حیاتیاتی تنوع پر یو این کانفرنس ’کاپ 16‘ کولمبیا میں شروع
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ فطرت کے ساتھ امن قائم کریں اور قدرتی مساکن کے نقصان کو روکنے، معدومیت کے خطرات سے دوچار انواع اور کرہ ارض کے ماحولیاتی نظام کو تحفظ دینے کے منصوبوں پر عملدرآمد کے اقدامات کریں۔
سیکرٹری جنرل نے یہ بات حیاتیاتی تنوع کے تحفظ پر کولمبیا کے شہر کالی میں جاری اقوام متحدہ کی کانفرنس (کاپ 16) میں شریک 190 ممالک کے مندوبین کے نام اپنے ویڈیو پیغام میں کہی۔ جمعہ کو شروع ہونے والی یہ کانفرنس دو ہفتے تک جاری رہے گی جس میں حکومتوں کے ماہرین، ماحولیاتی کارکن اور دنیا کے قدیمی مقامی باشندے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں لاحق اہم مسائل پر قابو پانے کے طریقوں پر غور کریں گے۔
کانفرنس کی افتتاحی تقریب کے موقع پر اس پیغام میں انہوں نے کہا کہ کُنمنگ۔مانٹریال گلوبل فریم ورک (جی بی ایف) دراصل انسانیت کی بقا اور قدرتی ماحول کو تحفظ دینے کا منصوبہ اور زمین اس کے ماحولیاتی نظام کے ساتھ انسان کے تعلقات کو نئے سرے سے استوار کرنے کا وعدہ ہے۔ آنے والی نسلوں کے لیے قدرتی ماحول اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد کو تحفظ دینے کے لیے اس منصوبے پر عملدرآمد کرنا ہو گا۔
'کاپ 16' حیاتیاتی تنوع پر اقوام متحدہ کے کنونشن کے فریقین کا 16واں اجلاس ہے۔ یہ 2022 میں حیاتیات تنوع کی حفاظت کے حوالے سے 'جی بی ایف' کی منظوری کے بعد اس مسئلے پر منعقدہ پہلی عالمی کانفرنس بھی ہے۔
عوام کی کانفرنس
انتونیو گوتیرش نے کہا کہ حیاتیاتی تنوع کو تحفظ دینے کے حوالے سے دنیا درست سمت میں گامزن نہیں ہے۔ اس کانفرنس میں الفاظ کو عمل میں بدلنا ہو گا اور ممالک کو فریم ورک کے تمام اہداف سے ہم آہنگ منصوبے پیش کرنا ہوں گے۔ انہیں ترقی پذیر ممالک کو اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے درکار مالی وسائل مہیا کرنا ہیں اور اس معاملے میں نگرانی اور شفافیت کے نظام کو مضبوط بنانا ہو گا۔
سیکرٹری جنرل نے ممالک پر زور دیا کہ وہ 'جی بی ایف' کے لیے نمایاں سرمایہ کاری کے وعدے کریں۔ فطرت سے منافع کمانے والوں کو اس کے تحفظ اور بحالی کے لیے بہرصورت اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو لوٹا گیا ہے اور ان کے غیرمعمولی وسائل سے ہونے والی سائنسی دریافتوں اور معاشی ترقی نے دوسروں کو فائدہ پہنچایا ہے۔ اسی لیے کاپ 16 کے ذریعے معاشروں کے تمام لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کا آغاز ہونا چاہیے اور اس سے قدیمی مقامی لوگوں اور معاشروں کو مضبوط کرنے کا کام لیا جانا چاہیے جو دنیا میں حیاتیاتی تنوع کے سب سے بڑے محافظ ہیں اور اس کے پائیدار استعمال کی راہ دکھاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حیاتیاتی تنوع کو تحفظ دینے کے لیے ہر سطح پر اٹھائے جانے والے اقدامات میں ان لوگوں کے علم اور نگراں کردار کو مرکزی اہمیت ملنی چاہیے۔ اب دنیا کے پاس انسانیت کو کرہ ارض کے انحطاط سے جنم لینے والے مسائل سے تحفظ دینے کا منصوبہ موجود ہے اور وہ کانفرنس میں شریک تمام مندوبین سے اس معاملے میں ان کی پیش رفت کے بارے میں جاننے کے منتظر ہیں۔
طرز زندگی میں تبدیلی
اس موقع پر کولمبیا کی وزیر ماحولیات اور کاپ کی صدر سوزانا محمد نے کہا کہ کانفرنس کے دوران کُنمنگ مانٹریال گلوبل فریم ورک پر عملدرآمد کے لیے اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں۔ دراصل یہ طرز زندگی اور ترقیاتی نمونے کو تبدیل کرنے، سوچ کو بدلنے اور ایسے نظام میں تنوع کے ساتھ زندگی گزارنے کا معاملہ ہے جس میں ترقی کا نتیجہ قدرتی ماحول کی مستقل تباہی کی صورت میں نہ نکلے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حیاتیاتی تنوع پر ہونے والی بات چیت کا موسمیاتی اقدامات سے گہرا تعلق ہے اور قدرتی وسائل کا حد سے زیادہ استخراج و استعمال ہی آج 50 فیصد سے زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا بنیادی سبب ہے۔ اس کے علاوہ حیاتیاتی تنوع کا 90 فیصد نقصان بھی قدرتی وسائل کے بے تحاشہ استعمال سے ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی نظام اور فطری ماحول کو بحال کر کے موسمیاتی مسائل پر 40 فیصد تک قابو پایا جا سکتا ہے اور کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔