انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ذرائع روزگار و عالمی استحکام کو ماحولیاتی بحران سے خطرہ، گوتیرش

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کولمبیا کے شہر کالی میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ پر اقوام متحدہ کے کنونشن کاپ 16 سے خطاب کر رہے ہیں۔
UN Colombia/Santiago Puentes Viana
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کولمبیا کے شہر کالی میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ پر اقوام متحدہ کے کنونشن کاپ 16 سے خطاب کر رہے ہیں۔

ذرائع روزگار و عالمی استحکام کو ماحولیاتی بحران سے خطرہ، گوتیرش

موسم اور ماحول

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے فطرت کے ساتھ ہم آہنگی بحال کرنے کے لیے فیصلہ کن اقدام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ماحولیاتی بحران سے روزگار اور عالمی استحکام کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

کولمبیا کے شہر کالی میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ پر اقوام متحدہ کے کنونشن کے ریاستی فریقین کی کانفرنس (کاپ 16) سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا ہے کہ فطرت کے ساتھ امن قائم کرنا 21ویں صدی کا فیصلہ کن ہدف ہے۔ فطرت زندگی ہے اور انسان نے اس کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے جس میں کوئی بھی فاتح نہیں ہو گا۔

Tweet URL

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ درجہ حرارت سال بہ سال بڑھتا جا رہا ہے۔ روزانہ ایک کے بعد ایک نوع معدوم ہوتی جا رہی ہے۔ ہر منٹ کے بعد ایک ٹرک کے برابر پلاسٹک کا کچرا سمندروں، دریاؤں اور جھیلوں کا حصہ بن جاتا ہے۔انسانیت دوراہے پر کھڑی ہے اور ناصرف کرہ ارض بلکہ اس پر رہنے والے لوگوں کی بقا بھی خطرے میں ہے جس پر قابو پانے کے لیے دانشمندانہ فیصلے کرنا ہوں گے اور فطرت کے ساتھ امن سے رہنا ہو گا۔

اس کانفرنس کو 'عوام کی کاپ' کا نام بھی دیا گیا ہے جو یکم نومبر تک جاری رہے گی۔ اس میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، ماحولیاتی انصاف اور پائیدار مستقبل کی تشکیل میں مختلف علاقوں کے قدیمی باشندوں اور مقامی لوگوں کےکردار پر بات چیت ہونا ہے۔

عملی اقدامات کا وقت

انتونیو گوتیرش نے کانفرنس کے شرکا کو بتایا کہ انسانی سرگرمیوں کے باعث 75 فیصد زمین اور 66 فیصد سمندر پہلے ہی تبدیل ہو چکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہر گزرتے دن انسانیت کے لیے بھوک، بے گھری اور مسلح تنازعات جیسے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔

انہوں نے ممالک پر زور دیا کہ وہ 'کُنمنگ مونٹریال فریم ورک' پر عملدرآمد کریں جس کا مقصد 2030 تک حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو روکنا اور اس کا رخ پلٹنا ہے۔

سیکرٹری جنرل نے فریم ورک کے اہداف کی مطابقت سے طے پانے والے قومی منصوبوں، ان کی شفاف نگرانی اور ان پر عملدرآمد کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کی اہمیت کو بھی واضح کیا کہ رواں دہائی کے اختتام تک ہر سال کم از کم 200 ارب ڈالر درکار ہیں۔

نجی شعبے کی ذمہ داری

سیکرٹری جنرل نے ممالک سے کہا کہ وہ فریم ورک کے اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے واضح، پرعزم اور تفصیلی منصوبے پیش کریں۔ اس کے علاوہ انہیں منصوبوں کی نگرانی اور شفافیت کو بہتر بنانے کے اقدامات پر بھی اتفاق کرنا ہو گا۔ حیاتیاتی تنوع کو تحفظ دینے کے معاملے میں ترقی پذیر ممالک کو مالی وسائل کی فراہمی کے وعدے پورے کرنا بھی ضروری ہے۔

اس مقصد کے لیے نجی شعبے کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔ فطرت سے منافع کمانے والوں کو اس کی کھلی چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔ ان کے لیے فطری ماحول کو تحفظ دینے اور اس کی بحالی میں کردار ادا کرنا لازم ہے۔

امید افزا پیش رفت

سیکرٹری جنرل نے کانفرنس کے شرکا کو بتایا کہ مسائل کے باوجود اس معاملے میں امید افزا اقدامات بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ برازیل، کولمبیا اور انڈونیشیا میں جنگلات کے کٹاؤ میں آنے والی کمی اور دریائے کانگو کے طاس میں محفوظ علاقوں کے رقبے میں اضافہ اس کی نمایاں مثال ہیں۔

انہوں نے فطری ماحول کے تحفظ پر یورپی یونین کے وضع کردہ قانون کی بھی تعریف کی اور مختلف ممالک کی سمندری حدود میں حیاتیاتی تنوع کے مشترکہ تحفظ کے تاریخی معاہدے کو سراہا۔

سیکرٹری جنرل نے پلاسٹک کی آلودگی کے خاتمے سے متعلق معاہدے پر رواں سال کے آخر میں ہونے والی بات چیت کا تذکرہ کیا اور امید ظاہر کی کہ سابق معاہدے طے پانے کے وقت جو عزم دیکھنے کو ملا وہ 'کاپ 16' میں بھی نظر آئے گا۔

ماحولیاتی محافظوں کا تحفظ

سیکرٹری جنرل نے ماحولیاتی تنوع کو تحفظ دینے میں قدیمی باشندوں اور مقامی لوگوں کے اہم کردار کو بھی واضح کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ فطرت کے محافظ ہیں اور ان کا روایتی علم حیاتیاتی تنوع کو تحفظ دینے کے لیے ضروری بصیرت پیش کرتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ عموماً پسماندہ اور خطرات کا شکار رہتے ہیں۔

انہوں نے حیایاتی تنوع کے تحفظ کے کنونشن کے تحت ایک مستقل ادارہ قائم کرنے کے لیے بھی کہا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اس معاملے میں پالیسی سازی کے تمام عمل میں قدیمی مقامی لوگوں کی آواز سنی جائے۔

انتونیو گوتیرش کا کہنا تھا کہ فطرت کے ساتھ امن کا مطلب فطری ماحول کو تحفظ دینے والوں کے ساتھ امن قائم کرنا ہے۔