انسانی کہانیاں عالمی تناظر

چائے کافی کی بڑھتی قیمتوں سے خوراک کے اخراجات میں اضافہ

کولمبیا میں کافی کے اچھے بیجوں کی چھانٹی کی جا رہی ہے۔
UN Multi-Partner Trust Fund for Sustaining Peace in Colombia کولمبیا میں کافی کے اچھے بیجوں کی چھانٹی کی جا رہی ہے۔

چائے کافی کی بڑھتی قیمتوں سے خوراک کے اخراجات میں اضافہ

معاشی ترقی

عالمی ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) نے بتایا ہے کہ چائے اور کافی جیسے گرم مشروبات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث رواں سال دنیا بھر میں خوراک پر اٹھنے والے مجموعی اخراجات 2 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔

'ایف اے او' کی جانب سے خوراک کی صورتحال پر جاری کردہ تازہ ترین دو سالہ رپورٹ کے مطابق، رواں سال کے آغاز میں کوکوا کی قیمتوں میں دس سالہ اوسط کے مقابلے میں چار گنا اضافہ ہوا اور اس طرح کافی کی قیمتیں دو گنا بڑھ گئیں جبکہ چائے کی قیمتوں میں طویل مدتی سطح کے مقابلے میں 15 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

Tweet URL

یہ رپورٹ دنیا بھر میں آنے والی ایسی تبدیلیوں کا احاطہ کرتی ہے جو انسانی غذا اور مویشیوں کی خوراک کی منڈیوں پر اثرانداز ہوتی ہیں۔

اس میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں غذائی اخراجات میں ہونے والے نصف سے زیادہ اضافے کا سبب چائے اور کافی کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ ہے جن کے بارے میں 'ایف اے او' کا اندازہ ہے کہ یہ رواں سال کے آخر تک تقریباً 23 فیصد بڑھ جائیں گی۔

غذائی برآمدات اور معاشی بہتری

رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں خوراک کی درآمد پر دو تہائی اخراجات بلند آمدنی والے ممالک میں ہوتے ہیں جہاں یہ اضافہ 4.4 فیصد تک ہو گا جبکہ متوسط اور کم آمدنی والے ممالک میں خوراک پر درآمدی اخراجات میں کمی آئے گی۔

کم آمدنی والے ممالک کو اناج اور تیل کے بیجوں کی قیمتوں میں کمی سے فائدہ پہنچے گا تاہم وہاں گندم اور موٹے اناج کی فی کس کھپت میں کمی متوقع ہے جبکہ چاول کے استعمال میں 1.5 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

'ایف اے او' نے اس رپورٹ میں متعدد معیشتوں میں بہتری کے حوالے سے خوراک کی برآمدات کے اہم کردار کے بارے میں بھی بتایا ہے۔ مثال کے طور پر، برونڈی اور ایتھوپیا کی غذائی برآمدات میں کافی کا حصہ تقریباً 40 فیصد رہا جبکہ آئیوری کوسٹ میں کوکوا کی برآمدات کا مالی حجم اس کی تمام غذائی درآمدت سے زیادہ تھا۔ اسی طرح سری لنکا نے چائے کی برآمد سے اپنی تمام غذائی برآمدات کے نصف سے زیادہ رقم کمائی۔

غذائی تحفظ میں کمی

'ایف اے او' کے اندازے دنیا بھر میں غذائی پیداوار اور تجارت کے حوالے سے ملی جلی صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، گندم اور موٹے اناج کی پیداوار میں کمی کی توقع ہے لیکن یہ صَرف کے مقابلے میں زیادہ رہے گی جبکہ 25-2024 کے سیزن میں چاول کی ریکارڈ توڑ پیداوار کے باعث اس کے استعمال، اسے ذخیرہ کرنے اور اس کی بین الاقوامی تجارت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

گوشت اور دودھ کی مصنوعات میں قدرے اضافہ متوقع ہے جبکہ مچھلی کی پیداوار 2.2 فیصد تک بڑھ جائے گی۔سبزیوں کے تیل کا استعمال متواتر دوسرے برس اس کی پیداوار سے تجاوز کر سکتا ہے جس کے باعث اس کے ذخائر میں کمی آئے گی۔

رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ شدید موسمی واقعات، ارضی سیاسی تناؤ اور پالیسی میں آنے والی تبدیلیاں پیداوار کے نظام کو غیرمستحکم کر سکتی ہیں جس کے نتیجے میں عالمگیر غذائی تحفظ میں مزید کمی آ سکتی ہے۔

ایف اے او کی طرف سے ایتھوپیا میں کسانوں میں کھاد تقسیم کی جا رہی ہے (فائل فوٹو)۔
© FAO/Michael Tewelde ایف اے او کی طرف سے ایتھوپیا میں کسانوں میں کھاد تقسیم کی جا رہی ہے (فائل فوٹو)۔

زیتون کی قیمت میں اضافہ

رپورٹ میں موسمیاتی عوامل کے باعث زیتون کے تیل کی پیداوار میں کمی اور اس کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے۔ سپین میں زیتون کے 'کولڈ۔پریسڈ ورجن' تیل کی قیمت جنوری میں 10 ہزار ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی تھی جو 2022 کی سطح سے تین گنا زیادہ ہے۔

بلند درجہ حرارت کے باعث زیتون کے درخت پانی کو پھل پیدا کرنے کے بجائے اپنے دیگر افعال کے لیے محفوظ کر لیتے ہیں۔ جن علاقوں میں یہ فصل پیدا ہوتی ہے وہاں گرم حالات کے باعث دو برس سے پیداوار میں نصف حد تک کمی دیکھی جا رہی ہے۔ اگرچہ سپین میں زیتون کی آئندہ پیداوار گزشتہ دس سال کی اوسط سے بڑھ جانے کا امکان ہے تاہم بلند قیمتوں کے باعث عالمی سطح پر اس کے استعمال میں کمی آ سکتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیتون کے پیداکار پانی اور زمین سے مزید مستحکم طور پر کام لینے کے طریقوں سے رجوع کر رہے ہیں۔ اس کے تیل کی برآمدات میں اضافے سے جڑے معاشی فوائد کو دیکھتے ہوئے حکومتیں زیتون کے کسانوں کو انشورنس سکیموں اور فصلوں کو بیماریوں سے بچانے کی صورت میں مدد کی پیشکش کر سکتی ہیں۔

کرغستان کا ایک بازار جہاں مہنگائی کی وجہ سے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے (فائل فوٹو)۔
© IMF/Yam G-Jun کرغستان کا ایک بازار جہاں مہنگائی کی وجہ سے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے (فائل فوٹو)۔

سستی کھادوں کی ضرورت

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2022 کے بعد کھادوں کی قیمتوں میں 50 فیصد تک کمی آئی ہے جس کا بڑا سبب قدرتی گیس کی قیمتوں میں اور تجارتی رکاوٹوں میں آنے والی کمی ہے۔

'ایف اے او' کی ماہر معاشیات ماریا اینٹپ نے بتایا ہے کہ تجارتی رکاوٹوں اور ارضی سیاسی تناؤ کے نتیجے میں مستقبل کی سپلائی سے متعلق خدشات کی بنا پر خاص طور پر لاطینی امریکہ اور ایشیا میں فاسفیٹ کھادوں کی قیمتیں برقرار ہیں۔

علاوہ ازیں، رپورٹ میں کم کاربن والی امونیا کو کھادوں کے حوالے سے اہم متبادل قرار دیا گیا ہے جو نائٹروجن والی کھادوں کا اہم جزو ہوتا ہے۔ 'ایف اے او'  کا کہنا ہے کہ اگرچہ قدرتی گیس کے بجائے قابل تجدید توانائی کھادوں کی تیاری کے لیے زیادہ بہتر ہے اور اس کے لیے سرمایہ کاری بھی ہو رہی ہے تاہم پیداوار میں اضافے کے لیے کھاد کی صنعت کو ضروری ترغیبات دینا ہوں گی۔