پولیو کا پھیلاؤ بحران زدہ علاقوں میں زیادہ، یونیسف
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ جنگوں، قدرتی آفات اور انسانی بحران کا سامنا کرنے والے ممالک میں بچوں کی بڑی تعداد کے پولیو سے متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔
پولیو کے خلاف عالمی دن پر یونیسف کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بحرانوں کا سامنا کرنے والے ممالک کے پاس تمام بچوں کو بیماریوں کے خلاف حفاظتی ٹیکے لگانے کے وسائل نہیں ہیں۔ مسلح تنازعات سے متاثرہ ممالک میں گزشتہ پانچ سال کے دوران پولیو متاثرین کی تعداد دو گنا سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ گزشتہ سال اس بیماری کا شکار ہونے والے 85 فیصد بچوں کا تعلق ایسے ہی ممالک سے تھا۔
رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں پولیو ویکسین لگوانے والے بچوں کی تعداد 75 فیصد سے کم ہو کر 70 فیصد پر آ گئی ہے جبکہ کسی علاقے میں اس بیماری کا پھیلاؤ روکنے کے لیے 95 فیصد بچوں کو ویکسین پلانا ضروری ہے۔
پولیو کا دوبارہ ظہور
یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا ہے کہ جنگ کے ماحول میں بچوں کو بموں اور گولیوں کے علاوہ بھی کئی سنگین خطرات درپیش ہوتے ہیں۔ انہیں ایسی وبائی بیماریاں لاحق ہونے کا خطرہ رہتا ہے جن کا وجود اب نہیں ہونا چاہیے۔ بہت سے ممالک میں جنگوں کے باعث طبی نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے، پانی اور نکاسی آب کی سہولیات تباہ ہو رہی ہیں اور لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑ رہی ہے جس کے باعث پولیو جیسے امراض دوبارہ ابھرنے لگے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، جنگ زدہ علاقوں میں پولیو واضح طور پر دوبارہ سامنے آ رہا ہے۔ اس بیماری کا سامنا کرنے والے 21 ممالک میں 15 ایسے ہیں جنہیں کسی نہ کسی صورت جنگی حالات کا سامنا ہے۔ ان میں افغانستان، جمہوریہ کانگو، صومالیہ، جنوبی سوڈان اور یمن خاص طور پر نمایاں ہیں۔
غزہ میں 25 سال کے بعد اس بیماری نے دوبارہ سر اٹھایا ہے جہاں یونیسف اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ستمبر میں بچوں کو ہنگامی بنیادوں پر پولیو ویکسین پلانے کی مہم شروع کی تھی۔ اس دوران اب تک 10 سال سے کم عمر کے 600,000 بچوں کو ویکسین دی جا چکی ہے۔ تاہم بمباری دوبارہ شروع ہو جانے اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے باعث شمالی غزہ میں یہ مہم التوا کا شکار ہے۔
پولیو پر آخری وار
کیتھرین رسل نے کہا ہے کہ پولیو کے پھیلاؤ سے متاثرہ ممالک کے بچوں کو ہی خطرہ لاحق نہیں ہوتا بلکہ یہ بیماری ہمسایہ ممالک میں بھی پھیل سکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر سے پولیو کا خاتمہ کرنے کی حتمی کوششیں آسان نہیں ہیں لیکن اب اس ضمن میں فوری طور پر فیصلہ کن اقدامات کا وقت آ گیا ہے۔ دنیا کے ہر کونے میں ہر بچے کے پولیو سے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہونے تک آرام سے بیٹھا نہیں جا سکتا۔
جنگیں روکنے کا مطالبہ
ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ زدہ اور نازک حالات سے دوچار ممالک میں بیماری کا پھیلاؤ روکنے کے لیے بچوں کو پولیو ویکسین پلانے کی مہمات کے لیے کامیابی بہت ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے انسانی بنیادوں پر کم از کم عارضی جنگ بندی ضروری ہے تاکہ طبی کارکن متاثرہ لوگوں تک پہنچ سکیں۔
یونیسف ہر سال دنیا بھر میں پولیو ویکسین کی ایک ارب خوراکیں تقسیم کرتا ہے۔ اس نے حکومتوں اور بین الاقوامی شراکت داروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس بیماری کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں۔