جانیے حیاتیاتی تنوع پر کانفرنس کاپ 16 میں زیربحث اہم موضوعات بارے
کولمبیا کے شہر کالی میں ان دنوں دنیا بھر کے ممالک حیاتیاتی تنوع کو بہتر طور سے تحفظ دینے اور ایسے پائیدار لائحہ عمل کی تیاری پر غور و خوض کر رہے ہیں جس سے انسانیت کو فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہونے میں مدد مل سکے۔
یہ بات چیت حیاتیاتی تنوع پر اقوام متحدہ کے کنونشن کے ریاستی فریقین کی 16 ویں کانفرنس (کاپ 16) میں ہو رہی ہے۔ 'فطرت کے ساتھ امن' امسال اس کانفرنس کا بنیادی موضوع ہے جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ معاشی ترقی سے ماحول کو نقصان نہ پہنچے۔
یہ کانفرنس ہر دو سال کے بعد ہوتی ہے جس میں ممالک ماحول کو تحفظ دینے کے وعدے اور اس ضمن میں عملی اقدامات کا اعلان کرتے ہیں۔ حالیہ کانفرنس میں کنونشن کے 190 سے زیادہ ارکان شریک ہیں۔ یہ اجلاس آئندہ مہینے آزربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کی سالانہ موسمیاتی کانفرنس (کاپ 29) سے الگ ہے۔
کالی میں منعقدہ 'کاپ 16' میں زیربحث موضوعات کے حوالے سے پانچ نکات خاص طور پر اہم ہیں۔
حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی حکمت عملی
اس کنونشن پر دستخط کرنے والے ہر ملک نے حیاتیاتی تنوع پر کُنمنگ مانٹریال گلوبل فریم ورک میں دیے گئے متعدد اہداف تک پہنچنے کی منصوبہ بندی کے وعدے کر رکھے ہیں۔ یہ فریم ورک حیاتیاتی تنوع کو تحفظ دینے کا عالمی منصوبہ ہے جو کینیڈا میں ہونے والی کاپ 15 میں طے پایا تھا۔
رواں دہائی کے آخر تک کرہ ارض کے 30 فیصد قدرتی ماحول کو خصوصی تحفظ دینا اس کنونشن کا بنیادی مقصد ہے۔ اس ماحول میں زمین، سمندر اور صاف پانی شامل ہیں۔ فریم ورک میں بارانی جنگلات اور خشکی میں گھرے آبی مقامات جیسے اہم ماحولیاتی نظام کی بحالی اور تحفظ پر بھی زور دیا گیا ہے۔
لاطینی امریکہ اور غرب الہند کے لیے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) کے ریجنل ڈائریکٹر اور نمائندے خوآن بیلو نے بتایا ہے کہ فی الوقت 35 سے کم ممالک نے اس بابت اپنے منصوبے جمع کرائے ہیں۔
اس کانفرنس میں خاص طور پر ہر ملک کی جانب سے عالمی فریم ورک پر عملدرآمد کے لیے بتائے گئے اہداف کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس ضمن میں یہ دیکھا جانا ہے کہ آیا یہ منصوبے حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو روکنے کا مقصد پورا کرتے ہیں۔
700 ارب ڈالر کی ضرورت
حیاتیاتی تنوع کا تحفظ کوئی سستا کام نہیں ہے۔ اس سمت میں عملی اقدامات شروع کرنے کے لیے تقریباً 700 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
خوآن بیلو نے بتایا ہے کہ فی الوقت سالانہ 200 ارب ڈالر درکار ہیں۔ خوراک اور توانائی کے شعبوں میں ماحولیاتی تنوع کے لیے نقصان دہ امدادی قیمتوں کا خاتمہ کرنے کے لیے مزید 500 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔
حیاتیاتی تنوع کے عالمی فریم ورک پر عملدرآمد کی کامیابی کے لیے مالیاتی نمونے کی کامیابی بہت ضروری ہے۔ اس میں مالی وسائل کی فراہمی کے ذرائع اور ان کے انتظام کا طریق کار شامل ہیں۔
پیش رفت کی نگرانی
کالی کانفرنس کے شرکا حیاتیاتی تنوع کو تحفظ دینے کے معاملے میں ممالک کی پیش رفت کو بہتر طور سے جانچنے پر بھی بات چیت کریں گے۔
خوآن بیلو کا کہنا ہے کہ ممالک کو پیش رفت کا جائزہ لینے اور نتائج کی تصدیق کرنے کے اشاریوں پر متفق ہونا ہو گا اور یہ کام واقعتاً بہت پیچیدہ ہے۔
جینیاتی وسائل کے فوائد
فریم ورک میں قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال کے بارے میں وعدے بھی شامل ہیں۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ جینیاتی وسائل سے حاصل شدہ فوائد ان لوگوں میں منصفانہ اور مساوی طور پر تقسیم ہوں جو ان وسائل کے نگہبان ہیں۔
جینیاتی وسائل سے مراد ایسا حیاتیاتی مواد ہے جس کا تعلق جانداروں سے ہوتا ہے اور جس میں حقیقی یا ممکنہ قدر کی حامل جینیاتی معلومات موجود ہوتی ہیں۔
مثال کے طور پر، خوآن بیلو نے بتایا کہ، ادویہ سازی، سامان آرائش اور خوراک کی صنعتوں میں ان معلومات سے کام لینے والوں کو اس کی قیمت ادا کرنا ہو گی کیونکہ وہ اس سے صنعتی اور تجارتی فوائد لے رہے ہوں گے۔ چنانچہ ان معلومات کے استعمال سے پیدا ہونے والی آمدنی سے ان ممالک اور لوگوں کو فائدہ ہو گا جہاں سے یہ حیاتیاتی تنوع آتا ہے۔ یہ نہایت پیچیدہ معاملہ ہے لیکن اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔
قدیمی مقامی باشندے
حیاتیاتی تنوع پر کنونشن میں قدیمی مقامی لوگوں کے روایتی علم کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا گیا ہے اور کالی میں موجود مندوبین یہ یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں کہ ان لوگوں کی اہمیت کو تسلیم کیا جائے اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں ان کے کام کو جائز اہمیت مل سکے۔
اجلاس میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ و بحالی اور اس کے پائیدار استعمال کے حوالے سے افریقی النسل لوگوں کے کردار پر بات چیت بھی ہو رہی ہے۔
کانفرنس سے توقعات
خوآن بیلو نے بتایا ہے کہ کانفرنس میں رواں ہفتے کے اختتام کئی حوالے سے پیش رفت متوقع ہے۔
اس بات کا ادراک اس کانفرنس کا ایک اہم ترین نتیجہ ہو سکتا ہے کہ ماحولیاتی نظام کو تحفظ دینے کے اقدامات موسمیاتی بحران پر قابو پانے کے لیے بھی ضروری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حیاتیاتی تنوع اور موسمیاتی تبدیلی کے مابین براہ راست اور واضح ربط قائم کرنا بہت اہم ہے۔