انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یوکرین پر روسی حملہ یو این چارٹر کی خلاف ورزی ہے، گوتیرش

اقوام متحدہ کے سربراہ روس کے شہر کزان میں جاری برکس سمٹ کے 16ویں اجلاس میں شریک ہیں۔
© BRICS-Russia/Vladimir Astapkovich
اقوام متحدہ کے سربراہ روس کے شہر کزان میں جاری برکس سمٹ کے 16ویں اجلاس میں شریک ہیں۔

یوکرین پر روسی حملہ یو این چارٹر کی خلاف ورزی ہے، گوتیرش

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے کہا ہے کہ یوکرین پر ان کے ملک کا حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی پامالی ہے۔

سیکرٹری جنرل نے یہ بات روس کے شہر کازان میں صدر پوتن سے ملاقات کے موقع پر کہی جہاں وہ 16ویں برکس کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے تھے۔

Tweet URL

سیکرٹری جنرل نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ اس ملاقات میں انہوں نے کانفرنس کے موقع پر کہی اپنی بات دہرائی جس میں انہوں ںے یوکرین میں اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ امن کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

کانفرنس سے خطاب میں سیکرٹری جنرل نے ہر جگہ اقوام متحدہ کے چارٹر، قانون اور ممالک کی خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا تھا۔

برکس کو برازیل، روس، انڈیا اور چین نے 2006 میں قائم کیا تھا۔ گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں اس کے ارکان کی تعداد نو ہو گئی ہے اور  یہ ممالک دنیا کی تقریباً نصف آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔

بحیرہ اسود میں محفوظ جہاز رانی

سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ صدر پوتن سے ملاقات میں انتونیو گوتیرش نے بحیرہ اسود میں محفوظ جہازرانی کے معاہدے میں بھرپور تعاون فراہم کرنے کا عزم کیا جس سے عالمگیر غذائی تحفظ کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔  انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اس اقدام کی یوکرین، روس اور پوری دنیا میں خوراک اور توانائی کے تحفظ میں خاص اہمیت ہے۔

انہوں نے اس سلسلے میں ترکیہ کی جانب سے کیے جانے والے کام کو بھی سراہا۔

فروری 2022 میں روس کا حملہ شروع ہونے کے بعد بحیرہ اسود میں یوکرین اور دیگر ممالک کی بندرگاہوں سے زرعی اجناس اور کھادوں کی برآمد بری طرح متاثر ہوئی جس سے غذائی تحفظ کو نقصان پہنچا اور دنیا بھر میں خوراک کی قیمتیں بڑھ گئیں۔

جولائی 2022 میں اقوام متحدہ اور ترکیہ کی ثالثی میں روس کے ساتھ طے پانے والے اجناس کی ترسیل کے اقدام اور دیگر معاہدوں سے بحیرہ اسود میں اہم اشیا کی تجارت کو بحال کرنے میں مدد ملی۔ 17 جولائی 2023 کو اس معاہدے کی تیسری مدت کا اختتام ہوا جس کے بعد اس میں توسیع نہیں ہو سکی تھی اور اس طرح یہ تجارتی راستہ ایک مرتبہ مسائل کی زد میں آ گیا۔

ملاقات کا مقصد

صحافیوں نے ترجمان سے عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی جانب سے صدر پوتن کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے باوجود ان سے سیکرٹری جنرل کی ملاقات کے حوالے سے بھی سوالات کیے۔

اس کے جواب میں فرحان حق نے کہا کہ یہ ملاقات ایسے امور پر ہوئی جن کا تعلق دنیا بھر کے لوگوں کی بہتری سے ہے جبکہ سیکرٹری جنرل نے اس ملاقات میں یوکرین میں جاری جنگ اور بحیرہ اسود میں محفوظ جہازرانی کا معاملہ بھی اٹھایا۔