سپین: حالیہ ریکارڈ بارشیں اور سیلاب موسمیاتی تبدیلی کا انتباہ
عالمی ادارہ موسمیات (ڈبلیو ایم او) نے کہا ہے کہ اس ہفتے سپین میں ریکارڈ توڑ بارشوں اور ہولناک سیلاب نے موسمیاتی تبدیلی کے خطرے اور زندگیوں کو اس سے تحفظ دینے کی ہنگامی ضرورت کو مزید واضح کر دیا ہے۔
سپین میں حالیہ سیلاب موسمی شدت اور رواں سال دنیا بھر میں آنے والی بہت سی آبی آفات کی صرف ایک مثال ہے۔ کرہ ارض پر کہیں نہ کہیں ایسی ہی تباہی کے مناظر اب تقریباً ہر ہفتے دیکھنے کو ملتے ہیں۔
ادارے کی ترجمان کلیئر نولیس نے کہا ہے کہ جب فضا گرم ہوتی ہے تو اس میں نمی بڑھ جاتی ہے۔ اس طرح حدت میں ہر درجے ہونے والا اضافہ فضا میں نمی کی مقدار کو بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں شدید بارشیں آتی ہیں اور سیلاب تباہی مچا دیتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے بچنے کے لیے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج پر قابو پا کر عالمی حدت میں اضافے کو روکنا اور دنیا بھر میں قدرتی آفات سے بروقت آگاہی کے نظام قائم کرنا بہت ضروری ہے۔
تباہی اور جانی نقصان
سپین میں آنے والے سیلاب میں 150 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ متاثرہ علاقے ویلنشیا میں بارشیں تاحال جاری ہیں۔
ملکی موسمیاتی ادارہ ہفتے بھر سے بارشوں اور سیلاب کے بارے میں متنبہ کر ہے۔ آج صوبہ ہولیوا کے جنوب مغربی علاقے میں انتہائی خطرناک سیلابی صورتحال کے بارے میں 'ریڈ الرٹ' بھی جاری کیا گیا ہے۔ نولیس کا کہنا ہے کہ تاحال خطرہ ٹلا نہیں اور سیلاب سے مزید تباہی بھی ہو سکتی ہے۔
سیلاب اور خشک سالی
ترجمان نے کہا ہے کہ رواں سال یورپ کے دیگر علاقے بھی سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ستمبر میں وسطی یورپی علاقوں میں شدید بارشوں کے مقامی و قومی ریکارڈ ٹوٹ گئے تھے۔
موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل کے مطابق، شدید موسمی واقعات کے نتیجے میں سیلاب اور خشک سالی کے ادوار تواتر سے آنے لگے ہیں اور انسانی سرگرمیوں سے جنم لینے والی موسمیاتی تبدیلی نے ان کی شدت کو بھی بڑھا دیا ہے۔
انہوں نے عالمگیر آبی وسائل پر 'ڈبلیو ایم او' کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ادارے کی سربراہ سیلیسٹ ساؤلو کی بات کو دہرایا ہے کہ بڑھتی عالمی حدت کے باعث آبی چکر کی رفتار بھی تیز ہو گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا کو پانی کی کمی یا زیادتی کے مسئلے کا سامنا ہے۔
آفات سے بروقت آگاہی کی ضرورت
کلیئر نولیس نے کہا ہے کہ عالمی برادری گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں فوری اور بڑے پیمانے پر کمی لا کر سپین جیسے حالات پر قابو پا سکتی ہے۔ ممالک کو یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ قدرتی آفات میں لوگوں کو تحفظ دینےکے لیے اس بارے میں بروقت آگاہی کا نظام ہر جگہ موجود ہو۔
'ڈبلیو ایم او' کرہ ارض کی موسمیاتی صورتحال پر اپنی تازہ ترین رپورٹ رواں مہینے کے آخر میں ہونے والی اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس (کاپ 29) میں جاری کرے گا۔ یہ کانفرنس آزربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ہو رہی ہے۔
ادارے کی رپورٹ سے گزشہ برس دنیا بھر میں پیش آنے والے موسمی شدت کے واقعات کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل ہو سکیں گی۔