انسانی کہانیاں عالمی تناظر
موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کی وکالت کرنے والے کارکن باکو میں کاپ 29 کانفرنس میں اکٹھے ہیں۔

کیا موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے درکار وسائل دستیاب ہو سکیں گے؟

UNFCCC/Kiara Worth
موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کی وکالت کرنے والے کارکن باکو میں کاپ 29 کانفرنس میں اکٹھے ہیں۔

کیا موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے درکار وسائل دستیاب ہو سکیں گے؟

موسم اور ماحول

غریب ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر قابو پانے اور ان سے مطابقت اختیار کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر مالی مدد کی فراہمی آذربائیجان میں جاری 'کاپ 29' کا اہم ترین ہدف ہے۔ اس تناظر میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا اس مقصد کے لیے درکار کئی ٹریلین ڈالر مہیا ہو پائیں گے؟

'کاپ 29' سے پہلے ایک سال کے دوران دنیا نے جنگلوں کی آگ سے لے کر تباہ کن سیلاب اور سمندری طوفانوں تک بڑے پیمانے پر موسمیاتی ابتری دیکھی جس نے دنیا کے ہر حصے کو متاثر کیا ہے۔ غریب ممالک کی غیرمحفوظ آبادیاں ان آفات کا سب سے بڑا ہدف ہیں۔ گوناگوں مسائل کے باعث یہ ملک اپنے لوگوں کو موسمیاتی مسائل سے تحفظ دینے پر وسائل خرچ نہیں کر سکتے۔ اسی لیے چند سال پہلے 'کاپ' میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ جو باوسائل ملک موسمیاتی تبدیلی کے بڑے ذمہ دار ہیں وہ غریب ممالک کو اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مالی مدد دیں گے جن کا یہ مسئلہ پیدا کرنے میں بہت کم کردار ہے۔

کیا نئے موسمیاتی مالی ہدف پر اتفاق ممکن؟

موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کے بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی) نے عالمی حدت میں اضافے کے حوالے سے سنگین انتباہ جاری کیا ہے۔ اس حدت میں اضافے کو قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حدود میں رکھنے کے لیے ماحول دوست توانائی کی ٹیکنالوجی، متعلقہ بنیادی ڈھانچے اور موسمیاتی اثرات سے مطابقت پیدا کرنے کے اقدامات پر بھاری سرمایہ کاری درکار ہے۔

Tweet URL

ترقی پذیر بالخصوص چھوٹے جزائر پر مشتمل اور کم ترین ترقی یافتہ ممالک سطح سمندر میں اضافے، شدید موسمی واقعات اور خشک سالی جیسے موسمیاتی اثرات سے غیرمتناسب طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔ انہیں موسمیاتی تبدیلی کے مقابل خود کو مضبوط بنانے، معیشت سے کاربن کے اخراج میں کمی لانے اور اس مسئلے سے ہونے والے نقصان اور تباہی کا ازالہ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر مالی مدد کی ضرورت ہے۔

'کاپ 29' میں اس مسئلے پر بات چیت سست روی سے جاری ہے کیونکہ ایسے مسائل سے نمٹنے کے لیے گفت و شنید میں سب سے زیادہ بحث مباحثہ مالی امور پر ہوتا ہے۔ کانفرنس میں شریک ترقی پذیر ممالک کے وفود نقصان و تباہی کے ازالے سے متعلق فنڈ میں مالی وسائل کی مقدار بڑھانے اور ماحول دوست توانائی کے اہداف پر تیز رفتار پیش رفت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن (یو این ایف سی سی سی) کے ایگزیکٹو سیکرٹری سائمن سٹیئل نے کانفرنس کے آغاز پر کہا تھا کہ بدترین صورت اختیار کرتی موسمیاتی تبدیلی اور اس سے ہونے والے سماجی معاشی نقصان کے باعث اربوں لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ان کی حکومتیں نئے موسمیاتی مالیاتی ہدف پر اتفاق رائے کے بغیر 'کاپ' سے واپس نہ آئیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کانفرنس سےافتتاحی خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ 2024 میں بہت بڑے پیمانے پر موسمیاتی تباہی دیکھنے کو ملی۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے موسمیاتی مالی وسائل کی فراہمی لازم ہے اور دنیا کو اس بحران پر قابو پانے کے لیے وسائل مہیا کرنا ہوں گے وگرنہ اس کی قیمت انسانیت کو چکانا پڑے گی۔ اس مقصد کے لیے مالی وسائل فراہم کرنا خیرات نہیں بلکہ سرمایہ کاری ہے اور موسمیاتی اقدامات اختیاری نہیں بلکہ لازمی اہمیت رکھتے ہیں۔

سائمن سٹیئل نے سیکرٹری جنرل کی بات کو دہراتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی اقدامات کے لیے فراہم کیے جانے والی مالی وسائل کی مقدار کے حوالے سے نیا ہدف طے کرنے سے بڑے اور امیر ممالک سمیت دنیا بھر کو فائدہ پہنچے گا۔

100 ارب ڈالر سے آگے

2009 میں ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں منعقدہ 'کاپ 15' میں ترقی پذیر ممالک نے وعدہ کیا تھا کہ وہ 2020 تک اس مقصد کے لیے ہر سال 100 ارب ڈالر دیں گے۔ یہ ہدف 2022 میں جا کر مکمل ہوا اور اس وقت ترقی پذیر دنیا نے کہا تھا کہ اب یہ وسائل ناکافی ہیں اور ان کی فراہمی بھی بہت تاخیر سے ہوئی ہے۔

'کا پ29' میں دنیا بھر کے ممالک سے تعلق رکھنے والے مذاکرات کار اس حوالے سے نیا اور مزید پرعزم ہدف طے کریں گے۔ ترقی پذیر ممالک کی کوشش ہے کہ اس مقصد کے لیے ہر سال کئی ٹریلین ڈالر مختص کیے جائیں۔ تاہم ابھی تک کسی واضح ہدف اور ان وسائل کی فراہمی کے طریقہ کار پر اتفاق رائے نہیں ہوا اور بات چیت جاری ہے۔

باکو میں جاری کاپ 29 کانفرنس کے دوران موسمیاتی انصاف پر مزاکرات مسلسل جاری ہیں۔
UNFCCC/Kiara Worth
باکو میں جاری کاپ 29 کانفرنس کے دوران موسمیاتی انصاف پر مزاکرات مسلسل جاری ہیں۔

کاربن پر تاریخی معاہدہ

'کاپ 29' کے پہلے روز پیرس معاہدے کے آرٹیکل 6 کی منظوری ایک نمایاں کامیابی تھی جس سے اقوام متحدہ کی حمایت سے کاربن کی عالمی منڈی وجود میں آئے گی۔ یہ منڈی کاربن کریڈٹ کی تجارت، ممالک کو کاربن کے اخراج میں کمی لانے کی ترغیب دینے اور موسمیات دوست منصوبوں پر سرمایہ کاری میں سہولت دے گی۔

'یو این ایف سی سی سی' میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو محدود رکھنے سے متعلق شعبے کےسربراہ جیمز گاربیرٹ نے کہا ہے کہ اس تاریخی معاہدے سے ممالک کو اپنے موسمیاتی اہداف کی تکمیل اور پائیدار ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے قابل قدر ذریعہ میسر آئے گا۔

چونکہ 'کاپ 29' امریکہ کے صدارتی انتخابات کے فوری بعد منعقد ہوئی ہے اس لیے بہت سے مندوبین کے ذہن میں یہ سوال بھی ہے کہ نئی موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمگیر اقدامات پر امریکی حکومت کے اثرات کیا ہوں گے۔

جزائر مارشل کی صدر ہلڈا ہین اور آئرلینڈ کے وزیر ماحولیاتی ایمون ریان نے کہا ہے کہ پیرس معاہدے سے امریکہ کی ممکنہ دستبرداری سے متعلق تشویش کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ ایک عالمی کوشش ہے جو عالمگیر معاشی بہتری کے لیے عالمگیر تعاون کا تقاضا کرتی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس ضمن میں ممالک اور شہروں کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو امید افزا قرار دیا۔

ایران کے علاقے تبریز میں تانبے کی ایک کان۔
© Unsplash/Omid Roshan
ایران کے علاقے تبریز میں تانبے کی ایک کان۔

کمیاب معدنیات کا معاملہ

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے برازیل میں جی20 کانفرنس میں شرکت سے قبل موسمیاتی امور اور مسائل پر متعدد اجلاس کیے جن میں ایک ایسی معدنیات سے متعلق تھا جو قابل تجدید توانائی کی ٹیکنالوجی جیسا کہ سولر پینل، ہوائی چکیوں اور بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی تیاری میں استعمال ہوتی ہیں۔ ان میں تانبے، لیتھیم، نکل اور کوبالٹ سمیت متعدد کمیاب معدنی دھاتیں شامل ہیں۔ چونکہ معدنی ایندھن سے ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی میں ان کی لازمی ضرورت ہے اسی لیے 2030 تک ان دھاتوں کی طلب میں بڑے پیمانے پر اضافہ متوقع ہے۔

ان میں بہت سی دھاتیں افریقہ کے ممالک میں پائی جاتی ہیں جنہیں ان سے مالی فائدہ ہو سکتا ہے۔ تاہم ان دھاتوں کی کان کنی اور فروخت کے حوالے سے کئی معاملات تشویش ناک ہیں کیونکہ عام طور پر اس عمل میں ان ممالک کو زیادہ فائدہ نہیں پہنچتا جہاں سے یہ دھاتیں نکالی جاتی ہیں۔

سیکرٹری جنرل کہہ چکے ہیں کہ اس طلب کو 'لالچ کی بھگدڑ' نہیں بننا چاہیے اور ان معدنیات کے حصول میں غریبوں کو کچلنے اور ان کا استحصال کرنےکے بجائے مقامی لوگوں کا جائز فائدہ یقینی بنایا جانا چاہیے۔

یورپ کے لیے اقوام متحدہ کے معاشی کمیشن کے ڈائریکٹر ڈیریو لیگوٹی نے ان معدنیات کے مستحکم استخراج و استعمال پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خاص طور پر ابھرتی ہوئی منڈیوں میں ان سے اس انداز میں کام لیا جانا چاہیے جس سے ماحول کو نقصان نہ ہو اور مقامی لوگوں کو فائدہ پہنچے۔

اپریل میں سیکرٹری جنرل نے یہ یقینی بنانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی پینل قائم کیا تھا کہ جن ممالک میں یہ معدنیات پائی جاتی ہیں وہ ان کی کان کنی سے خاطرخواہ معاشی فوائد اٹھا سکیں۔

اقوام متحدہ کے سربراہ باکو میں نوجوانوں کے ایک گروپ کے ساتھ۔
© UN Office for Partnerships
اقوام متحدہ کے سربراہ باکو میں نوجوانوں کے ایک گروپ کے ساتھ۔

نوجوانوں کی سرگرمی اور موسمیاتی انصاف

دنیا بھر کے نوجوان موسمیاتی اقدامات اور اس معاملے میں انصاف کا مطالبات کر رہے ہیں۔ ان کا حکومتوں اور کاروباروں سےکہنا ہے کہ وہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے، غیرمحفوظ لوگوں کو تحفظ دینے اور تمام انسانوں کے پائیدار مستقبل کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کریں۔

سیکرٹری جنرل نے 'کاپ 29' میں نوجوانوں اور ماحولیاتی کارکنوں کے نمائندوں سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر کہا کہ وہ ان کی پریشانی کو سمجھتے ہیں۔ ان نوجوانوں کو خفا ہونے کا حق ہے اور وہ خود بھی خفا ہیں کیونکہ دنیا موسمیاتی تباہی کےدھانے پر کھڑی ہے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے خاطرخواہ حد تک تیزتر اقدامات یا سیاسی عزم دکھائی نہیں دیتا۔

'کیئر اباؤٹ کلائمیٹ' نامی غیرسرکاری ادارے سے تعلق رکھنے والے موسمیاتی کارکن باسم اللہ رواش کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو محدود رکھنے کا بوجھ اٹھانے کی ذمہ داری نوجوانوں کی نہیں تھی۔ نوجوانوں نے یہ مسئلہ پیدا نہیں کیا لیکن اس وقت سب سے بڑی جدوجہد کا بوجھ انہی کے کندھوں پر ہے۔

باکو میں لیے جانے والے فیصلوں کے آنے والی نسلوں پر دوررس نتائج مرتب ہوں گے۔ اسی لیے مذاکرات کاروں کا کسی پُرعزم معاہدے پر پہنچنا ضروری ہے تاکہ تمام لوگوں کے لیے مستحکم اور کاربن سے پاک مستقبل کے لیے درکار مالی وسائل مہیا ہو سکیں۔

باکو میں یو این نیوز کی ٹیم آئندہ ہفتے کے اختتام تک اس کانفرنس کے بارے میں خبریں دیتی رہے گی۔

کاپ 29 کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے یو این خبرنامہ کے خصوصی صفحے کا وزٹ کیجیے۔