پاکستان: 26ویں آئینی ترمیم پر یو این انسانی حقوق چیف کے تحفظات
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے پاکستان میں 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے عمل پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی اصلاحات جلد بازی میں نہیں ہونی چاہئیں اور اس معاملے میں انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حالیہ ترمیم سے قبل اس پر وسیع تر مشاورتی عمل اور بحث مباحثہ نہیں ہوا اور اس سے عدلیہ کی آزادی پر زد پڑنے کا خدشہ موجود ہے۔
ججوں اور وکلا کی آزادی پر اقوام متحدہ کی خصوصی اطلاع کار مارگریٹ سیٹروائٹ بھی اس ترمیم پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔ انہوں نے 14 اکتوبر کو پاکستان کی حکومت کے نام لکھے خط میں کہا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم سے ملک میں عدلیہ کی آزادی اور مقدمات پر منصفانہ عدالتی کارروائی کا انفرادی حق متاثر ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ سے متعلق اس آئینی ترمیم کی منظوری کے نتیجے میں مقدمات کے فیصلوں پر اپیل اور عدالتی جائزے تک رسائی کا حق محدود ہو جائے گا۔ جمہوریت کے تحفظ کے لیے آزاد اور غیرجانبدار عدلیہ کا وجود ضروری ہے اور آئینی ترمیم کرتے وقت اس بات کو خاص طور پر مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
عدلیہ پر پارلیمانی بالادستی
آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ اس ترمیم کی بدولت لوگوں کو عدالتی نظام سے جلد انصاف ملے گا۔ مخصوص عدالتی بینچ کی تشکیل سے آئینی مقدمات پر فیصلوں میں ہونے والی تاخیر کا خاتمہ ہو گا اور عام آدمی کو سہولت میسر آئے گی۔
ملک کے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ترمیم کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ذریعے پارلیمان کی بالادستی مضبوط ہوئی ہے۔ اس اقدام میں کسی طرح کی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا بلکہ ترمیم کی منظوری سے قبل تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ تفصیلی مشاورت ہوئی۔
ان کا کہنا ہے کہ اس ترمیم کی بدولت عدلیہ میں تقرریوں اور احتساب کے عمل کو مزید شفاف بنانے میں مدد ملے گی اور عدلیہ کی جانب سے پارلیمانی اختیارات میں مداخلت کی روش کا خاتمہ ہو گا۔