لبنان: بلیو لائن اور شہری علاقوں پر اسرائیلی بمباری بلا توقف جاری
لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یونیفیل) نے بتایا ہے کہ اسرائیل کی سرحد کے متوازی 'بلیو لائن' پر اس کی تنصیبات اور چیک پوسٹوں پر متواتر حملے ہو رہے ہیں جبکہ لبنان بھر میں شہری علاقوں پر اسرائیل کی مہلک بمباری میں بھی تاحال کوئی کمی نہیں آئی۔
اسرائیل کے حملوں سے نقورہ میں واقع فورس کے ہیڈکوارٹر کو کئی مرتبہ نقصان پہنچا ہے جبکہ حالیہ کشیدگی کے آغاز سے اب تک یونیفیل کے متعدد اہلکار ان حملوں میں زخمی ہو چکے ہیں۔
یونیفیل کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے باعث سڑکیں اور دیگر بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو رہا ہے۔ فورس کے اہلکار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تفویض کردہ ذمہ داری کے تحت اپنا کام کرنے کے لیے اہم راستوں کو بحال کرنے میں مصروف ہیں۔
ایک ہفتے میں 241 ہلاکتیں
اقوام متحدہ میں قیام امن سے متعلق شعبے کے سربراہ ژان پیئر لاکوا بھی تین روزہ دورے پر لبنان پہنچ گئے ہیں جہاں وہ یونیفیل کی پوزیشنوں کا دورہ کر کے حالات کا جائزہ لیں گے۔
لبنان میں امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کے سربراہ عمران رضا نے اسرائیلی حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جنگ بندی پر زور دیا ہے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ گزشتہ ہفتے ان حملوں میں کم از کم 241 افراد کی ہلاکت ہوئی اور 642 زخمی ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جانا لازم ہے اور اب اس تشدد کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
غذائی عدم تحفظ
اقوام متحدہ کے امدادی حکام خبردار کر چکے ہیں کہ جنگ زدہ لبنان میں غذائی عدم تحفظ روز بروز شدت اختیار کر رہا ہے جہاں اسرائیل کے حملوں میں اب تک تین ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک اور تقریباً 14 ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔
عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے کہا ہے کہ جنوری سے اب تک لبنان میں 618,000 افراد کو غذائی اور نقد امداد دی گئی ہے تاہم ضروریات تیزی سے بڑھ رہی ہیں جنہیں پوری کرنے کے لیے درکار 116 ملین ڈالر میں سے چھ فیصد ہی مہیا ہو پائے ہیں۔
حالیہ جنگ شروع ہونے سے پہلے بھی لبنان کو کووڈ۔19 سے جنم لینے والے شدید معاشی مسائل اور طویل سیاسی بحران کا سامنا تھا جبکہ اس جنگ نے ملکی معیشت کو 12 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔
نقل مکانی کا بحران
ملک میں 23 ستمبر کو پیجر دھماکوں میں لوگوں کے ہلاک و زخمی ہونے کے بعد شدت پکڑنے والی کشیدگی سے ملک کی ایک چوتھائی آبادی متاثر ہوئی ہے۔ تب سے اب تک 875,000 سے زیادہ لوگوں نے اندرون ملک نقل مکانی کی ہے۔ ایک سال سے جاری کشیدگی میں بے گھر ہو جانے والے لوگوں کی مجموعی تعداد 14 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
تازہ ترین معلومات کے مطابق 23 ستمبر سے اب تک 561,000 لوگوں نے پناہ کے لیے شام کا رخ کیا ہے۔ ان میں 66 فیصد شامی پناہ گزین اور 34 فیصد لبنانی شہری ہیں۔
لبنان۔شام سرحد کے قریب اسرائیل کے حالیہ فضائی حملوں کے بعد شمالی لبنان سے شام کی جانب ایک کے سوا تمام سرحدی راستے بند ہو گئے ہیں۔ پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کے مطابق، 27 ستمبر اور 5 نومبر کے درمیان تقریباً 31 ہزار لوگوں نے لبنان کی طرف نقل مکانی کی ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے لبنان میں بڑھتے انسانی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مقامی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 214 افراد ہلاک اور 731 زخمی ہوئے ہیں۔ طبی کارکنوں کو حملوں کا نشانہ بننے والی جگہوں پر رسائی میں مشکلات اور عدم تحفظ کا سامنا ہے۔