گزشتہ ستر سال میں ہوئی فلسطینی ترقی جنگ میں ضائع
اقوام متحدہ کی جاری کردہ نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ میں ایک سال سے جاری جنگ اور مغربی کنارے میں کشیدگی نے فلسطینی ریاست کی ترقی کو سات دہائیاں پیچھے دھکیل دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) اور معاشی و سماجی کمیشن برائے مغربی ایشیا (یونیسکا) کی تیار کردہ رپورٹ 'غزہ جنگ: فلسطینی ریاست پر متوقع سماجی معاشی اثرات' میں بتایا گیا ہے کہ معاشی پابندیاں ہٹائے بغیر فلسطینی معیشت جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال نہیں ہو سکتی۔ اس مقصد کے لیے علاقے میں بحالی کا عمل شروع کیا جانا اور ترقی پر سرمایہ کاری بھی ضروری ہے اور اسی صورت فلسطینیوں کا انسانی امداد پر کلی انحصار ختم کر کے انہیں ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں فلسطین کے لیے بحالی کی تین صورتیں بھی تجویز کی گئی ہیں۔ چونکہ یہ عمل طویل مدتی ہو گا اس لیے رپورٹ میں 2025 کے لیے بحالی کے عمل اور 2034 تک طویل مدتی تعمیرنو اور ترقی کا جائزہ لیا گیا ہے جب اس جنگ کو ایک دہائی مکمل ہو جائے گی۔
غربت میں ہولناک اضافہ
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال فلسطینی ریاست کی مجموعی داخلی پیداوار (جی ڈی پی) میں زمانہ امن کے مقابلے میں 35.1 فیصد کمی آئے گی جبکہ بے روزگاری کی شرح میں 49.9 فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔
نومبر 2023 اور مئی 2024 میں شائع ہونے والے جائزوں کے نتائج کی بنیاد پر اس رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ رواں سال فلسطین میں غربت کی شرح میں 74.3 فیصد اضافہ ہو گا جس سے 41 لاکھ لوگ متاثر ہوں گے۔ ان میں 26 لاکھ سے زیادہ ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو حال ہی میں غربت کا شکار ہوئے ہیں۔
یونیسکا کی ایگزیکٹو سیکرٹری رولا دشتی نے کہا ہے کہ اس رپورٹ کی صورت میں جو تخمینے لگائے گئے ہیں ان سے لاکھوں تباہ حال زندگیوں اور دہائیوں سے جاری ترقیاتی کوششوں کے بارے میں کئی طرح کے خدشات جنم لیتے ہیں جو غارت ہو گئی ہیں۔ اب ان تکالیف اور خونریزی کو ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے جس نے پورے خطے کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس مسئلے کا متحد ہو کر پائیدار حل تلاش کرنا ہو گا جس کے تحت تمام لوگ امن اور وقار سے رہیں، پائیدار ترقی کے فوائد سمیٹیں اور خطے میں بین الاقوامی قانون اور انصاف قائم ہو۔
بحالی کے تین منظر نامے
رپورٹ میں کثیرالجہتی غربت کےا شاریوں کو استعمال کرتے ہوئے سہولیات زندگی سے محرومی کی وسعت اور گہرائی کو بھی جانچا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، اس میں جنگ بندی کے بعد فلسطین کے لیے بحالی کے امکانات اور فوری بحالی سے متعلق تین منظرنامے بھی دیے گئے ہیں۔
پہلے منظر نامے کی رو سے فلسطینی کارکنوں پر پابندیاں اٹھا لی جائیں گی اور فلسطینی اتھارٹی کی آمدن بحال ہو جائے گی۔ فلسطینی ریاست کو انسانی امداد کی صورت میں مہیا کیے جانے والے 280 ملین ڈالر کے علاوہ بحالی کی کوششوں کے لیے سالانہ 290 ملین ڈالر مختص کیے جائیں گے۔ اس طرح پیداواری صلاحیت میں سالانہ ایک فیصد اضافہ ہو گا اور معیشت کو بحال ہونے اور فسلطین کی ترقی کو درست راہ پر گامزن کرنے میں مدد ملے گی۔
امداد کی بلارکاوٹ فراہمی
رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ جامع بحالی اور تعمیرنو کے منصوبے اور اس کے ساتھ انسانی امداد، بحالی اور تعمیر نو کے لیے سرمایہ کاری نیز معاشی پابندیاں ہٹانے سے فلسطینی معیشت کو 2034 تک کے ترقیاتی منصوبوں سے ہم آہنگ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم، 'یو این ڈی پی' کے منتظم ایکم سٹینر کا کہنا ہے کہ یہ اسی صورت ممکن ہے جب بحالی کی کوششوں میں رکاوٹیں حائل نہ ہوں۔فلسطینیوں کی تکالیف اور زندگی کے ہولناک نقصان کے ساتھ ترقی کا ایک سنگین بحران بھی جنم لے رہا ہے جس نے ان کی آئندہ نسلوں کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر فلسطینیوں کو ہر سال انسانی امداد فراہم کی جاتی رہے تو تب بھی ان کی معیشت ایک دہائی یا اس سے زیادہ عرصہ تک بحران سے پہلے والے دور کی سطح تک نہیں پہنچ سکے گی۔ حالات سازگار ہونے کی صورت میں فلسطینیوں کو فوری بحالی کی موثر حکمت عملی درکار ہو گی جس میں پہلے انسانی امداد کی فراہمی کا مرحلہ آئے گا اور اس کے بعد پائیدار بحالی کی بنیاد ڈالی جائے گی۔