غزہ میں پولیو کا پھیلاؤ روکنے کے لیے جنگ بندی ضروری
اقوام متحدہ کے حکام نے کہا ہے کہ شمالی غزہ میں پولیو ویکسین کا آخری مرحلہ مکمل کرنے کے لیے فوری جنگ بندی ضروری ہے جس میں تاخیر ہوئی تو اس بیماری کو پھیلنے سے روکا نہیں جا سکے گا۔
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انرا) کی ترجمان لوسی ویٹریج نے کہا ہے کہ شمالی غزہ میں تین ہفتوں سے اسرائیل کی شدید بمباری اور زمینی حملوں کے باعث ہزاروں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ اس علاقے میں چار لاکھ سے زیادہ لوگ محصور ہو کر رہ گئے جنہیں خوراک اور ادویات سمیت بنیادی ضروریات زندگی تک رسائی نہیں رہی اور تباہی و موت کا سامنا ہے۔
بمباری اور حملوں کے باعث علاقے میں ویکسین مہم چلانا ممکن نہیں رہا جس سے پولیو پھیلنے اور بڑی تعداد میں بچوں کے اپاہج ہونے کا خطرہ ہے۔ بیماری کا پھیلاؤ روکنے کے لیے جنگ میں انسانی بنیادوں پر وقفے دینا ضروری ہے تاکہ طبی کارکن پولیو مہم جاری رکھ سکیں۔
پولیو مہم ملتوی
شمالی غزہ میں پولیو مہم کا تیسرا اور آخری مرحلہ گزشتہ روز شروع ہونا تھا جسے اسرائیل کی جانب سے عارضی جنگ بندی اور تحفظ کی ضمانت نہ ملنے کے باعث ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اس مرحلے میں 10 سال سے کم عمر کے ایک لاکھ 20 ہزار بچوں کو ویکسین پلائی جانا تھی۔
لوسی ویٹریج کا کہنا ہے کہ بمباری سے متاثرہ بہت سے شہری تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہیں۔ بیمار اور زخمی لوگوں کو طبی سہولیات میسر نہیں ہیں، لوگوں کے پاس خوراک کی قلت ہے، گھر تباہ ہو چکے ہیں اور ان کے لیے کوئی محفوظ ٹھکانہ باقی نہیں رہا۔
ان حالات میں لوگوں کے لیے اپنے بچوں کو ویکسین کی فراہمی کے مراکز میں لے جانا اور طبی کارکنوں کے لیے مہم چلانا ممکن نہیں۔
14 اکتوبر کو پولیو مہم کا دوسرا مرحلہ شروع ہونے کے بعد جنوبی اور وسطی غزہ میں 442,855 بچوں کو ویکسین پلائی جا چکی ہے جو ان علاقوں میں 10 سال سے کم عمر بچوں کی 94 فیصد تعداد ہے۔
خوراک اور پانی کی قلت
ترجمان کا کہنا ہے کہ تین ہفتوں سے شمالی غزہ میں خوراک یا دیگر امداد نہیں پہنچی جبکہ بازاروں میں اور دکانوں میں بھی خوراک دستیاب نہیں ہے۔ جنگ کے باعث پانی جیسی بنیادی ضرورت زندگی کی فراہمی بھی بند ہو گئی ہے۔
'انرا' کی ٹیمیں پناہ گاہوں میں لوگوں کو خدمات کی فراہمی کے لیے تیار ہیں لیکن اس مقصد کے لیے ان کے پاس کسی طرح کی کوئی امداد نہیں ہے۔ شمالی غزہ کے شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی موت اور تباہی کا منظر براہ راست دیکھ رہے ہیں۔
کثیر فریقی نظام پر حملہ
'انرا' کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کہا ہے کہ غزہ میں ادارے کے 232 اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں اور اس کی 200 سے زیادہ عمارتوں کو تباہ کر دیا گیا ہے یا انہیں نقصان پہنچا ہے۔
لبنان میں بڑھتے ہوئے بحران پر غور کر کے لیے پیرس میں منعقدہ کانفرنس میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی پارلیمنٹ میں 'انرا' پر پابندی عائد کرنے کا قانون پیش ہونے جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کو کمزور کرنے کی ایسی کوششوں کو روکنے میں ناکامی کے نتیجے میں خطرناک مثال قائم ہو جائے گی۔ یہ محض 'انرا' پر ہی نہیں بلکہ دنیا کے مشترکہ کثیرفریقی نظام پر حملے ہیں۔
کمشنر جنرل نے کہا کہ لبنان اور خطے بھر میں کشیدگی پر قابو پانے کے لیے کثیرفریقی نظام اور انسانیت کی مشترکہ اقدار سے وابستگی کا نیا عزم کرنا ہو گا۔