ایران اسرائیل کشیدگی غیر معمولی بحران کا سبب بننے کا خطرہ، خالد خیری
مشرق وسطیٰ، ایشیا اور الکاہل کے لیے اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل خالد خیری نے متنبہ کیا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے ایک دوسرے پر حملوں سے پورا خطہ غیرمعمولی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ تنازع ایسے موقع پر سر اٹھا رہا ہے جب خطے میں ہر جگہ تناؤ اور کشیدگی میں کمی لانے کی ضرورت ہے۔ فریقین اور عالمی برادری کو حالات میں مزید بگاڑ سے بچنے کے لیے اشتعال انگیز بیان بازی بند کر کے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
خالد خیری نے یہ بات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کو ایران کی صورتحال پر بلائے گئے ہنگامی اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔
مذاکرات کی اپیل
اسرائیل نے 26 اکتوبر کو ایران کے دارالحکومت تہران، خوزستان اور دیگر علاقوں میں حملے کیے تھے جس کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو باعث تشویش قرار دیا تھا۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ تنازع کو روکنے کے لیے ہرممکن قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ وہ عسکری کارروائیاں ترک کر کے سفارتی بات چیت سے مسائل کا حل نکالیں۔
خالد خیری نے کہا کہ فریقین ایک دوسرے کے صبر کا امتحان نہ لیں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے قدم اٹھائیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب اسرائیل نے ایران میں حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ یہ رواں مہینے اسرائیل پر ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب تھے۔ اسرائیل کے حملوں میں کم از کم چار ایرانی فوجیوں اور ایک شہری کی ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔
جنگی جرائم پر احتساب کا مطالبہ
خالد خیری نے غزہ کی موجودہ صورتحال کو تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کا بیان دہرایا جس میں انہوں نے شمالی غزہ میں فلسطینیوں کو درپیش حالات کو ناقابل بیان قرار دیا تھا۔
سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند ہفتوں میں سیکڑوں لوگ بمباری اور زمینی حملوں میں ہلاک اور زخمی ہو گئے ہیں۔ لوگوں کی بڑی تعداد تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبی ہے جنہیں وہاں سے نکالنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ تحفظ کی خاطر 60 ہزار سے زیادہ لوگ علاقہ چھوڑ گئے ہیں جنہیں اپنے گھروں کو واپسی کی امید نظر نہیں آتی۔ جو لوگ بدستور علاقے میں مقیم ہیں انہیں خوراک، پانی اور طبی مدد سمیت بنیادی ضروریات زندگی تک رسائی نہیں رہی۔
خالد خیری نے کہا کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے مابین لڑائی جاری ہے اور جنوبی لبنان میں کیے جانے والے زمینی حملوں میں عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
انہوں نے غزہ اور لبنان میں فوری جنگ بندی کے لیے سیکرٹری جنرل کی اپیل کو دہراتے ہوئے کہا کہ تمام یرغمالیوں کو غیرمشروط طور پر رہا ہونا چاہیے اور جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کا بین الاقوامی قانون کے تحت محاسبہ کیا جانا چاہیے۔
ایران کی درخواست
یہ اجلاس اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا، جس میں اسے الجزائر، چین اور روس کی حمایت بھی حاصل تھی۔ اجلاس سے اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام کے علاوہ ایران، الجزائر، شام، اسرائیل، روس، اور امریکہ کے سفارتی نمائندوں نے بھی خطاب کیا۔