عالمی شہر کاری فورم: جنگ زدہ علاقوں میں بحالی کی کوششوں پر زور
مصر میں جاری 'عالمی شہری فورم' میں جنگ زدہ گنجان آباد علاقوں میں لوگوں کو تحفظ، رہائش اور بنیادی خدمات کی فراہمی اور تباہ شدہ شہری ڈھانچے کی بحالی کے لیے منظم کوششوں پر زور دیا گیا ہے۔
فورم کے چوتھے روز شرکا نے اس موضوع پر تبادلہ خیال کیا کہ جب کسی گنجان آباد شہر میں لوگوں اور بنیادی ڈھانچے کو جنگ کے باعث تباہی کا سامنا ہو تو انہیں تحفظ کی ضمانت کیسے دی جا سکتی ہے۔اس موقع پر غزہ کے حالات خاص طور پر زیربحث آئے جہاں ایک سال سے جاری جنگ کے باعث شہری زندگی تباہ ہو چکی ہے اور جنگ کے شعلے لبنان، مغربی کنارے اور شام کو بھی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔
فورم کے شرکا نے مسئلے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور اس سے نمٹنے کے لیے مقامی سطح پر اٹھائے جانے والے ممکنہ اقدامات پر بات کی۔
اقوام متحدہ کے ادارے 'یو این ہیبیٹیٹ' کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینا کلاڈیا روسبیخ نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعمیر اور تعمیر نو کی بات صرف گھروں کے تناظر میں نہیں ہوتی بلکہ اس کا تعلق سماجی تعاون اور ممکنہ مستقبل کے حوالے سے لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنے سے ہوتا ہے۔
بحالی کی حکمت عملی
اس موقع پر فلسطینی ریاست میں مقامی حکومتوں کے وزیر سمیع حجاوی نے یو این نیوز کو بتایا کہ تعمیر نو مشترکہ کوششوں کی بدولت اور منظم طور سے ہی ممکن ہے تاکہ سابقہ تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے اور ماضی کی غلطیاں دہرائی نہ جائیں۔
لوگوں کے لیے پناہ گاہیں تعمیر کرنے اور تباہ شدہ شہری ڈھانچے کی بحالی میں یہ مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ جہاں تک ممکن ہو لوگوں کو ان کے آبائی علاقوں کے قریب بسایا جائے۔ غزہ میں مشکل حالات کے باوجود دستیاب وسائل میں ترقی اور بحالی کی کوششیں جاری ہیں۔
ترقیاتی تصورات کی ضرورت
فورم کے شرکا نے دیگر شہری بحرانوں میں ایسے مسائل کو حل کرنے کے حوالے سے اپنے تصورات اور تجربات کا تبادلہ بھی کیا۔
صومالیہ کی وزارت منصوبہ بندی میں غربت کے خاتمے اور شہری مسائل کے پائیدار حل کے شعبے کی ڈائریکٹر زہرا عابدی محمد نے یو این نیوز کو بتایا کہ ان کے ملک میں سیمانٹک نامی منصوبے کے ذریعے گھروں، زمین اور املاک کے مسائل کو روزگار اور سماجی خدمات تک رسائی سے جوڑا گیا ہے۔ حکومت یہ یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے کہ اندرون ملک بے گھر ہونے والوں کو دی جانے والی مدد کلی اور مربوط ہو۔
انہوں نےکہا کہ جنگ زدہ اور بے گھر آبادیوں اور نقل مکانی کے بعد واپس آنے والوں کی مدد کے لیے امدادی کے بجائے ترقیاتی تصورات سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ بحرانوں کے بعد اپنے دوبارہ اپنے علاقوں کی جانب مراجعت کرنے والے لوگوں کی مدد کے لیے دیہی علاقوں کو ترقی یافتہ بنایا جانا چاہیے۔
شہری ڈھانچے کی تباہی کا بحران
یوکرین سے تعلق رکھنے والی ماہر تعمیرات جینیا گوبکینا نے یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنگی حالات میں ایسے اقدامات اٹھانا بہت ضروری ہے جن کی بدولت گھروں کی تباہی کو پیشگی روکا جا سکے۔
یوکرین کو ناصرف تعمیرنو کے حوالے سے بہت بڑے بحران کا سامنا ہے بلکہ اسے نئی طرز کی تعمیرنو بھی درکار ہے۔ لیکن اس سے بھی اہم مسئلہ تباہی کو روکنا ہے۔
جنگی حالات میں فریقین پر واضح ہونا چاہیے کہ گھروں کو تباہ نہیں کیا جائے گا کیونکہ بحال شدہ گھر دوبارہ بھی تباہ ہو سکتے ہیں۔
شہری مسئلہ
دنیا بھر میں 11 کروڑ 70 لاکھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنے آبائی علاقوں سے نقل مکانی کی ہے اور شہر ناصرف انہیں پناہ دیتے ہیں بلکہ اس بحران کا بنیادی سبب بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہری بحران سے نمٹنے کے اقدامات پر فوری نظرثانی کی ضرورت ہے۔
اس تناظر میں یورپ اور وسطی ایشیا میں پائیدار ترقی کے لیے عالمی بینک کے ڈائریکٹر سمیع وہبہ نے یو این نیوز کو بتایا کہ بے گھری یا نقل مکانی ایک شہری مسئلہ ہے کیونکہ قدرتی آفات اور جنگوں سے بچنے کے لیے اپنا گھر بار چھوڑنے والے بیشتر لوگ شہروں میں پناہ لیتے ہیں۔ چنانچہ پناہ گزینوں، اندرون ملک بے گھر ہونے والے لوگوں اور ان کی میزبانی کرنے والی آبادیوں کو اس مسئلےکے مربوط حل مہیا کرنا ہوں گے۔
فورم کا آخری روز
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں 4 نومبر سے شروع ہونے والا یہ فورم 8 نومبر تک جاری رہے گا۔ یہ شہروں کی جانب تیز تر نقل مکانی اور لوگوں، معیشتوں، موسمیاتی تبدیلی اور پالیسیوں پر اس کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ہر دو سال کے بعد ہونے والا اہم ترین اجتماع ہے۔
کل اس فورم کی اختتامی دستاویز جاری کی جائے گی جس میں تمام تر بات چیت سے سامنے آنے والے اہم پیغامات شامل ہوں گے۔
فورم کی اختتامی تقریب میں یو این ہیبیٹیٹ اور مصر کی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں سمیت متعدد مقررین پائیدار شہرکاری پر خطاب کریں گے اور آئندہ فورم کی میزبانی آزربائیجان کے دارالحکومت باکو کو سونپی جائے گی۔