شہروں میں رہنے والوں کو 2040 تک درجہ حرارت میں 0.5 ڈگری اضافہ کا سامنا ہوگا
دنیا کی دو ارب سے زیادہ آبادی ایسے شہروں میں رہتی ہے جہاں 2040 تک درجہ حرارت میں 0.5 ڈگری سیلسیئس تک اضافہ ہو سکتا ہے اور اس کا نتیجہ تباہ کن موسمی آفات کی صورت میں سامنے آئے گا۔
اقوام متحدہ کے ادارے یو این ہیبیٹیٹ کی شائع کردہ ایک نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہروں کو موسمی شدت کے اثرات جھیلنے کے قابل بنانے کے لیے ہر سال 4.5 تا 5.4 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے تاہم فی الوقت اس مقصد کے لیے صرف 831 ارب ڈالر ہی دستیاب ہیں اور یہ رقم ضرورت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
یو این ہیبیٹیٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینا کلاڈیا روسبیخ نے کہا ہے کہ اس مقصد کے لیے مطلوبہ مالی وسائل مہیا نہ ہوئے تو بڑھتی حدت سے شہروں کی غریب آبادی کی صحت و زندگی کو لاحق خطرات بھی بڑھ جائیں گے اور اس مسئلے سے کوئی بھی فرد محفوظ نہیں رہے گا۔
غریب آبادی کا تحفظ
روسبیخ کا کہنا ہے کہ اگرچہ شہروں کو موسمیاتی مسائل سے لاحق خطرات کے مقابل تحفظ دینے کے اقدامات ناکافی ہیں تاہم اس مسئلے سے جو لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوں گے وہ پہلے ہی شدید عدم مساوات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ماحولیاتی اعتبار سے حساس علاقوں میں واقع غیررسمی آبادیاں اور کچی بستیاں موسمیاتی آفات یا موسمی شدت کے واقعات سے بری طرح متاثر ہوتی ہیں جہاں لوگوں کو تحفظ دینے کا ڈھانچہ موجود نہیں ہوتا۔
قدرتی آفات کے دوران ان لوگوں کو مدد ملنے کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔ اسی لیے کچی بستیوں اور غیررسمی آبادیوں کی حالت میں تبدیلی لانا اور شہروں میں غریب لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنا ترجیح ہونی چاہیے۔
سرسبز شہری رقبے میں کمی
ترقی کے عمل کو خاطرخواہ حد تک ذمہ دارانہ بنانے میں ناکامی کے باعث دنیا بھر کے بیشتر شہری علاقوں میں سرسبز رقبہ کم ہو گیا ہے۔ 1990 میں شہروں کا اوسط مجموعی سرسبز رقبہ 19.5 فیصد تھا جو 2020 میں کم ہو کر 13.9 فیصد رہ گیا۔
اس سے بھی زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر قابو پانے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات یا تو غریب لوگوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہیں یا ان کے باعث ایسے طبقات کی حالت اور بھی خراب ہو گئی ہے۔
مثال کے طور پر بہت سی ممالک میں شہروں کے ماحول میں بہتری لانے کے لیے بڑے رقبے پر پارک بنائے جانے سے یا تو غریب بستیوں کو ختم کر دیا گیا یا زمین کی قیمتیں اس قدر بڑھ گئیں کہ کم آمدنی والے لوگوں کے لیے گھر بنانا ہی ممکن نہیں رہا۔
سرمایہ کاری اور منصوبہ بندی
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کا سامنا کرتے شہروں کو درپیش پیچیدہ مشکلات کے باوجود ان میں اس مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے شہروں سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لائی جا سکتی ہے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے ہم آہنگی پیدا کی جا سکتی ہے اور شہری آبادیوں کو پائیدار مدد فراہم کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہےکہ دنیا بھر میں سیکڑوں شہروں کے سرسبز رقبے کو بڑھایا گیا ہے، موثر منصوبہ بندی کے ذریعے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لائی گئی ہے نقل و حمل جیسی خدمات کو قابل تجدید توانائی مہیا کرنے کے لیے سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ ایسے اقدامات سے شہروں کے ماحول اور ان کے باسیوں کی حالت میں نمایاں تبدیلی آئی ہے جو دیگر شہروں کے لیے قابل تقلید مثال ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں ممالک پر اس معاملے میں پُرعزم اقدامات کے لیے زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انہیں خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے، آبادیوں کو ترقی دینے، غربت میں کمی لانے اور صحت عامہ کا معیار بلند کرنے جیسے وسیع تر ترقیاتی اہداف کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات سے ہم آہنگ کرنا ہو گا۔