انسانی کہانیاں عالمی تناظر

دنیا میں 25 کروڑ بچے سکول جانے سے محروم، یونیسکو

شام کے شمالی ادلب میں ایک عارضی کیمپ میں خیمہ والے اسکول کے باہر بیگ پہنے تین نوجوان لڑکیاں کھڑی ہیں۔
© UNICEF/Aaref Watad شام کے مہاجر کیمپوں میں مقیم ستر لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔

دنیا میں 25 کروڑ بچے سکول جانے سے محروم، یونیسکو

ثقافت اور تعلیم

اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے (یونیسکو) نے بتایا ہے کہ تعلیم کے میدان میں کئی دہائیوں سے ہونے والی ترقی اور اس کے لیے عالمی وعدوں کے باوجود 25 کروڑ سے زیادہ بچے اور نوعمر افراد سکول کی تعلیم سے محروم ہیں۔

دنیا بھر میں تعلیمی صورتحال کے بارے میں یونیسکو کی جاری کردہ نئی رپورٹ کے مطابق ہر انسان کو تعلیم یافتہ کرنے کے لیے کی جانے والی کوششیں ثمر آور ثابت نہیں ہو رہیں۔ گزشتہ 10 برس کے دوران سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد میں صرف ایک فیصد کمی ہوئی ہے۔

Tweet URL

گزشتہ نو سال میں سکول جانے والے بچوں کی تعداد میں مجموعی طور پر چار کروڑ کا اضافہ ہوا ہے لیکن یہ ترقی ہر جگہ یکساں نہیں ہے اور امیر و غریب ممالک کے مابین اس حوالے سے بہت بڑا فرق پایا جاتا ہے۔امیر ممالک ہر سال ہر بچے کی تعلیم پر اوسطاً 8,543 ڈالر صرف کرتے ہیں جبکہ متوسط درجے کی آمدنی والے ممالک میں حکومتیں فی بچہ اوسطاً 55 ڈالر خرچ کرتی ہیں۔

پیش رفت اور مسائل

رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ 2015 میں اقوام متحدہ کی جانب سے تعلیم کے حق کو پائیدار ترقی کے لیے ضروری قرار دیے جانے کے بعد سکول جانے والے بچوں کی تعداد میں ہونے والا اضافہ تسلی بخش نہیں ہے۔کم آمدنی والے ممالک میں سکول جانے کی عمر میں 33 فیصد بچے اور نوعمر افراد تعلیم سے محروم ہیں جبکہ اچھی آمدنی والے ممالک میں یہ شرح تین فیصد ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ذیلی صحارا افریقہ میں تعلیم سے محرومی کے حوالے سے مسائل بہت زیادہ ہیں۔ سکول کی تعلیم سے محروم بچوں اور نوعمر افراد کی مجموعی تعداد میں نصف کا تعلق اسی خطے سے ہے۔

یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل آدرے آزولے نے کہا ہے کہ تعلیم معاشروں کو خوشحال، مشمولہ اور پرامن بنانے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ تاہم اب بھی بہت کم بچوں اور نوجوانوں کو معیاری تعلیم تک رسائی ہے۔ اگر دنیا بھر میں سبھی کو سیکھنے اور ترقی پانے کے مساوی مواقع کی فراہمی کے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ آئندہ دہائیوں میں بھی برقرار رہے گا۔

مستقبل پر سرمایہ کاری

یونیسکو کی ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کا فقدان سکول جانے سے محروم بچوں کی تعداد میں سست رفتار کمی کا بڑا سبب ہے۔

جن ممالک پر قرضوں کا بوجھ ہے وہاں اور بھی خراب صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، افریقہ میں بہت سے ممالک ہر سال قرضوں کی واپسی پر جو رقم خرچ کرتے ہیں وہ ان کے تعلیمی بجٹ کے برابر ہے۔ ان ممالک کو تعلیمی شعبے میں دی جانے والی مدد 2019 میں 9.3 فیصد تھی جو 2022 میں کم ہو کر 7.6 فیصد رہ گئی۔

یونیسکو جی 20 ممالک کے سربراہ برازیل کے تعاون سے فروغ تعلیم کے لیےمخصوص مالیاتی طریق کار وضع کرنے کے لیے کہہ رہا ہے جس میں تعلیمی ترقی کے لیے ممالک کو قرضوں کی فراہمی بھی شامل ہے۔

برازیل کے شہر فورٹالیزا میں یونیسکو کے بین الاقوامی تعلیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میزبان وزیر تعلیم کامیلو سانتانا نے کہا ہے کہ سماجی ترقی سے متعلق برازیل کے تصور میں تعلیم میں اور اس کے ذریعے مساوات اور شمولیت کی بنیادی اہمیت ہے۔

اس اجلاس میں عالمی رہنما تعلیم کے اس عالمی بحران پر قابو پانے کے لیے ممکنہ ٹھوس اقدامات پر بات چیت کر رہے ہیں۔