غزہ: شہری سہولیات کی تباہی سے معذور افراد انتہائی مشکلات کا شکار
انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے غیرجانبدار ماہرین نے غزہ میں جنگ سے متاثرہ جسمانی معذور افراد کو درپیش مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے انخلا کے احکامات دیتے وقت ان لوگوں کی مشکلات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ میں ایک سال سے جاری جنگ کے دوران زخمی ہونے والے تقریباً ایک لاکھ افراد میں بہت سے ایسے ہیں جنہیں طویل یا مستقل جسمانی معذوری کا سامنا ہے۔ تاہم ان کے لیے بحالی کی سہولیات، مددگار آلات، نفسیاتی مدد اور دیگر خدمات کی شدید کمی ہے۔ ان لوگوں کو انخلا کے احکامات پر عمل کرنے یا انہیں سمجھنے میں بھی مشکل پیش آتی ہے۔
اندھا دھند حملے
ماہرین نے کہا ہے کہ اگرچہ جسمانی معذور افراد سے کسی طرح کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا لیکن اس کے باوجود انہیں اندھا دھند حملوں میں ہلاک و زخمی کر دیا جاتا ہے۔
انخلا کے احکامات پر انہیں یہ ناممکن انتخاب درپیش رہتا ہے کہ آیا وہ اپنے گھر اور مددگار آلات کو چھوڑ دیں یا اپنے خاندان کے افراد اور دیکھ بھال کرنے والوں کے بغیر گھروں پر موجود رہ کر حملوں اور موت کا سامنا کریں۔ کسی علاقے سے انخلا کے دوران جسمانی معذور خواتین اور لڑکیوں کے لیے خطرات اور بھی بڑھ جاتے ہیں۔
اسرائیل کی فوج کے حملوں میں ضروری شہری تنصیبات تباہ ہو گئی ہیں اور طبی خدمات سے محرومی کے باعث جسمانی معذور افراد کو تحفظ کے حوالے سے شدید خطرات کا سامنا ہے۔ جسمانی زخموں کے علاوہ ان لوگوں کو شدید جذباتی و نفسیاتی صدمات کا سامنا بھی ہے جس کے سماجی تانے بانے اور لوگوں کی ضروریات پر وسیع تر اثرات مرتب ہوں گے۔ ان حالات میں خواتین پر بوجھ مزید بڑھ جائے گا کیونکہ عام طور پر وہی ان لوگوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اٹھاتی ہیں۔
آباد کاروں کا بڑھتا تشدد
ماہرین نے مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں غیرقانونی اسرائیلی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد اور فلسطینیوں کی نقل و حرکت پر عائد رکاوٹوں کا تذکرہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہےکہ ان علاقوں میں جسمانی معذور افراد کو صحت، بحالی اور دیگر ضروری خدمات تک رسائی نہیں رہی۔
گزشتہ ایک سال کے عرصہ میں اسرائیل نے بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کے تحت خود پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ ان میں مسلح تنازعات کے دوران جسمانی معذور افراد کو تحفظ دینے کا کنونشن بھی شامل ہے جس پر عمل نہیں کیا جا رہا۔
ماہرین نے متحارب فریقین سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی قبول کریں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی درخواست پر عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے بھی اپنی مشاورتی رائے میں کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ غیرقانونی ہے اور وہاں اس کے اقدامات نسلی امتیاز اور نسلی عصبیت کے مترادف ہیں۔
ماہرین نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور نسل کشی کے خلاف 'آئی سی جے' کے عبوری حکم کی پاسداری کرے۔
ماہرین و خصوصی اطلاع کار
غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔