لبنان: حملوں میں شہریوں اور امن کاروں کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق
اقوام متحدہ کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ لبنان کے جنوبی علاقوں میں اسرائیل کی عسکری کارروائی اور دارالحکومت بیروت پر بمباری سے مہاجرت کا بہت بڑا بحران جنم لے رہا ہے۔
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے کہا ہے کہ 23 ستمبر کو لبنان پر اسرائیل کے شدید فضائی حملوں کے باعث ایک ہی ہفتے میں تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ 20 اکتوبر تک لبنان کی حدود میں بےگھر ہونے والے لوگوں کی تعداد 809,000 سے تجاوز کر چکی تھی۔ اندازے کے مطابق 21 اکتوبر تک مزید 425,000 افراد نے پناہ کے لیے شام کا رخ کیا جن میں 70 فیصد لوگ لبنان میں رہنے والے شامی پناہ گزین تھے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق شام جانے والے پناہ گزینوں کی تعداد اب بھی بہت زیادہ ہے لیکن اس میں جنگ کے ابتدائی ایام کے مقابلے میں قدرے کمی آئی ہے۔
ادارے نے کہا ہے کہ لبنان اور شام کے لیے بین الاقوامی مدد میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہونا چاہیے تاکہ انہیں درپیش مسائل پر قابو پایا جا سکے اور اشد ضروری امداد فراہم کی جا سکے۔
انخلا کے احکامات
اسرائیل نے لبنان کے تقریباً ایک چوتھائی حصے پر رہنے والے لوگوں کو انخلا کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ایسے تازہ ترین حکم میں جنوبی شہر صور کے بڑے حصے میں رہنے والی آبادی کو علاقہ چھوڑنے کے لیے کہا گیا۔ اس علاقے میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یونیفیل) بھی تعینات ہے۔انخلا کے احکامات دیے جانے کے بعد صور پر متعدد فضائی حملے کیے گئے۔
اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقاتی ادارے (یونیسکو) کے مطابق صور کو 2750 قبل مسیح میں فونیشیائی حکمرانوں نے بسایا تھا اور اسے انسانی تاریخ کے مختلف ادوار میں خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے نیویارک میں صحافیوں کو معمول کی بریفنگ میں بتایا کہ منگل کو 'یونیفیل' نے بلیو لائن کے جنوب سے کئی علاقوں پر 1,028 راکٹ اور گولے برسائے جانے کی اطلاع دی ہے۔ بلیو لائن کی شمالی جانب سے 80 راکٹ اور گولے داغے گئے جبکہ لبنان کی فضائی حدود کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
امن کاروں پر حملے
فرحان حق نے بتایا کہ بلیو لائن پر تعینات 'یونیفیل' کے امن کاروں کی سلامتی اور تحفظ کو بھی خطرات لاحق ہیں اور ان کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دینا مشکل ہو گیا ہے۔
منگل کی شام فورس کے ہیڈکوارٹر کے قریب متعدد حملے کیے گئے جن سے وہاں عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ نصف شب کے بعد طبی سامان لے جانے والی یونیفیل کی دو گاڑیوں کو یارن کے مقام پر روک لیا گیا۔ اس قافلے پر چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ بھی کی گئی جس سے ایک گاڑی کو نقصان پہنچا۔ اس موقع پر اہلکار اپنی جان بچا کر علاقے سے نکل جانے میں کامیاب رہے۔
فرحان حق نے متحارب فریقین کو اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی سلامتی یقینی بنانے اور ادارے کی تنصیبات کو حملوں کا ہدف نہ بنانے کی ذمہ داری یاد دلاتے ہوئے کہا کہ امن کار ہر طرح کے مشکل حالات کے باوجود اپنی جگہ پر موجود ہیں۔
بینکوں پر بمباری کی مذمت
انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں انسانی حقوق برقرار رکھنے کے معاملے پر اقوام متحدہ کے خصوصی اطلاع کار بین سول نے اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ سے مبینہ تعلق پر لبنان کے بینکوں پر بمباری کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہری تنصیبات پر ان حملوں سے بین الاقوامی انسانی قانون پامال ہوا ہے۔
قانون دشمن کے معاشی و مالیاتی ڈھانچے پر حملوں کی اجازت نہیں دیتا خواہ وہ بالواسطہ عسکری سرگرمیوں میں ہی ملوث کیوں نہ ہوں۔
ان کا کہنا ہے کہ جنگ میں صرف 'عسکری اہداف' پر ہی حملہ کیا جا سکتا ہے۔ جنگجوؤں یا ہتھیاروں سے برعکس دشمن کی معاشی سرگرمیوں سے اس کی عسکری کارروائیوں کو زیادہ مدد نہیں ملتی۔