انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پاکستان: سندھ میں اساتذہ کی حاضری میں بائیومیٹرکس کا استعمال

ایک کلاس روم میں خواتین طالبات، سفید اسکارف اور نیلی یونیفارم پہنے، اپنی میزوں پر کتابیں پڑھ رہی ہیں۔
IRIN/Sumaira Jajja پروگرام کے تحت تدریسی طریقہ ہائے کار کو جدید بنانے اور اساتذہ کی متواتر پیشہ وارانہ ترقی پر خاص توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

پاکستان: سندھ میں اساتذہ کی حاضری میں بائیومیٹرکس کا استعمال

ثقافت اور تعلیم

پاکستان کے صوبہ سندھ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) اور یورپی یونین کے تعاون سے چلائے جانے والے تعلیمی پروگرام کی بدولت سکولوں کے انتظام اور تدریسی عمل کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے جس سے 55 ہزار سے زیادہ بچوں کو فائدہ پہنچا۔

'سندھ میں افزودہ تعلیمی پروگرام کے ذریعے ترقی کے لیے تکنیکی معاونت (ایس ٹی اے۔ڈیپ) کی بدولت سکولوں کی نگرانی کا موثر نظام متعارف کرایا گیا۔ اس میں اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے کے لیے پورٹیبل بائیو میٹرک ڈیوائس کا استعمال اور نگرانی کا جامع ڈیجیٹل نظام بھی شامل ہے جو 40 ہزار سے زیادہ سکولوں کے بارے میں جملہ معلومات بشمول طلبہ کی حاضری کا ریکارڈ رکھتا ہے۔

اس سے اساتذہ کو جوابدہ بنانے اور تعلیمی وسائل کے مجموعی انتظام میں بہتری لانے میں مدد ملی اور اس کا بالواسطہ نتیجہ طلبہ کے بہتر تعلیمی نتائج کی صورت میں برآمد ہوا۔

اس پروگرام کے تحت تدریسی طریقہ ہائے کار کو جدید بنانے اور اساتذہ کی متواتر پیشہ وارانہ ترقی پر خاص توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ ہر گروپ میں شامل سکول جدید تدریسی حکمت عملی سے کام لیتے ہیں۔ اس سے طلبہ کو سیکھنے میں مدد ملتی ہے، ان میں تحریک پیدا ہوتی ہے اور پڑھائی کے ماحول کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

پاکستان کے ایک آؤٹ ڈور سکول میں ایک لڑکی پھولوں کے اسکارف پہنے ایک کتاب سے اردو عبارت پڑھ رہی ہے۔
Amima Sayeed/UNESCO

تعلیمی شعبے میں استحکام

اس پروگرام کے تحت سندھ کے 14 اضلاع میں واقع 400 سکولوں کو 20 گروپ میں تقسیم کیا گیا اور اساتذہ کے لیے پیشہ وارانہ تربیتوں کے لیے جدید طریقہ ہائے کار متعارف کرائے گئے تاکہ تعلیمی ادارے طلبہ کی ضروریات کے حوالے سے مزید مساوی اور موثر کردار ادا کر سکیں۔

پاکستان میں یونیسف کے نمائندے عبداللہ فاضل کا کہنا ہے کہ اس تجرباتی پروگرام نے متاثر کن نتائج دیے ہیں اور اس کی بدولت سکولوں کے نظام کو غیرمرتکز بنانے کے لیے اختراعی نمونہ سامنے آیا ہے جس کے تحت پالیسی کے حوالے سے اصلاحات لا کر تعلیمی شعبے میں اختیارات کو صوبے سے ضلعی سطح پر منتقل کیا گیا ہے۔

انہوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ یہ پروگرام سندھ بھر کے سکولوں میں اصلاحات لانے کی راہ ہموار کرے گا اور طویل مدتی تعلیمی استحکام میں مددگار ہو گا۔

صوبہ سندھ میں سکولوں کی تعلیم اور خواندگی کے محکمے کے سیکرٹری زاہد علی عباسی نے کہا ہے کہ سکولوں کو گروہوں میں تقسیم کرنے کا نمونہ کامیاب رہا جس کی بدولت ان میں تدریسی عمل کی نگرانی اور اساتذہ سمیت انتظامی عملے کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مدد ملی۔

پاکستان میں سکول کی طالبات یونیفارم میں سڑک پر چل رہی ہیں۔
Courtesy: Lok Sujag Pakistan

کامیاب شراکت

اس تجرباتی پروگرام کی مقررہ مدت کے اختتام پر یورپی یونین میں شعبہ تعاون کے سربراہ جیروئن ولیمز نے کہا ہے اب یہ دیکھنا ہو گا کہ اس شراکت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو آگے کیسے بڑھایا جا سکتا ہے تاکہ نچلی سطح پر تعلیمی خدمات کی فراہمی مزید بہتر ہو سکے۔اس ضمن میں گزشتہ پانچ سال کے دوران حاصل ہونے والے اسباق سے ایسے مستقبل کی جانب رہنمائی لی جانی چاہیے جہاں صوبے کے ہر بچے اور بچی کو معیاری تعلیم تک رسائی ہو۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ یورپی یونین صوبہ سندھ اور پاکستان میں معیاری تعلیم کے لیے اپنی اس مدد کو جاری رکھے گی۔