انسانی کہانیاں عالمی تناظر
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش باکو میں کاپ 29 کانفرنس میں نوجوانوں کے ساتھ

کاپ 29: تحفظ ماحول میں سستی پر نوجوانوں کا غصہ جائز، گوتیرش

© UN Office for Partnerships
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش باکو میں کاپ 29 کانفرنس میں نوجوانوں کے ساتھ

کاپ 29: تحفظ ماحول میں سستی پر نوجوانوں کا غصہ جائز، گوتیرش

موسم اور ماحول

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ دنیا موسمیاتی تباہی کے دھانے پر کھڑی ہے جبکہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے درکار ہنگامی اقدامات یا سیاسی ارادہ دکھائی نہیں دیتا۔

آذربائیجان میں اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی کانفرنس (کاپ 29) میں نوجوانوں کے نمائندوں اور نوجوان ماحولیاتی کارکنوں سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ اس مسئلے پر قابو پانے میں خاطرخواہ سنجیدگی نظر نہ آنے پر نئی نسل کا غصہ بجا ہے۔

Tweet URL

کانفرنس میں نوجوانوں نے سیکرٹری جنرل کو موسمیاتی اقدامات کی سست روی پر اپنی تشویش سے آگاہ کیا۔ نوجوانوں پر مشتمل مشاورتی گروپ اور موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن (یو این ایف سی سی سی) میں نوجوانوں کی برادری 'ینگ گو' کے زیراہتمام منعقدہ اجلاس میں دنیا بھر سے نمائندگی موجود تھی۔ اس دوران انہوں نے سیکرٹری جنرل کو بتایا کہ موسمیاتی تباہی سے بچنے کے لیے کون سے اقدامات اٹھانا چاہئیں۔

شرکا نے اس مسئلے کے تناظر میں اپنی امنگوں اور خدشات کا تذکرہ کیا اور دنیا کو مزید مستحکم اور محفوظ بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات تجویز کیے۔ بیشتر نوجوانوں کا کہنا تھا کہ موسمیاتی مسائل دقیق تصورات نہیں بلکہ روزمرہ کے حقائق ہیں اور ان مسائل کا مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

دور حاضر کی اہم ترین جنگ

انتونیو گوتیرش نے نوجوانوں کی کوششوں کی بھرپور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ مزید پرعزم اور پرتخیل ہو کر موسمیاتی اقدامات کے لیے اپنے رہنماؤں پر دباؤ ڈالیں۔ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے نوجوانوں کی مضبوط تحریک درکار ہے اور اس کی ضرورت پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے۔

سیکرٹری جنرل نے نوجوان ماحولیاتی کارکنوں کے لیے اپنی حمایت جاری رکھنے کے عزم کی توثیق کی اور کہا کہ موسمیاتی بحران دور حاضر کی سب سے اہم جنگ ہے اور دنیا کو اسے بہرصورت جیتنا ہو گا۔ اس معاملے میں وہ نوجوانوں پر اعتماد کرتے ہیں اور نوجوان بھی ان پر بھروسہ رکھ سکتے ہیں۔

نوجوان کیا سوچتے ہیں؟

آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی نوجوان ماحولیاتی کارکن ایسل عزیزووا نے یو این نیوز کو بتایا کہ سیکرٹری جنرل کے ساتھ ان کی ملاقات نہایت مفید رہی۔ اس موقع پر پائیدار ترقی اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ میں نوجوانوں کے کردار پر تبادلہ خیال ہوا۔ سیکرٹری جنرل نے ان کے تصورات کو قابل قدر قرار دیا۔

عزیزووا نے کہا کہ اس بات چیت سے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو موسمیاتی تبدیلی کی وجوہات اور اس پر قابو پانے کے ممکنہ اقدامات کے بارے میں بہتر آگاہی حاصل ہوئی ہے۔ اس دوران انہوں نے ماحول دوست ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کو بڑھانے اور بالخصوص ترقی پذیر ممالک کو اس معاملے میں درپیش وسائل کی قلت سے نمٹنے کے اقدامات تجویز کیے۔ سیکرٹری جنرل نے ان کے سوالات کا مشفقانہ طور سے جواب دیا اور تمام تفصیلات بتائیں۔

اقوام متحدہ کے سربراہ باکو میں نوجوانوں کے ایک گروپ کے ساتھ۔
© UN Office for Partnerships

مشمولہ اقدامات کی ضرورت

افریقی ملک گیمبیا میں بچوں کے حقوق کے 18 سالہ کارکن لیمن جاوو نے یو این نیوز کو بتایا کہ سیکرٹری جنرل کی تقریر میں یہ بات ان کے لیے بہت اہم تھی کہ موسمیاتی اقدامات میں نوجوانوں اور بالخصوص بچوں اور جسمانی معذور افراد جیسے پسماندہ گروہوں کی آرا کو مدنظر رکھا جانا ضروری ہے۔

اس کے علاوہ سیکرٹری جنرل نے بتایا کہ موسمیاتی اقدامات کے لیے مالی وسائل موجود ہیں اور انہیں خاص طور پر ایسے ممالک کے لیے دستیاب ہونا چاہیے جو موسمیاتی تبدیلی سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

شہروں اور قدیمی مقامی باشندوں کا کردار

تعمیرات و شہری منصوبہ بندی کے ماہر اور آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے سب سے کم عمر لارڈ میئر سٹی قونصلر ایچ وائی ولیم چن نے یو این نیوز کو موسمیاتی تبدیلی کا سامنا کرنے والے شہروں کے اہم کردار کے بارے میں آگاہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سیکرٹری جنرل نے اس موضوع پر ان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے عالمگیر اصلاح کی ضرورت پر زور دیا جس کا نوجوان نسل طویل عرصہ سے مطالبہ کرتی آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکمرانی کے موجودہ نظام لوگوں کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہو رہے۔ کمزور اور غیرمحفوظ لوگ اور ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ہنگامی حالات کا سامنا ہے۔ اسی لیے ترقی اور اس مقصد کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے ضمن میں مساوات پر مبنی طریقہ ہائے کار اختیار کرنا ہوں گے تاکہ یہ وسائل اور پالیسیوں کو اس مسئلے سے بری طرح متاثرہ لوگوں کے لیے قابل رسائی اور کارآمد بنایا جا سکے۔ ان میں چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک بھی شامل ہیں جن میں سے متعدد ان کے ملک آسٹریلیا کے قریب واقع ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے پر قابوپانے کے لیے قدیمی مقامی باشندوں کے علم، تجربے اور کردار سے فائدہ اٹھانا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو محض نمائندگی دینے کے بجائے فیصلہ سازی میں بامعنی طور سے شامل کیا جانا چاہیے۔ سیکرٹری جنرل کے الفاظ آنے والی نسلوں کی خاطر تبدیلی لانے کی اجتماعی اخلاقی ذمہ داری کی طاقتور یاد دہانی ہیں۔