ایران اسرائیل کشیدگی: حملوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، گوتیرش
اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا سبب بننے والے اقدامات کو فوری روکنے پر زور دیا ہے۔
اپنے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ان کا کہنا ہے کہ خطے بھر میں جاری کشیدگی انتہائی تشویش ناک ہے، حملے اور جوابی حملے جیسی تمام کارروائیاں قابل مذمت ہیں اور انہیں بلاتاخیر روک دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے غزہ اور لبنان میں جنگ بندی اور دونوں جگہوں پر جاری جنگ کو خطے بھر میں پھیلنے سے روکنے کے لیے ہرممکن اقدامات اور تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر بھی زور دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ہفتے کی رات ایران کے دارالحکومت تہران میں اور اس کے قریب متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس کے بعد اسرائیل کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ اس نے ملک میں عسکری اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
یہ حملے وقفے وقفے سے تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہے۔ ایران کی فوج نے بتایا ہے کہ ان میں اس کے چار فوجیوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایران کی جانب سے یکم اکتوبر کو اس پر برسائے گئے 200 میزائلوں کا جواب تھے جنہیں ایران نے لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی ہلاکت اور حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے ایران میں قتل کا بدلہ قرار دیا تھا۔