انسانی کہانیاں عالمی تناظر
اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی کانفرنس آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقد ہو رہی ہے۔

کاپ 29: ماحول دوست فنڈ مستقبل پر سرمایہ کاری ہے خیرات نہیں، گوتیرش

UN Climate Change/Habib Samadov
اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی کانفرنس آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقد ہو رہی ہے۔

کاپ 29: ماحول دوست فنڈ مستقبل پر سرمایہ کاری ہے خیرات نہیں، گوتیرش

موسم اور ماحول

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ عالمی رہنماؤں نے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے، لوگوں کو موسمیاتی ابتری سے بچانے اور اس مقصد کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے فوری اقدامات نہ کیے تو دنیا کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ عالمی حدت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد میں رکھنے کی گنجائش تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے، وقت ہاتھ سے نکل رہا ہے اور بے عملی کی صورت میں تباہی یقینی ہے۔

Tweet URL

کوئی بھی ملک انسان کی لائی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ نہیں ہے جو تباہ کن طوفانوں، سمندری سطح اور حدت میں اضافے اور خشک سالی کی صورت میں دنیا کے وجود کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔

قابل انسداد ناانصافی

سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث عالمی معیشت میں رسد کی فراہمی کی ہر سطح پر مرتب ہونے والے اثرات سے قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ فصلوں کو ہونے والے نقصان سے خوراک کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے اور موسمی شدت کے واقعات سے گھروں کی تباہی نے انشورنس پریمیم کو ناقابل برداشت حد تک بڑھا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایسی ناانصافی ہے جسے روکا جا سکتا ہے۔ یہ مسئلہ امیر ممالک نےپیدا کیا ہے اور اس کی بہت بڑی قیمت غریب ملک چکا رہے ہیں۔ غیرسرکاری ادارے آکسفیم نے بتایا ہے کہ ایک عام شخص زندگی بھر کی سرگرمیوں کے نتیجے میں جتنی کاربن کا اخراج کرتا ہے اتنی دنیا کے امیر ترین ارب پتی لوگ ڈیڑھ گھنٹے میں خارج کرتے ہیں۔ جب تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی نہیں آئے گی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مطابقت اختیار نہیں کی جائے گی اس وقت تک ہر معیشت بڑے پیمانے پر موسمیاتی غضب کا ہدف رہے گی۔

امید کی کرن

انتونیو گوتیرش نے کہا کہ ان تمام مسائل کے باوجود امید کی کرن بھی دکھائی دیتی ہے۔ گزشتہ سال متحدہ عرب امارات میں ہونے والی 'کاپ 28' میں موسمیاتی مسئلے سے نمٹنے کے لیے چند ٹھوس اقدامات دیکھنے کو ملے تھے۔ اس موقع پر تمام ممالک نے معدنی ایندھن کے استخراج اور استعمال کا بتدریج خاتمہ کرنے اورگرین ہاؤس گیسوں کے خاتمے کے لیے نیٹ زیرو ہدف کی مطابقت سے قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی کی رفتار میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا۔

گزشتہ کانفرنس میں ان مقاصد کے حصول کے لیے اہداف بھی طے کیے گئے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مطابقت پیدا کرنے کے اقدامات میں اضافے کے وعدے ہوئے اور تمام ممالک نے 1.5 ڈگری کے ہدف کی مطابقت سے قومی سطح پر موسمیاتی اقدامات کا عہد کیا۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اب عملی اقدامات میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں رہی۔ انہوں نے برطانیہ کی آکسفرڈ یونیورسٹی اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے ایک جائزے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دنیا کی 80 فیصد آبادی موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مزید اقدامات چاہتی ہے۔ سائنس دان، حقوق کے کارکن اور نوجوان تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور انہیں خاموش کرانے کے بجائے ان کی بات سنی جانی چاہیے۔

تین اہم ترجیحات

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو باکو سے خالی ہاتھ نہیں جانا چاہیے اور اس کانفرنس میں عالمی رہنماؤں کو فوری اقدامات کے حوالے سے تین شعبوں پر خاص توجہ دینا ہو گی۔

انہیں اپنے ہاں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ہنگامی بنیادوں پر سالانہ نو فیصد کمی لا کر 2019 کی سطح کے مقابلے میں 2030 تک ان کا مجموعی اخراج 43 فیصد کم کرنا ہو گا۔

انہیں لوگوں کو موسمیاتی بحران کے تباہ کن اثرات سے بچانے کے لیے مزید اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مطابقت پیدا کرنے کے اقدامات کے لیے درکار اور مہیا کردہ مالی وسائل کے مابین فرق 2030 میں 359 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ سکتا ہے۔ اسے محض بیلنس شیٹ پر غیرموجود رقم سمجھنا درست نہیں بلکہ یہ اعدادوشمار زندگیوں، فصلوں اور ترقی کو ہونے والے متوقع نقصان کی عکاسی کرتے ہیں۔

انہوں نے عالمی رہنماؤں سے کہا کہ وہ موثر موسمیاتی اقدامات کے لیے درکار مالی وسائل کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو ہٹا دیں اور اس مقصد کے لیے موجودہ تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نیا ہدف مقرر کریں۔ انہیں ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لیے باہم اتفاق رائے سے سرکاری سطح پر مہیا کیے جانے والے وسائل کو بڑھانا ہو گا، اس مقصد کے لیے نئے وسائل سے کام لینا ہو گا، مالی وسائل تک رسائی، ان کے شفاف استعمال اور جواب دہی کے لیے طریقہ کار وضع کرنا ہوں گے اور بڑے کثیرفریقی ترقیاتی بینکوں کی قرض دینے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہو گا۔ یہ کوئی خیراتی اقدام نہیں بلکہ انسانیت کے مستقبل پر سرمایہ کاری ہو گی۔

عالمی معیشت کے لیے خطرہ

موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سائمن سٹیئل نے کانفرنس میں شریک مندوبین کو بتایا ہے کہ موسمیاتی بحران دنیا کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ بہت سے ممالک میں اس مسئلے کے باعث مجموعی قومی پیداوار میں 5 فیصد تک کمی آ رہی ہے۔

اگر دنیا نے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف دلیرانہ اقدامات نہ کیے تو ہر جگہ مہنگائی میں غیرمعمولی اضافہ ہو جائے گا۔ کووڈ۔19 وبا اس کی واضح مثال ہے جب اس کے خلاف اجتماعی اقدامات نہ ہونے سے سپلائی چین کو شدید نقصان ہوا اور پوری دنیا کسی نہ کسی سطح کے معاشی بحران کا شکار ہو گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف دلیرانہ اقدامات سے ممالک میں معاشی مواقع کھلیں گے۔ ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی سے نوکریوں اور ترقی میں اضافہ ہو گا، آلودگی میں کمی کے نتیجے میں بہت سے ماحولیاتی مسائل پر قابو پانے کے اخراجات میں کمی آئے گی، لوگوں کی صحت بہتر ہو گی اور کاروبار ترقی کریں گے۔

کاپ 29 کے بارے میں یو این خبرنامہ کی خصوصی کوریج یہاں ملاحظہ کریں۔