انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سابق یو این چیف کی ہلاکت پر تحقیقاتی رپورٹ صدر جنرل اسمبلی کے حوالے

سویڈن سے تعلق رکھنے والے ڈگ ہیمرشولڈ 1953 میں اقوام متحدہ کے دوسرے اور سب سے کم عمر سیکرٹری جنرل مقرر ہوئے تھے۔
UN archive
سویڈن سے تعلق رکھنے والے ڈگ ہیمرشولڈ 1953 میں اقوام متحدہ کے دوسرے اور سب سے کم عمر سیکرٹری جنرل مقرر ہوئے تھے۔

سابق یو این چیف کی ہلاکت پر تحقیقاتی رپورٹ صدر جنرل اسمبلی کے حوالے

اقوام متحدہ کے امور

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اپنے سابق ہم منصب ڈیگ ہیمرشولڈ کی 1961 میں طیارے کے حادثے میں ہلاکت سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ جنرل اسمبلی کے صدر فائلیمن یانگ کو پیش کر دی ہے۔

انہوں نے رپورٹ کے ساتھ اپنی رائے دیتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ بات قرین قیاس ہے کہ کوئی بیرونی حملہ یا خطرہ اس حادثے کا سبب بنا ہو گا۔ علاوہ ازیں، حادثے کے پیچھے سبوتاژ یا غیرارادی انسانی غلطی کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

یہ رپورٹ تنزانیہ کے سابق چیف جسٹس محمد چانڈے اوتھمان نے تیار کی ہے جس میں ڈیگ ہیمرشولڈ اور ان کے ساتھیوں کی شمالی رہوڈیشیا (اب زیمبیا) میں ہلاکت سے متعلق حالات و واقعات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2014 میں اس حادثے کی تحقیقات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تحقیق کار مقرر کرنے اور انسانی حقوق کے غیرجانبدار ماہرین کو بھی اس معاملے میں ذمہ داریاں سونپنے کی منظوری دی تھی۔ اس کے بعد متعدد شخصیات کی قیادت میں اس کام کو آگے بڑھایا گیا ہے۔

محمد چانڈے اوتھمان کو سیکرٹری جنرل نے 2023 میں یہ ذمہ داری سونپی تھی اور انہوں نے اس معاملے میں ان کے غیرمتزلزل عزم پر ممنونیت کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ کے طور پر اپنی دوسری مدت کے پہلے دن ڈیگ ہیمرشولڈ نیو یارک کے میئر کی طرف سے دیے گئے ظہرانہ میں شرکت کے لیے جا رہے ہیں (کار کی پچھلی سیٹ پر دائیں جانب)۔
UN Photo
اقوام متحدہ کے سربراہ کے طور پر اپنی دوسری مدت کے پہلے دن ڈیگ ہیمرشولڈ نیو یارک کے میئر کی طرف سے دیے گئے ظہرانہ میں شرکت کے لیے جا رہے ہیں (کار کی پچھلی سیٹ پر دائیں جانب)۔

تخریب کاری یا انسانی غلطی؟

سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں موجودہ تحقیق کار کو ڈیگ ہیمرشولڈ کے جہاز سے رکن ممالک یا متعلقہ مواصلاتی نظام کو پیغامات کی ممکنہ وصولی، کاتانگا یا دیگر ممالک کی مسلح افواج کی جہاز پر ممکنہ حملے کی صلاحیت، علاقے میں غیرملکی نیم فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کی موجودگی اور اس حادثے کے تناظر میں اور اس سے متعلق مزید نئی معلومات بھی مہیا کی گئیں۔

تحقیق کار کی جانب سے متعلقہ معلومات کی اہمیت کے جائزے کو پیش نظر رکھتے ہوئے سیکرٹری جنرل اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس حادثے کی وجوہات کے بارے میں کئی طرح کے اندازے قائم کیے جاتے رہے ہیں جن میں بہت سے غیرمصدقہ ہیں۔ تاہم، یہ حادثہ جہاز پر کسی نہ کسی انداز میں کیے گئے حملے یا اس کے عملے کی کسی غلطی کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔

علاوہ ازیں، اس حادثے کے حوالے سے رکن ممالک کے پاس یقینی طور سے ایسی معلومات موجود ہیں جو تاحال سامنے نہیں آئیں۔ تحقیقات کے دوران متعدد رکن ممالک کو سوالات بھی بھیجے گئے تھے جن کا جواب تاحال موصول نہیں ہوا۔

زمبیا میں ندولا کے مقام پر وہ جگہ جہاں ہیمرشولڈ کا جہاز 17 اور 18 سمتبر کی درمیانی شب گر کر تباہ ہوا تھا۔
UN Photo/Yutaka Nagata
زمبیا میں ندولا کے مقام پر وہ جگہ جہاں ہیمرشولڈ کا جہاز 17 اور 18 سمتبر کی درمیانی شب گر کر تباہ ہوا تھا۔

تحقیقات میں تعاون کی اپیل

سیکرٹری جنرل نے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کی مکمل سچائی جاننے کے عزم کی تجدید کریں اور اگر ان کے پاس اس حوالے سے کوئی معلومات ہوں تو وہ سامنے لائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس ضمن میں رکن ممالک کے ساتھ رابطے میں رہنے سمیت تحقیقات میں مدد کے لیے ہرممکن کوشش کریں گے۔

سیکرٹری جنرل نے اس حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی مکمل حمایت کی اور اس کے لیے رکن ممالک کے ساتھ مکمل رابطے میں رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنرل اسمبلی کی جانب سے حادثے کی تحقیقات دوبارہ شروع کرائے جانے کے بعد اس حوالے سے مزید معلومات سامنے آتے رہنا حوصلہ افزا بات ہے۔

ڈیگ ہیمرشولڈ

ڈیگ ہیمرشولڈ کا تعلق سویڈن سے تھا اور وہ 1953 میں اقوام متحدہ کے دوسرے اور سب سے کم عمر سیکرٹری جنرل مقرر ہوئے تھے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے قیام کے بعد ابتدائی برسوں میں اسے مضبوط بنانے کے لیے نمایاں کام کیا۔

17 اور 18 ستمبر 1961 کو جان لیوا حادثے کے وقت ان کی عمر 56 برس تھی۔ اس واقعے میں اقوام متحدہ کے اہلکاروں اور جہاز کے عملے پر مشتمل 15 دیگر افراد بھی ان کے ساتھ ہلاک ہو گئے تھے۔

10 ستمبر 2024 کو ڈیگ ہیمرشولڈ کی 63 ویں برسی کے موقع پر ان کی یادگار پر پھول چڑھانے کی تقریب میں سیکرٹری جنرل نے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اقوام متحدہ، اس کے چارٹر اور امن سے پوری طرح وابستہ تھے۔