلی کے غیرمتناسب اثرات کے بارے میں گہری تشویش ہے۔ گرین ہاؤس گیسوں کے بڑھتے ہوئے اخراج اور فضا کو آلودہ کرنے والے مادوں سے بچوں کی صحت، تعلیم اور بہبود کو فوری خطرات لاحق ہیں۔ متواتر سیلاب اور شدید گرمی کی بڑھتی ہوئی لہروں کے باعث بچوں کو لاحق مسائل سات دہائیاں پہلے کے مقابلے میں کہیں بڑھ گئے ہیں۔
صوبہ خیبرپختونخوا میں موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ٹیم کے سربراہ فیصل امین خان نے اعلامیے پر عملدرآمد کے عزم کی توثیق کی اور یقین دہانی کرائی کہ پاکستان اپنے نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور مواقع مہیا کر گا۔
یونیسف 'کاپ 29' میں شریک عالمی رہنماؤں پر یہ تسلیم کرنے کے لیے زور دے رہا ہے کہ بچے اور نوجوان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے غیرمتناسب طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔ انہیں تحفظ دینے کے لیے اس کانفرنس میں طے پانے والی موسمیاتی پالیسیوں اور اقدامات میں بچوں کے لیے موسمیاتی مالی وسائل کا حصہ بڑھانا ہو گا۔