کاپ 29: میتھین کے اخراج پر زبانی جمع خرچ کی بجائے عملی اقدام کی ضرورت
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یونیپ) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن نے کہا ہے کہ عالمی حدت میں اضافے کو قابو میں رکھنے کے لیے میتھین گیس کے اخراج کو فوری طور پر کم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں جاری اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی کانفرنس (کاپ 29) میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومتوں اور تیل و گیس کی کمپنیوں کو میتھین کا اخراج روکنے کے لیے محض وعدوں کے بجائے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ فضا کو اس مضر گیس سے پاک رکھا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے درکار ذرائع موجودہ ہیں، اہداف طے کر لیے گئے ہیں اور اب عملی قدم اٹھانے کا وقت ہے۔
انگر اینڈرسن نے یہ بات میتھین کے اخراج اور اس سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ کے اجرا پر کہی۔ اس رپورت میں بتایا گیا ہے کہ میتھین کے اخراج (لیکیج) کی نشاندہی اور اس پر قابو پانے سے متعلق بنائے گئے جدید اطلاعاتی نظام (مارس) نے حکومتوں اور کاروباروں کو 1,200 مواقع پر اس بارے مطلع کیا لیکن صرف ایک فیصد اطلاعات پر ہی کوئی ردعمل آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا بیشتر اخراج معمولی سی مرمت کے ذریعے ہی روکا جا سکتا ہے اور بعض اوقات تو محض ڈھیلے پیچ کس دینے سے ہی مسئلہ حل ہو جاتا ہے لیکن اس معاملے میں سنجیدہ کوششوں کا فقدان ہے۔
میتھین کیا ہے؟
'یونیپ' کے مطابق، انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں میتھین کے اخراج کا موجودہ عالمی حدت میں تقریباً ایک تہائی حصہ ہے۔ اس اخراج کو روکنا کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے کو مختصر مدتی طور پر سست رفتار بنانے کا تیزترین اور سستا ترین طریقہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصان کو روکنے کے لیے ایسا کرنا بہت ضروری بھی ہو گیا ہے۔
انسانی سرگرمیوں کے باعث میتھین کے اخراج میں تین شعبوں کا سب سے بڑا کردار ہے جن میں زراعت، کچرا/فضلہ اور معدنی ایندھن شامل ہیں۔ کوئلے کی کان کنی معدنی ایندھن کی صنعت سے خارج ہونے والی 12 فیصد میتھین کی ذمہ دار ہے جبکہ 23 فیصد میتھین زمین سے تیل و گیس نکالنے، اسے صاف کرنے اور اس کی ترسیل و تقسیم کے نتیجے میں خارج ہوتی ہے۔
کچرا/فضلہ جمع کرنے اور اسے ٹھکانے لگانے کے شعبے میں 20 فیصد میتھین صنعتوں کے گندے پانی اور کوڑا کرکٹ تلف کرنے کی جگہوں سے خارج ہوتی ہے۔ زرعی شعبے میں 32 فیصد میتھین کا اخراج مویشی چرانے کی سرگرمیوں اور ان کے گوبر سے ہوتا ہے جبکہ آٹھ فیصد چاول کی کاشت کے نتیجے میں خارج ہوتی ہے۔
اس وقت فضائی کرے میں میتھین گیس کی مقدار قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں تقریباً 2.5 فیصد زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) کے مطابق، حالیہ برسوں میں اس گیس کا اخراج پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔
میتھین کے اخراج میں کمی کیسے ممکن؟
اگرچہ میتھین فضائی کرے کو تیزی سے آلودہ کرنے والی گیس سمجھی جاتی ہے تاہم اس کے اخراج میں کمی لانا کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں بہت آسان ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موخرالذکر گیس فضائی کرے میں رہتے ہوئے حرارت کو سمو لیتی ہے جبکہ میتھین فضا میں زیادہ دیر تک موجود نہیں رہتی۔
یونیپ کے زیر قیادت میتھین کے اخراج کی نشاندہی کرنے کی مشاہدہ گاہ (آئی ایم ای او) اور جدید مارس نظام مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی معلومات کی مدد سے اس گیس کے اخراج پر نظر رکھتے اور حکومتوں کے علاوہ کمپنیوں کو بھی بڑے پیمانے پر میتھین کے اخراج پر قابو پانے میں مدد دیتے ہیں۔
حوصلہ افزا پیش رفت
اگرچہ میتھین کا اخراج روکنے کے لیے بہت سا کام ہونا باقی ہے تاہم، رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ متعدد ممالک اور تیل و گیس کمپنیاں مارس کی جانب سے مہیا کی جانے والی معلومات اور اطلاعات کے ذریعے اس گیس کے اخراج کو روکنے کی موثر کوششیں کر رہی ہیں۔ اس ضمن میں آذربائیجان اور امریکہ کی مثال نمایاں ہے جہاں کئی صنعتوں سے بڑے پیمانے پر میتھین کے اخراج پر کامیابی سے قابو پایا گیا ہے۔
اسی طرح الجزائر اور نائجیریا میں بھی حکومتوں اور تیل و گیس کمپنیوں نے ایسے ہی اقدامات کیے ہیں۔ نائجیریا میں چھ ماہ کے دوران جتنی میتھین خارج ہوئی وہ ایک سال کے عرصہ میں چار لاکھ کاروں کے چلنے سے خارج ہونے والی میتھین کے برابر تھی۔ تاہم صنعتوں میں خراب پرزوں کی تبدیلی کے ذریعے دو ہفتوں سے بھی کم وقت میں اس اخراج کو روک دیاگیا۔
کاپ 29 کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے یو این خبرنامہ کے خصوصی صفحے کا وزٹ کیجیے۔