انسانی کہانیاں عالمی تناظر
انتونیو گوتیرش نے کہا کہ چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک دنیا کو بتا رہے ہیں کہ موسمیاتی عزم کیا ہوتا ہے۔

چھوٹے جزائر پر مشتمل ممالک کی موسمیاتی ناانصافی پر ناراضگی جائز، گوتیرش

© UNICEF/Vlad Sokhin
انتونیو گوتیرش نے کہا کہ چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک دنیا کو بتا رہے ہیں کہ موسمیاتی عزم کیا ہوتا ہے۔

چھوٹے جزائر پر مشتمل ممالک کی موسمیاتی ناانصافی پر ناراضگی جائز، گوتیرش

موسم اور ماحول

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک کو بڑھتی ہوئی عالمی حدت سے تحفظ دینے کے لیے گرین ہاؤس گیسیں خارج کرنے والے بڑے ممالک سے مدد کی ضرورت ہے اور وہ اس کا حق بھی رکھتے ہیں۔

آزربائیجان کے دارالحکومت باکو میں اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس (کاپ 29) کے موقع پر انہوں نے کہا کہ چھوٹے جزائر پر مشتمل ممالک کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے اور ان کا خفا ہونا بجا ہے کیونکہ عالمی حدت پیدا کرنے میں ان کا کوئی کردار نہیں۔ اس ناانصافی کے باعث سطح سمندر میں اضافہ ہو رہا ہے، ان ممالک کے لوگوں کو بڑی تعداد میں اور شدید سمندری طوفانوں کا سامنا ہے، ان کی معیشتیں تباہ ہو رہی ہیں اور ان کا مستقبل خطرے میں ہے۔

Tweet URL

کاپ میں چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک کے بارے میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اس ناانصافی کے ذمہ دار چند ممالک ہیں۔ گرین ہاؤس گیسوں کی 80 فیصد مقدار جی 20 معیشتوں سے خارج ہو رہی ہے اسی لیے عالمی حدت میں کمی لانے کی سب سے بڑی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے۔

قابل پیروی نظیر

انتونیو گوتیرش نے کہا کہ چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک دنیا کو بتا رہے ہیں کہ موسمیاتی عزم کیا ہوتا ہے۔ یہ لوگ موسمیاتی حوادث کا سب سے پہلے مقابلہ کرتے ہیں۔ دنیا کو ان کی پیروی کرنا ہو گی اور انہیں مدد دینا ہو گی جس کے لیے تین کام ترجیحی بنیادوں پر کیے جانا ضروری ہیں۔

1۔ 1.5 ڈگری کے ہدف کا حصول

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ دنیا بھر کے ممالک اور بالخصوص جی20 معیشتوں کو چاہیے کہ وہ عالمی حدت میں اضافے کو قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد میں رکھنے کے لیے ہرممکن اقدام کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں 2030 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نو فیصد تک کمی لانا ہو گی، معدنی ایندھن کا استخراج و استعمال تیزی سے اور منصفانہ انداز میں بتدریج ختم کرنا ہو گا اور 'کاپ 28' میں کیے جانے والے وعدوں پر عملدرآمد یقینی بنانا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ہر ملک کے لیے 1.5 ڈگری کے ہدف کی مطابقت سے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ہر معاشی شعبے میں اقدامات سے متعلق اپنے قومی لائحہ عمل کو آگے بڑھانا بھی ضروری ہے۔

2۔ نقصان اور تباہی کا ازالہ

سیکرٹری جنرل نے دوسری ترجیح پر بات کرتے ہوئے ممالک پر زور دیا کہ وہ چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے خطرناک اثرات سے تحفظ کے لیے مدد فراہم کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں نقصان اور تباہی کا ازالہ کرنے کے لیے قائم کردہ فنڈ میں نمایاں حصہ ڈالنا ہو گا تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث تباہی سے دوچار ہونے والے علاقوں کو مستقبل میں بامعنی طور سے تحفظ دیا جا سکے۔

3۔ مستقبل کے معاہدے پر عملدرآمد

تیسری ترجیح کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے 'مستقبل کے معاہدے' کے مقاصد پر عملدرآمد کے لیے زور دیا۔ یہ معاہدہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والی 'مستقبل کی کانفرنس' میں طے پایا تھا۔ اس میں بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات لانے اور غریب ممالک پر قرضوں کا بوجھ کم کرنے کا عہد کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، ممالک نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے حصول کی رفتار تیز کرنے کے لیے سالانہ 500 ارب ڈالر فراہم کریں گے۔

انصاف کا مطالبہ

انتونیو گوتیرش نے شرکا سے کہا کہ ان وعدوں پر عملدرآمد کے لیے موثر اقدامات ضروری ہیں۔ 'کاپ 29' میں موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مہیا کیے جانے والے مالی وسائل کی مقدار کے حوالے سے نیا ہدف مقرر کرنا ہو گا اور اس ضمن میں چھوٹے جائز پر مشتمل ترقی پذیر ممالک کی صورتحال کو بطور خاص مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیا مالیاتی ہدف مقرر کرتے ہوئے یہ بھی طے ہونا چاہیے کہ یہ رقم کیسے جمع ہو گی۔ اس مقصد کے لیے نئے مالیاتی ذرائع جیسا کہ ہوابازی، جہاز رانی اور معدنی ایندھن کے استخراج پر محصولات کا نفاذ کرنا ہو گا۔ علاوہ ازیں، مالی وسائل کی فراہمی اور دستیابی کے حوالے سے اعتماد کی فضا قائم کرنے کے لیے رسائی، شفافیت اور جوابدہی کے طریقہ کار بھی وضع کرنا ہوں گے۔

انہوں نے چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک سے براہ راست مخاطب ہو کر کہا کہ وہ اس کاپ کے دوران اور بعد میں اپنے اخلاقی اختیار سے کام لیتے ہوئے دنیا سے عملی اقدامات، قیادت اور انصاف کا مطالبہ کریں۔