انسانی کہانیاں عالمی تناظر

خواتین کے لیے محفوظ شہر سب کے لیے محفوظ، عالمی شہر کاری فورم

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ورلڈ اربن فورم کے دوران خواتین کی گول میز کانفرنس کے شرکاء۔
UN News/Khaled Mohamed
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ورلڈ اربن فورم کے دوران خواتین کی گول میز کانفرنس کے شرکاء۔

خواتین کے لیے محفوظ شہر سب کے لیے محفوظ، عالمی شہر کاری فورم

پائیدار ترقی کے اہداف

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں جاری عالمی شہر کاری فورم کے شرکا نے شہری منصوبہ بندی میں خواتین اور لڑکیوں کی بامعنی شمولیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کے لیے محفوظ شہر سبھی کے لیے محفوظ ہوتے ہیں۔

اس فورم کا آغاز 4 نومبر کو ہوا تھا اور یہ 8 نومبر تک جاری رہے گا جس میں دنیا بھر سے حکومتی رہنماؤں، شہری منتظمین، حقوق کے کارکنوں، نوجوانوں اور دیگر لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔ آج فورم کے شرکا نے پائیدار شہروں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی، شہری ماحول اور اس میں رہائش کو بہتر اور آسان بنانے اور اس ضمن میں مقامی سطح پر خواتین کو بااختیار کرنے کے لیے شراکتیں قائم کرنے پر بات چیت کی۔   

یہ بات چیت 'بیجنگ پلیٹ فارم فار ایکشن' کے تناطر میں ہوئی جو صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کا عالمی ایجنڈا ہے۔ اس کی منظوری اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے 1995 میں دی تھی۔ فورم میں خواتین، غربت اور ماحول سمیت متعدد موضوعات پر ہونے والی بات چیت میں اس ایجنڈے کے مقاصد کو خاص طور پر مدنظر رکھا گیا۔

کوالالمپور کی میئر ڈاکٹر میمونہ محمد شریف پائیدار شہرکاری پر خصوصی نمائندہ بھی ہیں۔
UN News/Khaled Mohamed
کوالالمپور کی میئر ڈاکٹر میمونہ محمد شریف پائیدار شہرکاری پر خصوصی نمائندہ بھی ہیں۔

بہتر شہروں میں خواتین کا کردار

فورم کے موقع پر ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور کی میئر ڈاکٹر میمونہ محمد شریف نے یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے تاہم اسے موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل پر فیصلہ سازی میں بھی نمائندگی نہیں ملتی جبکہ یہ مسئلہ خواتین کو سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بہتر شہروں کے لیے مقامی سطح پر اٹھائے جانے والے اقدامات کے حوالے سے خواتین کا کردار بہت اہم ہے اور ہر سطح پر رہنماؤں کو فیصلہ سازی میں خواتین کو مخلصانہ طور سے شامل کرنا چاہیے۔ تمام لوگوں اور تمام علاقوں کو ساتھ لے کر چلنے کے مقصد کی تکمیل کے لیے کلی طریقہ کار سے کام لینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں خواتین کی شمولیت یقینی بنانے کے لیے دو چیزیں درکار ہیں جن میں ایک 'سافٹ ویئر' اور دوسری 'ہارڈ ویئر' ہے۔ سافٹ ویئر سے مراد اخلاقی مدد ہے جس سے خواتین کے لیے تعلیم، سرکاری خدمات، نوکریوں اور رہائش تک رسائی کے دراوزے کھل سکتے ہیں۔ ہارڈ ویئر سے مراد حکمرانی اور فیصلہ سازی ہے اور اس میں محض حکمت عملی ہی شامل نہیں بلکہ حقیقی پالیسی سازی بھی اس کا حصہ ہے۔

تحفظ ماحول کے لیے متحرک کینیڈا کے شہر ٹورنٹو سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ سارہ سید۔
UN News/Khaled Mohamed
تحفظ ماحول کے لیے متحرک کینیڈا کے شہر ٹورنٹو سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ سارہ سید۔

سائنسی تعلیم کی ضرورت

اس موقع پر کینیڈا کے شہر ٹورنٹو سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ سارہ سید نے بھی یو این نیوز سے بات کی اور کہا کہ اب تک اس فورم کی کارکردگی بہت اچھی رہی ہے۔

سارہ ماحولیاتی انصاف کے لیے کام کرتی ہیں جن کا کہنا تھا کہ پیش رفت کی اس رفتار کو قائم رکھتے ہوئے فورم کے اختتام پر بہتر شہروں کی تعمیر کے لیے نوجوانوں کو ساتھ چلنے کے معاملے میں ٹھوس تصورات سامنے لانا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ فورم کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے نوعمر لڑکیوں کے لیے تعلیم اور بالخصوص سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کی تعلیم پر خاص توجہ دینا ہو گی۔ نوجوان لڑکیوں اور خواتین کے نئے نجی اداروں اور کاروباروں پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے یہ یقینی بنانا ہو گا کہ ان کی پاس اپنے تصورات کے مطابق کام کرنے کے لیے خاطرخواہ مالی وسائل تک رسائی ہو۔

سارہ کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں قیادت بھی بہت اہم ہے اور خواتین کو اپنے علاقوں میں، مقامی حکومتوں کی سطح پر اور شہری منصوبہ بندی کی کونسلوں میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔ خواتین کے پاس قیادت کی صلاحیت موجود ہے۔