غزہ: انخلاء کا اسرائیلی حکم مریضوں کی اموات میں اضافہ کا سبب
اقوام متحدہ کے حکام نے کہا ہے کہ جنگ زدہ غزہ میں بچوں کو دوسروں سے کہیں زیادہ ہولناک حالات کا سامنا ہے اور ان میں کئی علاج کے لیے علاقے سے انخلا کا انتظار کرتے موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کے ترجمان جیمز ایلڈر نے بتایا ہے کہ شدید زخمی اور بیمار بچوں کو علاج کے لیے غزہ سے باہر منتقل کرنے میں کڑی مشکلات حائل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ انصرامی مسئلہ نہیں اور نہ ہی اس حوالے سے درکار صلاحیت کا کوئی فقدان ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کی منتقلی کے لیے اجازت بہت تاخیر سے ملتی ہے یا سرے سے اجازت ہی نہیں دی جاتی۔
ترجمان نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک روزانہ اوسطاً ایک سے بھی کم بچے کو علاج کے لیے غزہ سے باہر بھیجا جا رہا ہے۔ ان میں بڑی تعداد ایسے بچوں کی ہے جن کے جسمانی اعضا کٹ گئے ہیں، سر پر چوٹیں آئی ہیں، جسم بم حملوں میں جھلس گئے ہیں یا وہ شدید غذائی قلت سے پیدا ہونے والے جسمانی امراض اور کینسر جیسی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہیں۔
غزہ میں 2,500 بچوں کو فوری علاج معالجہ درکار ہے اور اسی رفتار سے انہیں ہمسایہ ممالک میں منتقل کرنے میں سات سال سے زیادہ عرصہ درکار ہو گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ غزہ میں امدادی امور کے لیے اسرائیل کے ادارے 'کوگیٹ' نے بچوں کی منتقلی میں تاخیر یا اس سے انکار کی کوئی وجوہات نہیں بتائیں۔
کڑے اور بے جا ضابطے
ترجمان نے کہا کہ جب کسی مریض کو علاقے سے انخلا کی اجازت نہیں ملتی تو اس کے لیے کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی معلومات موجود نہیں ہیں کہ کتنے بچوں کو علاج کے لیے غزہ سے انخلا کی اجازت دینے سے انکار ہوا ہے۔ 'کوگیٹ' نے صرف ایسے مریضوں کی ایک فہرست مہیا کی ہے جنہیں علاج کے لیے ہمسایہ ممالک میں جانے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ دیگر کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔یہ بچے کڑے اور بے جا ضابطوں میں پھنس گئے ہیں اور ان کی تکالیف بڑھتی جا رہی ہیں۔
اس طرح غزہ کے بچے براہ راست بم اور گولیاں لگنے سے ہی ہلاک نہیں ہو رہے بلکہ بم حملوں میں جب عمارتیں منہدم ہوتی ہیں تو بہت سے بچے ان کے ملبے تلے آ کر زخمی ہو جاتے ہیں جن میں بہت سے ایسے ہیں جنہیں بیرون ملک علاج درکار ہوتا ہے لیکن اجازت نہ ملنے کے باعث ان کی صحت و زندگی کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔
انسانی حقوق کی پامالی
رواں سال یکم جنوری سے 7 مئی تک غزہ سے ہر ماہ اوسطاً 296 بچوں کو علاج کے لیے ہمسایہ ممالک میں بھیجا گیا ہے۔ 7 مئی کو رفح میں اسرائیلی حملے کے باعث مصر کے ساتھ سرحد بند ہو جانے کے بعد یہ تعداد فی مہینہ 22 رہ گئی اور تب سے مجموعی طور پر 127 بچوں کو ہی غزہ سے باہر بھیجا جا سکا ہے۔
جیمز ایلڈر نے کہا کہ غزہ میں ڈھائے جانے والے مظالم کے باعث شدید بیمار اور زخمی بچوں کو علاج کی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے اور جان بچانے کے لیے انہیں بیرون ملک علاج کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔ اس طرح یہ بچے علاج معالجے کے بنیادی حق سے محروم ہیں۔
علاج معالجے کا بحران
ترجمان نے غزہ کے 12 سالہ فلسطینی بچے مازیونا کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے بہن بھائی اپنے گھر پر راکٹ حملے میں ہلاک ہو گئے تھے جبکہ اس حملے میں ان کا چہرہ زخمی ہو گیا۔ بم کا ایک ٹکڑا لگنے سے ان کی گردن پر آنے والے گہرے زخم اور ہڈی کی سرجری کا علاج علاقے میں دستیاب نہیں ہے۔ تاہم انہیں غزہ سے باہر جانے کی اجازت نہیں مل سکی۔
اسی طرح عضلات کے کینسر میں مبتلا اور شدید غذائی قلت کا شکار چھ ماہ کا عاطف بھی بیرون ملک علاج کا منتظر ہے۔ چار سالہ ایلیا اپنے گھر پر بمباری کے نتیجے میں بری طرح جھلس گئی جسے غزہ سے باہر علاج کے لیے بھیجنے کی درخواست کی گئی جو تاحال منظوری کی منتظر ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر اسے فوری طور پر بیرون ملک منتقل نہ کیا گیا تو اس کا ہاتھ اور ایک ٹانگ کاٹنا پڑیں گے۔
ترجمان نے کہا کہ ان تمام ہولناکیوں کے ساتھ غزہ پر بمباری مسلسل جاری ہے، ہسپتالوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ان میں بہت بڑی تعداد میں زخمی بچوں کا علاج کرنے کی گنجائش نہیں رہی۔ طبی عملے کو سرنجوں، پلاسٹر، جلنے کے زخموں پر لگائی جانے والی کریم، آئی وی فلوئیڈ اور دردکش ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے جبکہ مریضوں اور زخمیوں کے لیے وہیل چیئر، بیساکھیاں، سمعی آلات اور ان کی بیٹریاں تک دستیاب نہیں ہیں۔