انسانی کہانیاں عالمی تناظر

دنیا میں ذیابیطس کے مریضوں میں چار گنا اضافہ، ڈبلیو ایچ او

ڈبلیو ایچ او بیماری کی نگرانی کا ایک نیا عالمی طریقہ کار شروع کر رہا ہے جس کے تحت خون میں گلوکوز کی زیادتی پر قابو پانے اور ضروری ادویات تک رسائی بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی۔
Marcelo Camargo/Brazil Agency.
ڈبلیو ایچ او بیماری کی نگرانی کا ایک نیا عالمی طریقہ کار شروع کر رہا ہے جس کے تحت خون میں گلوکوز کی زیادتی پر قابو پانے اور ضروری ادویات تک رسائی بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی۔

دنیا میں ذیابیطس کے مریضوں میں چار گنا اضافہ، ڈبلیو ایچ او

صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ 1990 کے بعد دنیا میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں چار گنا اضافہ ہو گیا ہے اور 800 ملین سے زیادہ بالغ افراد اس بیماری میں مبتلا ہیں۔

ذیابیطس کے خلاف عالمی دن پر 'ڈبلیو ایچ او' کی جاری کردہ تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بیماری پر قابو پانے کے لیے عالمی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

یہ تحقیق 1,500 سے زیادہ محققین اور معالجین کے نیٹ ورک 'این ڈی سی رِسک فیکٹر کولیبوریشن' نے 'ڈبلیو ایچ او' کے تعاون سے کی ہے۔ یہ ذیابیطس کے پھیلاؤ کی شرح اور اس کے علاج سے متعلق پہلا عالمگیر تجزیہ ہے جس میں دنیا بھر میں 18سال سے زیادہ عمر کے 140 ملین لوگوں کی معلومات لی گئیں۔

Tweet URL

اس میں بتایا گیا ہے کہ 1990 اور 2022 کے درمیانی عرصہ میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا جن میں 460 ملین یا 60 فیصد کو علاج میسر نہیں ہے۔ خاص طور پر کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں یہ صورتحال زیادہ شدید ہے جہاں ایسے 90 فیصد مریض پائے جاتے ہیں۔

'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے خبردار کیا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے جس سے موٹاپے کی بلند شرح کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔ غیرصحت مند خوراک، جسمانی سرگرمی کے فقدان اور معاشی مشکلات بھی ذیابیطس میں اضافے کا بڑا سبب بن گئی ہیں۔

ذیابیطس کے خلاف نیا اقدام

'ڈبلیو ایچ او' کے جنوبی ایشیائی اور مشرقی بحیرہ روم کے خطوں میں ذیابیطس کے پھیلاؤ کی شرح سب سے زیادہ ہے جہاں 20 فیصد بالغ افراد اس بیماری سے متاثر ہیں۔ ان خطوں اور افریقہ میں اس کے علاج کی شرح سب سے کم ہے جہاں اوسطاً 40 فیصد سے بھی کم بالغوں کو گلوکوز میں کمی لانے کا علاج میسر ہے۔

ان مسائل پر قابو پانے کے لیے 'ڈبلیو ایچ او' بیماری کی نگرانی کا ایک نیا عالمی طریقہ کار شروع کر رہا ہے جس کے تحت خون میں گلوکوز کی زیادتی پر قابو پانے اور ضروری ادویات تک رسائی بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی۔

یہ ذیابیطس کے خلاف ایک اہم عالمگیر قدم ہے جس سے ممالک کو اس بیماری کی روک تھام، مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج معالجے کے نتائج اور اثرات کے کا اندازہ لگانے میں مدد ملے گی۔ علاوہ ازیں، اس سے بیماری کے خلاف 2021 کے عالمی میثاق پر عملدرآمد میں بھی بہتری آئے گی جس کا مقصد جامع طبی نگہداشت تک مساوی رسائی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ طریقہ کار دنیا بھر میں مختلف النوع نظام ہائے صحت میں ذیابیطس کی روک تھام اور علاج کو معیاری بنانے کی جانب بھی ایک اہم قدم ہے۔

مستقبل کا لائحہ عمل

ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ذیابیطس کی وبا پر قابو پانے کے لیے ممالک کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس کا آغاز ایسی پالیسیوں کے نفاذ سے ہو گا جو صحت مند خوراک کے استعمال اور جسمانی سرگرمیوں کو فروغ دیں۔ علاوہ ازیں اس کے لیے ایسے نظام ہائے صحت بھی درکار ہیں جو ذیابیطس کی موثر روک تھام، بروقت تشخیص اور علاج میں معاون ہوں۔

'ڈبلیو ایچ او' نے اس بیماری کے خلاف پرعزم اہداف طے کیے ہیں جس میں 2030 تک ذیابیطس کے 80 فیصد مریضوں کو خون میں گلوکوز کی مقدار کو کنٹرول کرنے کے قابل بنانا ہے۔ اس ہدف کے تحت ایک وسیع تر حکمت عملی تشکیل دی گئی ہے جس سے ذیابیطس کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات پر قابو پانے اور ضروری علاج معالجے تک رسائی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔