انسانی کہانیاں عالمی تناظر

عالمی مسائل کے حل میں برکس کی کوششیں قابل تعریف، گوتیرش

اقوام متحدہ کے سربراہ روس کے شہر کازان میں جاری برکس سمٹ کے 16ویں اجلاس میں شریک ہیں۔
© Photohost agency BRICS-Russia2024.ru/Vladimir Astapkovich
اقوام متحدہ کے سربراہ روس کے شہر کازان میں جاری برکس سمٹ کے 16ویں اجلاس میں شریک ہیں۔

عالمی مسائل کے حل میں برکس کی کوششیں قابل تعریف، گوتیرش

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ جنگوں، موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات، بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور قرضوں کے بحران جیسے عالمگیر مسائل عالمی برادری سے مشترکہ اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔

روس کے شہر کازان میں برکس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ تمام لوگوں کے بہتر مستقبل کی خاطر عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو باضابطہ بنانے اور ہر جگہ قیام امن کی ضرورت ہے۔

Tweet URL

انہوں نے عالمی مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوششوں پر برکس کے رکن ممالک کو سراہا اور کہا کہ دور حاضر میں کوئی ایک ملک یا ممالک کا گروہ باقی دنیا سے علیحدہ رہ کر کام نہیں کر سکتا۔

برکس کو 2009 میں قائم کیا گیا تھا جس کے ارکان میں برازیل، روس، انڈیا، چین، جنوبی افریقہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، ایران اور ایتھوپیا شامل ہیں جو دنیا کی تقریباً نصف آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔

غزہ اور لبنان میں جنگ بندی کا مطالبہ

انتونیو گوتیرش نے کہا کہ گزشتہ مہینے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والی مستقبل کی کانفرنس میں کثیرفریقی نظام کو مضبوط بنانے، قیام امن، پائیدار ترقی اور انسانی حقوق کے فروغ و تحفظ کے لیے جامع اور موثر لائحہ عمل پیش کیا گیا جس پر عمل کر کے دنیا کو مسائل سے نکالا جا سکتا ہے۔

انہوں نے غزہ میں فوری جنگ بندی، یرغمالیوں کی بلاتاخیر اور غیرمشروط رہائی، علاقے میں انسانی امداد کی بلاروک و ٹوک فراہمی یقینی بنانے، فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم کرنے اور مسئلے کا دو ریاستی حل نکالنے پر زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ لبنان میں بھی قیام امن، کشیدگی کے فوری خاتمے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ یوکرین میں اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں کے مطابق جنگ بندی عمل میں لائی جانی چاہیے۔ انہوں نے سوڈان میں تمام متحارب فریقین سے ہتھیار رکھ کر پائیدار امن کے لیے کام کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

قیام امن اور تخفیف اسلحہ

سیکرٹری جنرل نے قیام امن کے طریقہ ہائے کار کو مضبوط اور دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات لائی جانی چاہئیں تاکہ وہ موجودہ دنیا کے مسائل کو حل کرنے کے قابل ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل کے معاہدے میں تخفیف اسلحہ، جوہری ہتھیاروں کے خاتمے، خلا میں اسلحے کا استعمال روکنے اور مہلک خودکار ہتھیاروں پر پابندی لگانے کی بات بھی کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کی کانفرنس نے بین الاقوامی ترقی و سلامتی کے لیے منصوبہ پیش کر دیا ہے اور برکس اسے عملی جامہ پہنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

مالیاتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ عالمی مالیاتی نظام کمزور ممالک کو تحفظ یا ان کی ضرورت کے مطابق مدد مہیا نہیں کرتا۔ مستقبل کی کانفرنس کے موقع پر طے پانے والے مستقبل کے معاہدے میں غیرمنصفانہ اور غیرموثر عالمی مالیاتی ڈھانچے میں تیز رفتار اصلاحات کا مطالبہ اور عزم کیا گیا ہے۔

انہوں نے اس معاہدے کی صورت میں کیے گئے وعدوں کا تذکرہ بھی کیا جن میں قرض کے بوجھ تلے دبے ممالک کو ادائیگیوں میں سہولت کی فراہمی اور ترقی پذیر ممالک میں ضروری سرمایہ کاری کے لیے بڑی مقدار میں بین الاقوامی، مقامی، نجی اور سرکاری وسائل مہیا کرنا شامل ہیں۔

موسمیاتی اقدامات

سیکرٹری جنرل نے مستقبل کے معاہدے میں تمام ممالک کی جانب سے عالمی حدت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد میں رکھنے کے وعدے پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مقصد گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں فوری طور پر کمی لانے کے لیے ٹھوس اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔ نومبر میں ہونے والی اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس میں ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر قابو پانے میں مدد دینے کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے ضمن میں پرعزم اور قابل اعتبار وعدے اور نتائج سامنے آنے چاہئیں۔

انتونیو گوتیرش نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کو مالی وسائل کی فراہمی میں اضافے کے وعدوں کو پورا کرنا ہو گا اور ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصان اور تباہی کے ازالے کے لیے بڑے پیمانے پر مالی مدد مہیا کرنا ہو گی۔

جدید ٹیکنالوجی کا انتظام

سیکرٹری جنرل نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو باضابطہ بنانے کی ضرورت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی کانفرنس میں مںظور کردہ عالمی ڈیجیٹل چارٹر میں ٹیکنالوجی کے حوالے سے بین الاقوامی تعاون اور صلاحیت کو بڑھانے کے وعدے کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چارٹر میں مصنوعی ذہانت پر خودمختار بین الاقوامی سائنسی کمیٹی کے قیام کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، اقوام متحدہ کے فریم ورک میں رہتے ہوئے اس ٹیکنالوجی کے انتظام پر تمام ممالک کے  مابین مکالمہ شروع کرنے کی بات بھی اس معاہدے کا حصہ ہے جس سے موجودہ اور نئی آنے والی ٹیکنالوجی کو باضابطہ اور انسان دوست بنایا جا سکتا ہے۔