انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ کو حالیہ جنگ کی تاریک ترین صورتحال کا سامنا، وولکر ترک

ایک زخمی فلسطینی لڑکا احمد ہسپتال کے بستر پر پٹی بند ٹانگ کے ساتھ بیٹھا ہے جب کہ ایک عورت اس کا سر پکڑ کر اسے تسلی دے رہی ہے۔
© UNICEF/Abed Zaqout غزہ میں سہولیات کی قلت کے باعث ڈاکٹروں نے اس تین سالہ بچے کی ٹانگ کا ایک حصہ کاٹنے کا فیصلہ کیا۔

غزہ کو حالیہ جنگ کی تاریک ترین صورتحال کا سامنا، وولکر ترک

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ شمالی غزہ کو حالیہ جنگ کے تاریک ترین دور کا سامنا ہے جہاں اسرائیل کی فوج نے لوگوں کو محاصرے میں لے کر ان کے لیے امداد کی فراہمی روک رکھی ہے اور علاقے پر شدید بمباری کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ خوراک کی فراہمی بند ہونے کے باعث شمالی غزہ میں لوگ شدید بھوک کا شکار ہیں جنہیں بڑے پیمانے پر نقل مکانی کرنا پڑے گی یا جنگ زدہ علاقے میں محصور رہتے ہوئے موت کے خطرے کا سامنا ہو گا۔ اسرائیل کی حکومت شمالی غزہ کو لوگوں سے خالی کرانا چاہتی ہے اور وہاں اس کی کارروائیاں انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہیں۔

Tweet URL

انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ شمالی غزہ کی پناہ گاہوں میں شہریوں کے ساتھ فلسطینی مسلح گروہ بھی موجود ہیں جس کے باعث لوگوں کی زندگی خطرے میں ہے اور یہ صورتحال قطعی ناقابل قبول ہے۔

ہسپتال پر حملہ

شمالی غزہ کے کمال عدوان ہسپتال پر آج صبح اسرائیلی فوج کے حملے کے بعد طبی عملے اور مریضوں سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ اس حملے میں متعدد افراد ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے اس حملے کو تشویشناک قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت ہسپتال میں تقریباً 200 مریض اور بڑی تعداد میں پناہ گزین بھی موجود تھے۔ کمال عدوان اس وقت شمالی غزہ میں کسی حد تک فعال واحد ہسپتال ہے جس پر علاقے کی تمام آبادی انحصار کر رہی ہے۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے 'ڈبلیو ایچ او' کے نمائندے ڈاکٹر رک پیپرکورن نے بھی اس حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طبی مراکز کو تحفظ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

کمال عدوان ہسپتال پر حملے سے ایک دن پہلے 'ڈبلیو ایچ او' اور اس کے شراکت داروں نے وہاں طبی سازوسامان، خون کی بوتلیں اور ایندھن پہنچایا تھا۔ اس امدادی مشن کے ذریعے 23 شدید بیمار اور زخمی افراد اور ان کی دیکھ بھال کرنے والے 26 لوگوں کو جنوب میں غزہ شہر کے الشفا ہسپتال پہنچایا گیا۔

بین الاقوامی قوانین کی پامالی

وولکر ترک نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کا ہسپتالوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ جنیوا کنونشن کے تحت ممالک کی ذمہ داری ہے کہ جب بھی کہیں بین الاقوامی انسانی قانون کو پامال کیا جائے تو اسے روکنے کے لیے قدم اٹھائیں۔ نسل کشی کے خلاف کنونشن کے تحت بھی ممالک ایسے جرائم اور ان کے ارتکاب کا خطرہ روکنے کے لیے اقدامات کے پابند ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہونے والے سکولوں پر روزانہ حملے کیے جا رہے ہیں۔ غزہ کے لوگوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ انتہائی محدود ہے اور صحافیوں کو بھی ہلاک کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے عالمی رہنماؤں سے کہا ہے کہ پوری دنیا ان قوانین کو تسلیم کرتی ہے اور اسی لیے ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ کم از کم سطح کی انسانیت کو برقرار رکھتے ہوئے شہریوں اور انسانی حقوق کو تحفظ دیں۔