انسانی کہانیاں عالمی تناظر

اقوام متحدہ کا ادارہ دنیا میں امید کا چراغ، گوتیرش

 نیو یارک میں اقوام متحدہ کا صدر دفتر۔
UN Photo/Manuel Elías
نیو یارک میں اقوام متحدہ کا صدر دفتر۔

اقوام متحدہ کا ادارہ دنیا میں امید کا چراغ، گوتیرش

اقوام متحدہ کے امور

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور خلا سے وابستہ مسائل پرعزم اور کثیر فریقی اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں، بین الاقوامی قانون کی دائمی اقدار اور ہر فرد کے وقار اور انسانی حقوق کو مدنظر رکھ کر کام کرنا ہو گا۔

Tweet URL

انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہی ہے۔ یہ دن ہر سال 24 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ 1945 میں دوسری عالمی جنگ کے بعد اسی روز ادارے کا قیام عمل میں آیا تھا۔

سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کو دنیا نے دنیا کے لیے ہی قائم کیا تھا۔ گزشتہ آٹھ دہائیوں سے یہ ادارہ ممالک کے لیے عالمگیر مسائل کے عالمی حل تلاش کرنے کی غرض سے اکٹھا ہونے کی جگہ رہا ہے کیونکہ امن، مشترکہ خوشحالی اور کرہ ارض کی ترقی کے لیے کثیرفریقی اقدامات درکار ہوتے ہیں۔

متحدہ اقدامات کا فورم

سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ مسائل کے ایسے حل تلاش کرنے کا فورم ہے جن سے تناؤ میں کمی آئے، فاصلے مٹائے جا سکیں اور امن قائم ہو سکے۔ اس پلیٹ فارم سے ایسے طریقے وضع کیے جاتے ہیں جن سے غربت کو ختم کیا جا سکے، پائیدار ترقی کی رفتار بڑھائی جائے اور کمزور ترین لوگوں کا ساتھ دیا جا سکے۔

یہ ایسی راہیں تخلیق کرنے کی جگہ ہے جن پر چل کر جنگوں، تشدد، معاشی مشکلات اور موسمیاتی حادثات سے متاثرہ لوگوں کو ضروری مدد فراہم کی جا سکتی ہے اور خواتین اور لڑکیوں کے لیے مساوی انصاف اور مساوات کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

ایسے بہت سے مسائل 1945 میں ناقابل تصور تھے اور آج ان پر قابو پانے کے لیے تمام ممالک کو اقوام متحدہ میں اتفاق رائے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

امید کا چراغ

انتونیو گوتیرش کا کہنا ہے کہ گزشتہ مہینے جنرل اسمبلی نے مستقبل کے معاہدے، عالمگیر ڈیجیٹل معاہدے اور آئندہ نسلوں کے لیے اعلامیے کی منظوری دی ہے۔

یہ اہم معاہدے اقوام متحدہ کے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے، اس میں اصلاحات لانے اور اسے نئے سرے سے موثر بنانے میں مدد دیں گے، تاکہ یہ دنیا میں آنے والی تبدیلیوں اور نئے مسائل سے نمٹ سکے اور تمام لوگوں کے مسائل کو حل کرے۔

انہوں نے واضح کیا ہے کہ آج کی مسائل بھری دنیا میں امید کافی نہیں ہوتی۔ امید تمام لوگوں سے متحدہ اقدامات اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر یک آواز ہونے کا تقاضا کرتی ہے۔

سیکرٹری جنرل نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اس ادارے کی صورت میں دنیا کے لیے امید کے چراغ کو روشن رکھیں۔