انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مواصلاتی ضابطہ بندی پر بین الاقوامی اسمبلی کا انڈیا میں اجلاس

مواصلاتی ضابطہ بندی سے متعلق بین الاقوامی اسمبلی ہر چار سال بعد منعقد ہوتی ہے۔
© ITU
مواصلاتی ضابطہ بندی سے متعلق بین الاقوامی اسمبلی ہر چار سال بعد منعقد ہوتی ہے۔

مواصلاتی ضابطہ بندی پر بین الاقوامی اسمبلی کا انڈیا میں اجلاس

معاشی ترقی

مواصلاتی ضابطہ بندی سے متعلق بین الاقوامی اسمبلی (ڈبلیو ٹی ایس اے) انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں شروع ہو گئی ہے جس میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی صنعت کو ترقی دینے کے لیے بین الاقوامی ضابطوں کی تیاری پر بات چیت ہو گی۔

بین الاقوامی ٹیلی مواصلاتی یونین (آئی ٹی یو) کے زیراہتمام 24 اکتوبر تک جاری رہنے والی اسمبلی میں ٹیکنالوجی کےماہرین، اس صنعت کی نمایاں شخصیات، پالیسی ساز، محققین اور سرکاری حکام شریک ہیں۔ اس اجتماع میں نئی ٹیکنالوجی کے تناظر میں اختراع اور اعتماد میں اضافہ کرنے کے اقدامات بھی زیرغور آئیں گے۔

Tweet URL

یہ کانفرنس ہر چار سال کے بعد منعقد ہوتی ہے اور اس میں دنیا بھر کے ماہرین کی جانب سے ٹیکنالوجی کے بارے میں ضابطے تشکیل دینے کے لیے ترجیحات متعین کی جاتی ہیں۔ یہ ضابطے 'آئی ٹی یو' کے زیراہتمام لاگو کیے جاتے ہیں۔ امسال اسمبلی کا انعقاد انڈیا موبائل کانگریس کے تعاون سے کیا گیا ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ ایشیائی الکاہل خطہ اس کی میزبانی کر رہا ہے۔

تحفظ، احترام اور مساوات

اسمبلی کی افتتاحی تقریب میں انڈیا کے وزیراعظم نریندرا مودی نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے عالمگیر ربط، مصنوعی ذہانت کی تیاری اور استعمال کو اخلاقی اصولوں سے ہم آہنگ کرنے اور ڈیجیٹل شمولیت کے ذریعے لوگوں کی زندگیوں میں بامعنی تبدیلی لانے کے مطالبات کو دہرایا۔

انہوں نے کہا کہ اس شعبے میں آج جو ضابطے بنائے جائیں گے وہ انسانیت کے مستقبل کی راہ متعین کریں گے۔ اسی لیے سبھی کو 'تحفظ، احترام اور مساوات' کے اصولوں پر کام کرنا ہو گا اور یہی اس اجتماع ہونے والی بات چیت کا محور ہونا چاہیے۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی

'آئی ٹی یو' کی سیکرٹری جنرل ڈورین بوگڈان۔ مارٹن نے اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا نے اپنے ڈیجیٹل نظام سے لوگوں کو جو فوائد پہنچائے ہیں ان سے دنیا کو بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ اسمبلی دلیرانہ اور اجتماعی اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔ آئندہ چند روز میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے حوالےسے بین الاقوامی ضابطوں کے کردار کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے اور عالمگیر ڈیجیٹل انتظام کی بنیاد ڈالی جا سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کو باضابطہ بناتے وقت یہ مقصد پیش نظر رہنا چاہیے کہ اس ڈیجیٹل دور میں کوئی ملک، خطہ یا معاشرہ پیچھے نہ رہ جائے۔

ڈبلیو ٹی ایس اے کے اجلاس کے پہلے دن انڈیا کے وزیراعظم نریندرا مودی بھی موجود تھے۔
© ITU
ڈبلیو ٹی ایس اے کے اجلاس کے پہلے دن انڈیا کے وزیراعظم نریندرا مودی بھی موجود تھے۔

اسمبلی کیا کرتی ہے؟

'ڈبلیو ٹی ایس اے' ہر چار سال کے بعد 'آئی ٹی یو' کے شعبہ ضابطہ بندی کی حکمت عملی، ڈھانچے اور کام کے طریقوں کا جائزہ لیتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ ذمہ داریاں تفویض کرنے کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی ضابطہ بندی کے لیے قائدین اور ماہرین کے گروہوں کی تعیناتی بھی کرتی ہے۔

ضابطہ بندی کے لیے 'آئی ٹی یو' کے کام کی بنیاد ادارے کے ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات اور اتفاق رائے پر ہوتی ہے۔ دنیا کے تمام 194 ممالک اور 1,000 سے زیادہ کمپنیاں، یونیورسٹیاں اور بین الاقوامی و علاقائی ادارے اس کے رکن ہیں۔