جنرل اسمبلی: کیوبا پر امریکی پابندیوں کے خلاف قرارداد منظور
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت کے ساتھ امریکہ کی جانب سے کیوبا پر عائد اقتصادی، تجارتی اور مالیاتی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ 187 ممالک نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ امریکہ اور اسرائیل نے اس کی مخالفت کی اور مالدووا نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
بدھ کو پیش کی گئی اس قرارداد میں جنرل اسمبلی میں اسی نوعیت کی پچھلی 31 قراردادوں کا حوالہ بھی دیا گیا تھا، جو 1992 کے بعد سے ہیلمز برٹن ایکٹ پر تقریباً ہر سال جاری کی جا چکی ہیں۔ یہ 1996 کا ایک امریکی قانون ہے جو کیوبا کی حکومت پر بین الاقوامی پابندیوں کو سخت کرتا ہے اور دوسری ریاستوں کی خودمختاری، ان کے دائرہ اختیار سے منسلک اداروں یا افراد کے جائز مفادات اور تجارت کی آزادی پر اثرانداز ہوتا ہے۔
کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگیز پارریلا نے قرارداد کی حمایت میں اپنی تقریر کے دوران بتایا کہ "پانچ دنوں تک کیوبا کے کئی خاندانوں کو بجلی میسر نہیں تھی۔ وہ خوراک خراب ہونے کے خوف کے باعث سخت پریشانی میں مبتلا تھے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اسے دوبارہ حاصل کرنا ناممکن یا بے حد مہنگا ہو سکتا ہے۔ ہسپتال ایمرجنسی کی صورتحال میں کام کر رہے تھے، اسکول اور جامعات بند تھیں اور معاشی سرگرمیاں رکی ہوئی تھیں۔"
بجلی کی طویل معطلی اور وجوہات
انھوں نے مزید کہا کہ کیوبا کے قومی پاور سسٹم کی ناکامی کا بنیادی سبب ایندھن کی کمی تھی جو "امریکی اقتصادی جنگ کی انتہائی شدت کے باعث پیدا ہوا ہےاور جس کا مقصد 2019 کے بعد سے کیوبا کو ایندھن اور تکنیکی معاونت سے محروم کرنا ہے۔" انہوں نے زور دیا کہ "دنیا میں کوئی اور ملک، چاہے وہ اقتصادی لحاظ سے کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو، ایسی سخت اور طویل جارحیت کا سامنا نہیں کر سکتا۔"
برونو روڈریگیز نے امریکی اقدامات کو "اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی" قرار دیا اور جنرل اسمبلی نے اپنی قرارداد میں تمام ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے تحت ایسے قوانین اور اقدامات سے گریز کریں جو تجارتی اور بحری نقل و حمل کی آزادی کو متاثر کرتے ہیں۔ اس قرارداد کے ذریعے عالمی برادری کو یقین دلایا گیا کہ کیوبا اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا اور عالمی سطح پر تعاون اور انصاف کی حمایت جاری رکھے گا۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک بار پھر ان ریاستوں پر زور دیا جنہوں نے اس طرح کے قوانین اور اقدامات نافذ کئے ہیں اور اب بھی ان کا اطلاق کر رہے ہیں کہ وہ اپنے قانونی نظام کے مطابق انہیں جلد از جلد منسوخ یا منسوخ کرنے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔