انسانی کہانیاں عالمی تناظر

بیماریاں پھیلانے والے 17 جرثموں کے خلاف ویکسین کی تیاری پر توجہ کی ضرورت

نائجیریا کے ایک ٹیچجنگ ہسپتال کی لیبارٹری میں جرثموں کی جانچ کی جا رہی ہے۔
© WHO/Etinosa Yvonne
نائجیریا کے ایک ٹیچجنگ ہسپتال کی لیبارٹری میں جرثموں کی جانچ کی جا رہی ہے۔

بیماریاں پھیلانے والے 17 جرثموں کے خلاف ویکسین کی تیاری پر توجہ کی ضرورت

صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے تواتر سے خطرناک بیماریاں پھیلانے والے 17 اقسام کے ایسے بیکٹیریا، وائرس اور طفیلیوں کی نشاندہی کی ہے جن کے خلاف ترجیحی بنیادوں پر ویکسین تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

ادارے کی جانب سے اپنی نوعیت کی ایک پہلی تحقیق میں مختلف علاقوں اور دنیا بھر میں لوگوں کی صحت و زندگی کو نقصان پہنچانے والے ان جرثوموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ اس جائزے سے تصدیق ہوتی ہے کہ ایچ آئی وی، ملیریا اور تپ دق سمیت کئی بیماریوں کے خلاف نئی ویکسین تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ تینوں بیماریاں ہر سال دنیا بھر میں 25 لاکھ اموات کا باعث بنتی ہیں۔

Tweet URL

اس جائزے میں گروپ اے سٹریپٹوکوکس جیسے جرثوموں کا بھی بطور خاص تذکرہ شامل ہے جو کئی طرح کی انفیکشن کا باعث بنتے ہیں۔ بالخصوص کم آمدنی والے ممالک میں جوڑوں، پٹھوں اور ہڈیوں کے درد سے جنم لینے والی دل کی بیماری سے ہونے والی 280,000 اموات میں بھی ان کا اہم کردار ہوتا ہے۔

جن بیماریوں کے خلاف ترجیحی بنیادوں پر ویکسین بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان میں کلیبسیلا نمونیہ بھی شامل ہے۔ 2019 میں کم آمدنی والے ممالک میں نومولود بچوں کی خون کے انفیکشن سے ہونے والی 790,000 اموات اسی بیکٹیریا کے باعث ہوئیں۔

ویکسین تک مساوی رسائی

ویکسین کی تیاری پر کام کرنے والے 'ڈبلیو ایچ او' کے ڈاکٹر ماتیوز ہیسو اگوپسویز نے کہا ہے کہ اس تحقیق میں یہ یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے کہ ہر جگہ ہر فرد کو خطرناک بیماریوں کے خلاف تحفظ دینے والی ویکسین تک رسائی ہونی چاہیے۔ اسی طرح، ویکسین کو تجارتی فائدے کے بجائے عالمگیر طبی ضروریات کے لیے تیار کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ، ماضی میں آر اینڈ ڈی ویکسین عموماً منافع کمانے کے لیے بنائی جاتی تھی۔ نتیجتاً کم آمدنی والےعلاقوں میں لوگوں کو بری طرح متاثر کرنے والی بیماریوں کو نظرانداز کر دیا جاتا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس جائزے کی بدولت ویکسین پر تحقیق اور اس کی تیاری کا رخ محض تجارتی فائدہ حاصل کرنے کے بجائے ہر جگہ بلاامتیاز لوگوں کو بیماریوں سے تحفظ دینے کی جانب موڑا جا سکےگا۔

ماہرین سے مشاورت

اس جائزے کے دوران 'ڈبلیو ایچ او' نے ویکسین کے عالمی اور علاقائی ماہرین سے پوچھا کہ وہ آر اینڈ ڈی ویکسین کی تیاری کے حوالے سے جرثوموں پر قابو پانے میں کون سی بات کو اہم سمجھتے ہیں۔ اس ضمن میں انہیں اموات، بیماری اور اس کے سماجی معاشی اثرات یا جراثیمی مزاحمت میں سے چناؤ کرنے کو کہا گیا۔

ڈاکٹر اگوپسویز نے بتایا کہ اس سلسلے میں 'ڈبلیو ایچ او' کے تمام انتظامی خطوں میں جرثوموں کی وبائیت کے ماہرین، معالجین، ماہر امراض بچگان اور ویکسین پر تحقیق اور اس کی تیاری میں مہارت رکھنے والوں سے بات کی گئی۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ سوالات کے جواب دنیا بھر میں متنوع آبادی کی ضروریات کی عکاسی کرتے ہوں۔

اپنے شعبوں کے ان ماہرین سے حاصل کردہ جوابات کا ہر جرثومے سے متعلق علاقائی معلومات سے موازنہ کرتے ہوئے 'ڈبلیو ایچ او' کے تمام چھ خطوں سے ترجیحی توجہ کے حامل 10 جرثوموں کی نشاندہی کی گئی۔

'ڈبلیو ایچ او' نے آر اینڈ ڈی ویکسین کو ترقی دینے کے لیے ہر جرثومے کے خلاف ویکسین کی تیاری اور موثر ویکسین بنانے کی راہ میں حائل تکنیکی مسائل کو بھی مدنظر رکھا ہے۔

ڈاکٹر اگوپسویز نے کہا ہے کہ متوقع طور پر یہ تحقیق مستقبل میں ناصرف آر اینڈ ڈی ویکسین کی تیاری کے لیے سرمایہ کاری کے حوالے سے رہنمائی مہیا کرے گی بلکہ اس سے پالیسی سازوں کو حفاظتی ٹیکوں کے پروگراموں میں ان ویکسین کی شمولیت کے بارے میں فیصلہ کرنے میں بھی مدد ملے گی۔