کئی ممالک کو شدید نوعیت کی بھوک کا سامنا، یو این ادارے
تشدد اور مسلح تنازعات کے باعث پیدا ہونے والی تباہ کن درجے کی شدید غذائی قلت آئندہ مہینوں میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ ہیٹی، مالی، سوڈان، مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور جنوبی سوڈان میں یہ خطرہ سب سے زیادہ ہو گا۔
اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) اور عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیا ہے کہ ان علاقوں میں فوری طور پر ضروری مدد نہ پہنچائی گئی اور جنگوں کا خاتمہ نہ ہوا تو حالات مزید سنگین ہو جائیں گے اور بڑے پیمانے پر اموات ہو سکتی ہیں۔
دونوں اداروں نے بتایا ہے کہ غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث قحط کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ سوڈان کی ریاست شمالی ڈارفر میں زمزم پناہ گزین کیمپ میں رہنے والے 750,000 سے زیادہ لوگوں کو پہلے ہی قحط کا سامنا ہے جبکہ ملک کے دیگر علاقے بھی اس خطرے کے دھانے پر ہیں۔ اس کے علاوہ ہیٹی، مالی اور جنوبی سوڈان میں بھی تباہ کن بھوک پھیل چکی ہے۔
'ایف اے او' کے ڈائریکٹر جنرل کو ڈونگ یو نے کہا ہے کہ غزہ میں زندگیوں کو تحفظ دینے اور لوگوں کو شدید بھوک اور غذائی قلت سے بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر جنگ بندی عمل میں لانا ہو گی۔ فلسطینیوں کو غذائیت والی خوراک تک رسائی درکار ہے اور علاقے میں مقامی سطح پر خوراک کی پیداوار دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت ہے۔
22 ممالک خطرے سے دوچار
اقوام متحدہ کے اداروں نے مجموعی طور پر 22 ایسے ممالک کی نشاندہی کی ہے جہاں لوگوں کو شدید درجے کی بھوک کا سامنا ہے۔ ان جگہوں پر جنگوں، معاشی بحران اور موسمیاتی مسائل کے باعث بھوک کی شدت میں اضافے کا خدشہ ہے۔
ان میں چاڈ، لبنان، موزمبیق، میانمار، نائجیریا، شام اور یمن کی صورتحال خاص طور پر تشویش ناک ہے جہاں بڑی تعداد میں لوگوں کو شدید غذائی تحفظ کا سامنا ہے جبکہ دیگر عوامل کے باعث آئندہ مہینوں میں وہاں زندگی کے لیے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
'ایف اے او' اور 'ڈبلیو ایف پی' نے حالیہ مہینوں میں کینیا، لیسوتھو، نمیبیا اور نیجر کو اس فہرست میں شامل کیا ہے جہاں لوگوں کی زندگی بھوک کے باعث خطرے سے دوچار ہے۔ موسمی شدت، جنگیں، معاشی عدم استحکام اور ہنگامی زرعی و غذائی مدد کی کمی ان ممالک کے لیے اس خطرے کے بڑے اسباب ہیں۔
'ڈبلیو ایف پی' کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سنڈی مکین نے عالمی رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ لاکھوں لوگوں کو بھوک سے بچانے کے لیے آگے آئیں اور اقوام متحدہ کے ساتھ کام کریں۔ اس مقصد کے لیے تنازعات کا سفارتی حل نکالنا، امدادی کارروائیوں کو تحفظ دینے کے لیے متحارب فریقین کو قائل کرنا، عالمگیر بھوک کو بڑھنے سے روکنے کے لیے وسائل جمع کرنا اور شراکتیں قائم کرنا ضروری ہے۔
لا نینا کے اثرات
کمزور ممالک کو موسمی کیفیت لانینا کے منفی اثرات کا بھی سامنا ہے جو آئندہ سال مارچ تک برقرار رہے گی۔ موسمیاتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ لانینا کے نتیجے میں بارشوں کا معمول متاثر ہو گا جس سے ان ممالک میں زراعت پر اثر پڑے گا۔
لانینا سے نائجیریا، جنوبی سوڈان اور افریقہ کے جنوبی ممالک میں سیلاب آنے کا خدشہ ہے۔ اس سے کینیا، ایتھوپیا اور صومالیہ میں خشک سالی مزید بڑھ سکتی ہے جس سے وہاں غذائی نظام کے لیے مزید خطرات کھڑے ہو جائیں گے جو پہلے ہی مسائل کا شکار ہیں۔
اداروں نے خبردار کیا ہے کہ شدید درجے کی بھوک کا سامنا کرنے والے تمام 22 ممالک اور علاقوں کو فوری طور پر امداد فراہم نہ کی گئی اور انہیں خوراک اور روزگار کے حصول میں مدد دینے کے لیے مالی وسائل فراہم نہ ہوئے تو بہت جلد مزید لاکھوں لوگ بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔