انسانی کہانیاں عالمی تناظر

لبنان اسرائیل سرحدی کشیدگی کے باوجود یونیفیل کا فرائض نبھانے کا عزم

یونیفیل سے وابستہ ایک امن ہلکار بلیو لائن کے قریب فرائض سرانجام دیتے ہوئے۔
© UNIFIL
یونیفیل سے وابستہ ایک امن ہلکار بلیو لائن کے قریب فرائض سرانجام دیتے ہوئے۔

لبنان اسرائیل سرحدی کشیدگی کے باوجود یونیفیل کا فرائض نبھانے کا عزم

امن اور سلامتی

لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یونیفیل) نے اسرائیل کے ساتھ سرحدی علاقے میں شدید بمباری کے باوجود اپنی جگہ نہ چھوڑنے اور سلامتی کونسل کی تفویض کردہ ذمہ داریاں انجام دیتے رہنے کا عزم کیا ہے۔

'یونیفیل' کے ترجمان آندریا ٹینینٹی نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنان کے ساتھ عارضی سرحد (بلیو لائن) کو چھوڑ دینے کے مطالبات کے باوجود فورس کے لیے اہلکار مہیا کرنے والے تمام ممالک اور سلامتی کونسل نے متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ مشن اپنی جگہ پر موجود رہے گا۔

Tweet URL

جنیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فورس کو بلیو لائن پر ہی رہنے اور علاقے میں امن و استحکام واپس لانے کے لیے کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

امن کاروں کا تحفظ

ترجمان کا کہنا تھا کہ یونیفیل کی پوزیشنوں پر اور ان کے قریب روزانہ ہزاروں گولے داغے جاتے ہیں جس کے باعث امن کاروں کو اپنے تحفظ کے لیے طویل وقت تک پناہ گاہوں میں رہنا پڑتا ہے۔

حالیہ دنوں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے متعدد امن کار زخمی ہوئے جبکہ نگران کیمروں، چیک پوسٹوں اور کیمپوں کا احاطہ کرنے والی دیواروں کو بھی نقصان پہنچا جو کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 (2006) کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت مشن کو اس علاقے میں ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔

فورس نے حالیہ دنوں اپنے کام میں حائل مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی فوج کے حملے کے بعد بلیو لائن کے قریب اور مشرق و مغرب میں یونیفیل کی جائے تعیناتی کے آس پاس بمباری میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی امن فورس کے قریب ایسی عسکری کارروائیاں بھی قرارداد 1701 کی پامالی کے مترادف ہیں۔

یاد رہے کہ اس قرارداد کے ذریعے یونیفیل کو 2006 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین جنگ بندی کے بعد لبنان سے اسرائیلی فوجوں کی واپسی کی تصدیق کرنے اور لبنانی حکومت کو علاقے میں اپنی عملدآری بحال کرنے میں مدد فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ یونیفیل کی فورس میں 10 ہزار اہلکار کام کرتے ہیں۔

امن فورس اور دفاع کا حق

ترجمان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب 6 میں واضح کیا گیا ہے کہ خطرے کی صورت میں امن اہلکار اپنے دفاع کے لیے کارروائی کے مجاز ہیں۔ تاہم اس معاملے میں نہایت احتیاط سے کام لیا جاتا ہے کیونکہ امن فورس جنگ کا حصہ بننا نہیں چاہتی اور اس انداز میں طاقت کا استعمال نہیں کرے گی جس سے مزید تشدد شروع ہونے کا خدشہ ہو۔

یونیفیل تناؤ میں کمی لانے کی کوشش کر رہا ہے اور اپنے دفاع کے لیے کسی کارروائی کا فیصلہ میدان میں موجود فورس کے حکام نے کرنا ہے۔ علاوہ ازیں، مشن اقوام متحدہ کے اداروں اور شراکت داروں کی جانب سے جنوبی لبنان میں شہریوں کو ضروری انسانی امداد کی فراہمی کے لیے محفوط راستہ مہیا کرنے کے لیے بھی فریقین کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کام آسان نہیں کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ امدادی قافلوں کو تحفظ کی ضمانت نہیں ملتی اور فورس کی امدادی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی صلاحیت محدود رہ جاتی ہے۔

جنوب میں تباہی

ترجمان نے کہا کہ بلیو لائن کے ساتھ بیشتر دیہات اسرائیل کی بمباری میں مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں یا انہیں نقصان پہنچا ہے۔ اگرچہ 450,000 لوگوں نے جنگ سے بچنے کے لیے علاقہ چھوڑ دیا ہے لیکن ہزاروں اب بھی وہاں موجود اور امداد کے منتظر ہیں۔

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کے ترجمان جینز لائرکے نے بتایا ہے کہ امدادی کارروائیوں کی اطلاع دینے کا نظام پوری طرح کام کر رہا ہے اور ملک کے جنوبی علاقے میں امدادی قافلوں کی آمدورفت کے حوالے سے لبنان اور اسرائیل کی فوج کو پیشگی آگاہ کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اسی لیے امدادی ادارے یونیفیل اور علاقے میں اس کے رابطوں پر انحصار کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو مدد پہنچانے کا کام بلارکاوٹ انجام پائے۔