انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایرانی جوہری تنصیبات کی نگرانی پر ٹھوس پیش رفت ضروری، گروسی

آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل میریانو گروسی نے ایران کے نومنتخب صدر مسعود پزیشکیان سے بھی ملاقات کی۔
© IAEA
آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل میریانو گروسی نے ایران کے نومنتخب صدر مسعود پزیشکیان سے بھی ملاقات کی۔

ایرانی جوہری تنصیبات کی نگرانی پر ٹھوس پیش رفت ضروری، گروسی

امن اور سلامتی

جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافائل میریانو گروسی نے کہا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حفاظتی اقدامات اور ان کے بارے میں تصدیق و نگرانی کے دیگر امور پر ٹھوس پیش رفت ضروری ہے۔

انہوں نے یہ بات ایران کے دو روزہ دورے کی تکمیل پر کہی ہے جس میں وہ یورینیم کی افزودگی کے ایک پلانٹ پر گئے اور ملک کے نومنتخب صدر مسعود پزیشکیان سے ملاقات کی۔

'آئی اے ای اے' کے سربراہ نے بتایا کہ صدر پزیشکیان کے ساتھ ملاقات اس دورے کا اہم حصہ اور نئی حکومت کے ساتھ اعلیٰ ترین سطح پر رابطہ قائم کرنے کا موقع تھا۔ اس دوران انہوں نے صدر کے خیالات سنے اور عالمی ایجنڈے پر موجود اس انتہائی اہم مسئلے پر پیش رفت کے حوالے سے اپنی سوچ سے آگاہ کیا۔

انہوں نے ایران کے حکام سے ملاقاتوں میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ملک کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ہونے والی بات چیت کو بھی آگے بڑھایا۔

اس دورے میں وہ ایران کی حکومت کے دیگر ارکان سے بھی ملے اور مارچ 2023 میں ایران کے اتفاق رائے سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے کی تمام پہلوؤں سے متعلق تکنیکی بات چیت میں شرکت کی۔

آئی اے ای اے کے سربراہ نے ایران کے یورینیم افزودگی کے مراکز کا دورہ بھی کیا۔
© IAEA
آئی اے ای اے کے سربراہ نے ایران کے یورینیم افزودگی کے مراکز کا دورہ بھی کیا۔

اعلامیہ کے نقاط

  • ایران نے جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کو اپنی تین تنصیبات کے تحفظ سے متعلق مسائل پر تعاون جاری رکھنے اور مزید معلومات اور رسائی فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔
  • اس کی جانب سے اپنی جوہری تنصیبات کی تصدیق و نگرانی کے بارے میں مزید اقدامات کی بھی رضا کارانہ اجازت دی گئی۔ اس حوالے سے طریقہ کار تکنیکی امور پر آئندہ اجلاس میں طے پائیں گے۔
  • ایران کے ادارہ برائے جوہری توانائی اور آئی اے ای اے نے بات پر اتفاق کیا کہ فریقین کے مابین رابطے باہمی تعاون کے جذبے اور آئی اے ای اے کی استعداد اور اختیار کے تحت ہوں گے اور جامع حفاظتی اقدامات کے معاہدے کی بنیاد پر ان میں ایران کے حقوق اور ذمہ داریوں کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔