انسانی کہانیاں عالمی تناظر

امن کاری میں خواتین کی شمولیت بڑھانے کی ضرورت، ژاں پیئر لاکوا

اقوام متحدہ میں ادارہ قیام امن کے انڈر سیکرٹری جنرل ژاں پیئر لاکوا اوراقوام متحدہ کے مشیر برائے پولیس فیصل شاہکار پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کر رہے ہیں۔
UNIC Pakistan/Umair Khaliq
اقوام متحدہ میں ادارہ قیام امن کے انڈر سیکرٹری جنرل ژاں پیئر لاکوا اوراقوام متحدہ کے مشیر برائے پولیس فیصل شاہکار پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کر رہے ہیں۔

امن کاری میں خواتین کی شمولیت بڑھانے کی ضرورت، ژاں پیئر لاکوا

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ میں ادارہ قیام امن کے انڈر سیکرٹری جنرل ژاں پیئر لاکوا نے کہا ہے کہ امن کاری میں خواتین کی نمائندگی مزید بڑھانے کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں پاکستان نے اقوام متحدہ کے اہداف کی تکمیل کرتے ہوئے اچھے نتائج دیے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ امن مشن میں خواتین کی تعداد جس قدر زیادہ ہو اس کے کام کا ماحول اتنا ہی بہتر ہوتا ہے، اس پر مقامی لوگوں کا اعتماد بڑھتا ہے اور اچھے نتائج حاصل ہوتے ہیں۔

انہوں نے یہ بات پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں قیام امن کے لیے تربیتی مراکز کی بین الاقوامی تنظیم (آئی اے پی ٹی سی) کی 28 ویں سالانہ کانفرنس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔اس کانفرنس کا مقصد امن کاری کو ابھرتے ہوئے مسائل کے مطابق ڈھالنے کے لیے تربیتی حکمت عملی پر غوروخوض کرنا تھا۔

ژاں پیئر لاکوا اسلام آباد میں یو این موگپ کے ہیڈکوارٹر میں ایک بریفنگ میں شریک ہیں۔
UNMOGIP/Karin Freudenthal
ژاں پیئر لاکوا اسلام آباد میں یو این موگپ کے ہیڈکوارٹر میں ایک بریفنگ میں شریک ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہدف کی تکمیل

انڈر سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اقوام متحدہ امن کارروائیوں کے لیے خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک پر انحصار کرتا ہے جو اس مقصد کے لیے اپنے اثاثے، صلاحیتیں اور تربیت مہیا کرنے پر رضامند ہوتے ہیں۔ اب تک 230,000 سے زیادہ پاکستانی مردوخواتین امن کاروں کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔ ان میں 181 نے دنیا بھر میں امن قائم کرنے کے لیے اپنی جانیں دی ہیں۔

پاکستان کا شمار ان پہلے ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے امن فوج کے لیے مہیا کردہ اہلکاروں میں 15 فیصد خواتین کی شمولیت کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ہدف کی تکمیل کی ہے۔ پاکستان کی خواتین قیام امن کے لیے بہت پرعزم اور محنتی ہیں۔ امن مشن میں شامل پاکستان کے فوجی دستوں میں خواتین کی نمایاں تعداد کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ملک خواتین کو امن کاری میں بھرپور کردار دینے کا عزم رکھتا ہے۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والی امن دستوں کی خواتین ارکان سوڈان میں شمالی ڈارفر کے علاقے میں مقامی آبادی کے ساتھ بات چیت کر رہی ہیں۔
UNAMID
پاکستان سے تعلق رکھنے والی امن دستوں کی خواتین ارکان سوڈان میں شمالی ڈارفر کے علاقے میں مقامی آبادی کے ساتھ بات چیت کر رہی ہیں۔

خواتین کے قائدانہ کردار کی ضرورت

انڈر سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اقوام متحدہ کی امن کارروائیوں کے کئی پہلو ہیں اور ان تمام میں خواتین کو بھرپور نمائندگی دینا بہت ضروری ہے۔ خواتین امن کار جہاڑ اڑاتی ہیں، بلڈوزر چلاتی ہیں، نرسوں کی حیثیت سے کام کرتی ہیں اور دیگر بہت سے فرائض نبھاتی ہیں۔ تاہم اس کے باوجود خواتین کے حوالے سے کئی طرح کے مسائل موجود ہیں، جیسا کہ، امن فوج کی اعلیٰ سطحی کمان میں خواتین افسروں کی تعداد کم ہے حالانکہ پولیس میں وہ اعلیٰ عہدوں پر بہت اچھا کام کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امن کاری کے ماحول کو خواتین کے لیے دوستانہ بنانا ضروری ہے جس کے لیے انہیں مناسب سہولیات اور ماحول فراہم کرنا ہوتا ہے۔

اس موقع پر اقوام متحدہ کے مشیر برائے پولیس فیصل شاہکار نے کہا کہ اقوام متحدہ کی پولیس خواتین کو بھرپور قائدانہ کردار مہیا کر رہی ہے۔ اس کا اندازہ یوں بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ادارے میں پولیس کے نصف سے زیادہ یونٹوں کی قیادت دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی خواتین کے ہاتھ میں ہے۔

ژاں پیئر لاکوا اسلام آباد میں یو این موگپ کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کر رہے ہیں۔
UNMOGIP/Karin Freudenthal
ژاں پیئر لاکوا اسلام آباد میں یو این موگپ کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کر رہے ہیں۔

پاکستان اور امن مشن

پاکستان دنیا کے قدیم ترین امن مشن کا میزبان بھی ہے۔ 'انڈیا اور پاکستان میں اقوام متحدہ کا عسکری مشاہدہ کار گروپ'  (یو این موگپ) نامی یہ مشن سلامتی کونسل نے 1949 میں قائم کیا تھا جو دونوں ممالک کے مابین کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی نگرانی کرتا ہے۔

اس کے علاوہ 1960 سے پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشن میں سب سے زیادہ فوجی اور پولیس اہلکار بھیجنے والے ممالک میں شامل رہا ہے۔

26 اکتوبر کو دارالحکومت اسلام آباد میں یوم اقوام متحدہ کے موقع پر منعقدہ عوامی تقریب میں پاکستان کے امن کاروں نے ایک سٹال بھی قائم کیا تھا۔