تباہ کن موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کی ہنگامی ضرورت
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یونیپ) نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی دنیا کے ماحول، لوگوں کی زندگی اور روزگار پر تباہ کن اثرات مرتب کر رہی ہے۔ ممالک کو اس سے مطابقت اختیار کرنے کے لیے بہرصورت ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے۔
یونیپ نے یہ انتباہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مطابقت اختیار کرنے سے متعلق رواں سال کی رپورٹ میں جاری کیا ہے۔
ادارے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن کا کہنا ہے کہ غیرمحفوظ اور غریب لوگ پہلے ہی موسمی شدت کے واقعات اور قدرتی آفات کے ذریعے اس تبدیلی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ تباہ کن طوفانوں میں گھر تباہ ہو رہے ہیں، جنگلات آگ کی لپیٹ میں آ کر ختم ہو رہے ہیں جبکہ زمینی انحطاط اور خشک سالی کے باعث زراعت کو نقصان ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ لوگوں، ان کے روزگار اور فطری ماحول کو موسمیاتی تبدیلی سے حقیقی خطرات لاحق ہیں۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو رواں صدی کے آخر تک کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافہ قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں 2.6 تا 3.1 ڈگری سیلسیئس تک پہنچ جائے گا۔
11 نومبر سے آزربائیجان کے دارالحکومت باکو میں شروع ہونے والی اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس (کاپ 29) میں دنیا بھر سے آنے والے مندوبین اقوام متحدہ کے حکام، سول سوسائٹی اور دیگر اہم شعبوں کے نمائندوں کے ساتھ مل کر اس معاملے میں اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیں گے اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بہترین طریقہ ہائے کار پر بات چیت کریں گے۔
نیا مشترکہ ہدف
رپورٹ میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مطابقت پیدا کرنے کےلیے درکار مالی وسائل کی کمی کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ اس مقصد کے لیے 2022 میں ترقی پذیر ممالک کو 28 ارب ڈالر فراہم کیے گئے تھے لیکن یہ وسائل ضرورت کے مقابلے میں بہت کم ہیں اور اس مقصد کے لیے 187 تا 359 ارب ڈالر درکار ہیں۔
یونیپ نے کاپ 29 میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی غرض سے مالی وسائل کی فراہمی کے لیے نیا اجتماعی ہدف طے کرنے اور آئندہ سال برازیل کے شہر بیلم میں ہونے والی کاپ 30 سے قبل نئے وعدوں میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مطابقت پیدا کرنے کے موثر اقدامات کو شامل کرنے پر زور دیا ہے۔
طویل مدتی موسمیاتی استحکام
رپورٹ میں ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ ناصرف کاپ 29 بلکہ اس کے بعد بھی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر قابو پانے کے حوالے سے ٹھوس وعدے کریں جس میں مالی وسائل کی فراہمی بڑھانے کے علاوہ مختصر مدتی اور منصوبوں کی بنیاد پر اقدامات سے آگے بڑھ کر سٹریٹیجک اور واضح نتائج دینے والی سرمایہ کاری بھی شامل ہو۔ اس سے خاص طور پر موسمیاتی تبدیلی سے بری طرح متاثرہ علاقوں اور لوگوں کو طویل مدتی طور پر مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
یونیپ نے کہا ہے کہ مالی وسائل اور ان کی فراہمی کی سہولیات، موسمیاتی مالیاتی منصوبہ بندی، موسمیاتی میزانیے اور مطابقتی اقدامات پر سرمایہ کاری جیسے اقدامات سے اس معاملے میں سرکاری اور نجی سطح پر مالی وسائل کا حصول آسان بنایا جا سکتا ہے۔
اختراعی اقدامات کی ضرورت
رپورٹ میں مالی وسائل کو بڑھانے اور نئے مالیاتی طریقہ ہائے کار کو مدد دینے میں کثیرفریقی ترقیاتی بینکوں کے کردار کو بھی واضح کیا گیا ہے۔
یونیپ نے نجی شعبے کے حوالے سے مالی خدشات میں کمی لانے کے طریقہ ہائے کار کی حمایت کی ہے تاکہ مطابقتی اقدامات کے لیے مزید سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے محض مالی وسائل کی فراہمی ہی کافی نہیں بلکہ ممالک میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیتوں میں اضافہ اور وہاں ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی درکار ہے۔