انسانی کہانیاں عالمی تناظر
سال 2022 میں آنے والے سیلاب سے مجموعی طور پر 30 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا اور 80 لاکھ لوگ بے گھر ہو گئے۔

پاکستان: موسمیاتی تبدیلی سے تحفظ کے لیے سیلاب کی پیشگی اطلاع کا منصوبہ

Courtesy: Pakistan Lok Sujag
سال 2022 میں آنے والے سیلاب سے مجموعی طور پر 30 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا اور 80 لاکھ لوگ بے گھر ہو گئے۔

پاکستان: موسمیاتی تبدیلی سے تحفظ کے لیے سیلاب کی پیشگی اطلاع کا منصوبہ

رپورٹ: محمد فیصل
موسم اور ماحول

عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) پاکستان میں سیلاب کی پیشگی اطلاع دینے اور اس سے بچاؤ کے اقدامات کو بہتر بنانے کا منصوبہ شروع کر رہا ہے جس سے لوگوں کی زندگی، صحت، گھربار اور روزگار کو اس قدرتی آفت سے موثر تحفظ میسر آئے گا۔

اپنی نوعیت کے اس پہلے منصوبے کے لیے گرین کلائمیٹ فنڈ (جی سی ایف) نے پاکستان میں 'ڈبلیو ایف پی' کو 98 لاکھ ڈالر فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے جسے اس اقدام پر عملدرآمد میں پاکستان کی حکومت کا تعاون بھی حاصل رہے گا۔

اس منصوبے کے تحت سیلاب سے تحفظ کے لیے سرکاری اداروں کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے، لوگوں کو سیلاب کے بارے میں معلومات کی فراہمی اور بنیادی ڈھانچے کے طویل مدتی استحکام پر خاص توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ یہ موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے مقامی لوگوں کی صلاحیتوں میں بہتری لانے کا ایک مثالی منصوبہ ہے جس کی کامیابی کے بعد پاکستان کے دیگر علاقوں سمیت دنیا بھر میں ایسے ہی اقدامات شروع کیے جائیں گے۔

پاکستان میں 'ڈبلیو ایف پی' کی پروگرام پالیسی آفیسر حفصہ نعمان نے یو این نیوز کو بتایا کہ 'جی سی ایف' کے مہیا کردہ مالی وسائل خیبرپختونخواہ کے ضلع بونیر اور شانگلہ میں خرچ کیے جائیں گے جس سے ان علاقوں میں تقریباً 16 لاکھ لوگوں کو شدید بارشوں اور سیلاب سے تحفظ میسر آئے گا۔

موسمیاتی تبدیلی کے باعث جنوبی پنجاب اور جنوب مشرقی سندھ میں لوگوں کو بہت سے ماحولیاتی، معاشی اور سماجی مسائل کا سامنا ہے۔
Shoaib Tariq
موسمیاتی تبدیلی کے باعث جنوبی پنجاب اور جنوب مشرقی سندھ میں لوگوں کو بہت سے ماحولیاتی، معاشی اور سماجی مسائل کا سامنا ہے۔

موسمیاتی نظام کی تنصیب

پاکستان میں ہر سال بارشوں کے موسم میں خیبرپختونخواہ کے بالائی علاقے لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کی زد میں رہتے ہیں۔ صوبائی حکومت کے مطابق، 2022 میں آنے والے سیلاب میں گھروں، زراعت، بجلی کی تنصیبات، سڑکوں، پلوں اور دیگر ڈھانچے کو تقریباً 180 ارب روپے مالیت کا نقصان ہوا۔

اقوام متحدہ نے شدید بارشوں اور سیلاب میں نقصان کو کم سے کم رکھنے کے لیے اس آفت سے بروقت آگاہی کے نظام اور مقامی سطح پر لوگوں اور بنیادی ڈھانچے کو موسمی شدت جھیلنے کے قابل بنانا ضروری قرار دیا ہے۔ 2030 تک پائیدار ترقی کا ہدف 13.1 بھی ایسے ہی اقدامات کی ضرورت کو واضح کرتا ہے۔

اسی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس منصوبے کے ذریعے سرکاری شعبے کی تکنیکی صلاحیت کو مزید موثر بنا کر سیلاب کی پیش گوئی اور اس سے بچاؤ کے پیشگی اقدامات کو بہتر کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ضلع بونیر اور شانگلہ میں موسم کی اطلاع دینے والا خودکار نظام اور ہائیڈرومیٹرولوجیکل سٹیشن قائم کیے جانا ہیں۔

اس نظام کی بدولت مقامی سطح پر لوگوں کو علم ہو سکے گا کہ شدید بارشیں کب آ سکتی ہیں اور ان سے کس جگہ اور کب سیلاب آنے کا امکان ہے۔ بروقت اطلاعات کی موجودگی میں لوگوں کو مشکل حالات کی تیاری کرنے میں مدد ملے گی اور وہ اپنے گھربار اور روزگار کو بارشوں اور سیلاب سے تحفظ دینے کے قابل ہو سکیں گے۔

آنے والے موسم کی پیشگی اطلاعات کے حصول سے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات میں اہم فیصلے لینے اور موثر حکمت عملی بنانے میں مدد ملے گی۔
FAO-Pakistan
آنے والے موسم کی پیشگی اطلاعات کے حصول سے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات میں اہم فیصلے لینے اور موثر حکمت عملی بنانے میں مدد ملے گی۔

خواتین اور معذور افراد کا تحفظ

اس منصوبے کے لیے ڈبلیو ایف پی کو مالی وسائل فراہم کرنے کی منظوری 18جولائی کو 'جی سی ایف' کے بورڈ نے جنوبی کوریا کے شہر سونگڈو میں منعقدہ اپنے اجلاس میں دی تھی۔

پاکستان میں 'ڈبلیو ایف پی' کی ڈائریکٹر اور نمائندہ کوکو یوشی یاما نے گرین کلائمیٹ فنڈ کی جانب سے اس منصوبے میں مالی تعاون فراہم کرنے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی انسانی وجود کے لیے خطرہ ہے۔ اس خطرے پر قابو پانے کے لیے مقامی سطح پر لوگوں کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ تمام لوگوں کے لیے پائیدار اور غذائی اعتبار سے محفوظ مستقبل کی تعمیر کے ضمن میں اجتماعی کوششوں کا تقاضا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس منصوبے کے تحت موسمیاتی حوادث کا مقابلہ کرنے کے اقدامات میں پس ماندہ طبقات بالخصوص خواتین اور جسمانی معذور افراد کی ضروریات کو ترجیح دی گئی ہے۔

سیلاب پاکستان میں بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن رہے ہیں جس دیہات اور زرعی شعبہ خاص طور پر متاثر ہو رہا ہے۔
Courtesy: Pakistan Lok Sujag
سیلاب پاکستان میں بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن رہے ہیں جس دیہات اور زرعی شعبہ خاص طور پر متاثر ہو رہا ہے۔

سیلاب متاثرین پر توجہ

پاکستان گزشتہ دو دہائیوں میں موسمی شدت کے 152 بڑے واقعات کا سامنا کر چکا ہے اور شمالی پہاڑی علاقوں میں گلیشیئر پھٹنے سے آنے والے سیلاب کی شرح 300 گنا بڑھ گئی ہے۔

عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) کے مطابق، دو سال پہلے پاکستان میں آنے والے سیلاب میں 1,700 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو گئے جبکہ اس آفت نے مجموعی طور پر تین کروڑ 30 لاکھ لوگوں کو متاثر کیا۔ اس سیلاب سے مجموعی طور پر 30 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا اور 80 لاکھ لوگ بے گھر ہو گئے۔

حفصہ نعمان نے بتایا کہ 'ڈبلیو ایف پی' کو 2022 کے تباہ کن سیلاب سے حاصل ہونے والے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے لوگوں پر اس قدرتی آفت کے گہرے اور طویل اثرات کا بخوبی اندازہ ہے۔

اس اقدام کے تحت شروع کیے جانے والے منصوبے میں سیلاب کے بارے میں پیش گوئی، اس سے تحفظ کی تیاری اور لوگوں کو اس آفت کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانے میں سابقہ اور آئندہ ممکنہ سیلاب متاثرین پر خاص توجہ دی جائے گی۔ ان اقدامات کی بدولت آئندہ آنے والے کسی سیلاب میں غیرمحفوظ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ تحفظ میسر آئے گا۔