انسانی کہانیاں عالمی تناظر

شعبہ صحت پر سائبر حملوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، ڈبلیو ایچ او چیف

سائبر حملوں کا کم از کم نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس سے نظام میں خلل آتا ہے اور بے جا مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔
Unsplash/Markus Spiske
سائبر حملوں کا کم از کم نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس سے نظام میں خلل آتا ہے اور بے جا مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔

شعبہ صحت پر سائبر حملوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، ڈبلیو ایچ او چیف

امن اور سلامتی

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے خبردار کیا ہے کہ طبی نظام اور مریضوں کے تحفظ کو سائبر حملوں سے شدید خطرات لاحق ہیں جن پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔

اس خطرے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ تاوان کے لیے کیے جانے والے سائبر حملوں سے ہسپتالوں اور طبی خدمات کو شدید نقصان ہو رہا ہے جس سے نمٹنے کے لیے اجتماعی عالمگیر اقدام ناگزیر ہے۔ یہ محض طبی سہولیات کی سلامتی اور مریضوں کی معلومات کا اخفا یقینی بنانے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ لوگوں کی زندگی و موت کا معاملہ بھی ہے۔

طبی نظام کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات پر قابو پانے کی حکمت عملی پر غورخوض کے لیے سلامتی کونسل کا یہ اجلاس فرانس، جاپان، مالٹا، جمہوریہ کوریا، سلووینیہ، برطانیہ اور امریکہ نے بلایا تھا۔

اربوں ڈالر تاوان

2021 میں لیے گئے ایک عالمگیر جائزے میں معلومات فراہم کرنے والے ایک تہائی سے زیادہ طبی اداروں نے بتایا کہ ایک سال کے عرصہ میں ان کے نظام پر تاوان کے لیے کم از کم ایک سائبر حملہ ہو چکا ہے اور ان میں ایک تہائی نے بتایا کہ انہوں نے یہ تاوان ادا بھی کیا۔

ایسے حملوں میں ہیکر کسی ادارے کے کمپیوٹروں تک رسائی حاصل کر کے انہیں اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں اور رسائی واپس کرنے کے لیے رقم کا مطالبہ کرتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں ناصرف ایسے حملوں کی تعداد بڑھ گئی ہے بلکہ جرائم پیشہ عناصر اب مزید جدید تکنیک سے کام لینے لگے ہیں جس کا توڑ آسان نہیں ہوتا۔ دنیا بھر میں ایسے حملوں پر تاوان کے لیے اربوں ڈالر کی ادائیگی کی جاتی ہے۔

ڈائریکٹر جنرل نے کونسل کو بتایا کہ بہت سے واقعات میں تاوان ادا کرنے کے باوجود چرائی گئی معلومات یا نظام کا قبضہ واپس دینے کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے بتایا کہ طبی نظام کو ڈیجیٹل بنائے جانے اور طبی معلومات کی غیرمعمولی اہمیت کے باعث یہ شعبہ سائبر جرائم کرنے والوں کا ایک اہم ترین ہدف بن گیا ہے۔
UN Photo/Eskinder Debebe
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے بتایا کہ طبی نظام کو ڈیجیٹل بنائے جانے اور طبی معلومات کی غیرمعمولی اہمیت کے باعث یہ شعبہ سائبر جرائم کرنے والوں کا ایک اہم ترین ہدف بن گیا ہے۔

زندگی کے لیے خطرہ

ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ سائبر حملوں کا کم از کم نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس سے نظام میں خلل آتا ہے اور بے جا مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ لوگوں کا نظام پر اعتماد ختم ہو جاتا ہے اور ناصرف انہیں نقصان پہنچتا ہے بلکہ ان کی زندگی بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ طبی نظام کو ڈیجیٹل بنائے جانے اور طبی معلومات کی غیرمعمولی اہمیت کے باعث یہ شعبہ سائبر جرائم کرنے والوں کا ایک اہم ترین ہدف بن گیا ہے۔

2020 میں چیک ریپبلک کے برونو یونیورسٹی ہسپتال کو تاوان کے لیے ایک بڑے سائبر حملے کا سامنا کرنا پڑا اور مئی 2021 میں آئرش ہیلتھ سروس ایگزیکٹو (ایچ ایس ای) کی اہم معلومات تاوان کی خاطر چرا لی گئیں۔

سائبر حملے محض ہسپتالوں پر ہی نہیں ہو رہے بلکہ اس سے وسیع تر 'بائیو میڈیکل سپلائی چین' کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کووڈ۔19 وبا کے دوران اس بیماری کی ویکسین تیار کرنے والی کمپنیاں، ویکسین کے تجربات کے لیے سافٹ وئیر بنانے والے ادارے اور لیبارٹریاں ان حملوں کی زد میں رہیں۔

اقوام متحدہ کے اقدامات

'ڈبلیو ایچ او' اور اقوام متحدہ کے دیگر ادارے اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے رکن ممالک کو مدد فراہم کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں انہیں تکنیکی معاونت کے ساتھ طبی ڈھانچے کو حملوں سے بچانے کے لیے رہنمائی بھی مہیا کی جا رہی ہے۔

جنوری میں 'ڈبلیو ایچ او' نے انٹرپول اور انسداد منشیات و جرائم کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این او ڈی سی) کے تعاون سے سائبر تحفظ اور غلط معلومات کے ابطال سے متعلق دو اہم رپورٹیں شائع کی تھیں۔

ڈائریکٹر جنرل نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے جامع طریقہ کار وضع کرنے کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے ممالک پر زور دیا کہ وہ سائبر حملوں کی نشاندہی اور ان کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کے ساتھ عملے کی تربیت کے لیے بھی کام کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ سائبر تحفظ کے سلسلے میں انسان ہی سب سے کمزور اور سب سے طاقتور کڑی ہوتے ہیں۔ انسان ہی سائبر حملے کرتے ہیں اور انہیں روکنا بھی انسان ہی کا کام ہے۔