انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ: اٹھارہ لاکھ سے زیادہ افراد کو شدید بھوک کا سامنا

نیلی سویٹ شرٹ میں ملبوس ایک فلسطینی لڑکی نے دھات کا پیالہ پکڑا ہوا ہے جب وہ غزہ میں کھانے کی تقسیم کے لیے دوسرے بچوں کے ساتھ لمبی قطار میں انتظار کر رہی ہے۔
© UNRWA یو این اداروں کے مطابق غزہ کے مکینوں کو لمبے عرصے تک انسانی امداد کی ضرورت رہے گی۔

غزہ: اٹھارہ لاکھ سے زیادہ افراد کو شدید بھوک کا سامنا

امن اور سلامتی

غزہ میں 18 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو انتہائی خطرناک درجے کی بھوک کا سامنا ہے جہاں اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں 70 فیصد زرعی اراضی تباہ ہو گئی ہے اور روزگار ختم ہو گئے ہیں۔

غذائی تحفظ کی مربوط درجہ بندی کے عالمی اقدام (آئی پی سی) کے تحت اور اقوام متحدہ کے تعاون سے لیے گئے جائزے کے مطابق غزہ میں ایک لاکھ 33 ہزار لوگوں یا چھ فیصد آبادی کو پہلے ہی پانچویں یا تباہ کن درجے کے غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ خدشہ ہے کہ نومبر اور آئندہ برس اپریل کے درمیان یہ تعداد بڑھ کر تین لاکھ 45 ہزار افراد یا 16 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

Tweet URL

علاوہ ازیں غزہ کی پوری پٹی میں قحط پھیلنے کا خطرہ پہلے سے موجود ہے اور جنگ میں آنے والی حالیہ شدت کے تناظر میں اس کے عملی صورت اختیار کرنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ناقابل قبول صورتحال

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے 'آئی پی سی' کی رپورٹ کے نتائج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں قحط ناقابل قبول ہے۔ اسرائیل کو چاہیے کہ وہ علاقے میں امداد کی فراہمی کے لیے تمام سرحدی راستے کھولے۔

اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے نیویارک میں صحافیوں کو معمول کی بریفنگ میں بتایا کہ سیکرٹری جنرل نے غزہ میں امداد کی ترسیل میں حائل ضابطے کی رکاوٹوں کو دور کرنے اور نظم و نسق بحال کرنے پر بھی زور دیا ہے تاکہ اقوام متحدہ کے ادارے ضرورت مند لوگوں کو مدد پہنچا سکیں۔

قحط روکنے کے لیے سفارشات

'آئی پی سی' کے جائزے میں یہ بھی کہا ہے کہ غزہ میں خوراک، طبی سازوسامان، پانی اور بنیادی خدمات تک وسیع تر رسائی کے ذریعے ہی قحط کے خطرے کو روکا جا سکتا ہے۔

اس میں فوری، غیرمشروط اور پائیدار جنگ بندی، غذائی نظام کی بحالی اور شدید غذائی قلت کی روک تھام پر بھی زور دیا گیا ہے۔

جائزے میں کہا گیا ہے کہ نومولود اور چھوٹے بچوں کے لیے دودھ مہیا کرنے کے پروگراموں کو بہتر بنانے اور انہیں ماؤں کا دودھ پلانے کی حوصلہ افزائی اور اس ضمن میں مدد دینے کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں، جو بچے ماؤں کا دودھ نہیں پیتے ان کے لیے خصوصی نگہداشت درکار ہے۔

'ایف اے او' کے امدادی اقدامات

اقوام متحدہ کے ادارے عدم تحفط، رسائی میں مشکلات، لوگوں کے لیے انخلا کے احکامات اور جنگ جیسے مسائل کے باوجود ہر ممکن امدادی اقدامات کر رہے ہیں۔

عالمی ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) مقامی سطح پر خوراک کی پیداوار کو بحال کرنے اور خاص طور پر موسم سرما میں غذائیت والی خوراک کی دستیابی ممکن بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔

ادارے کی نائب ڈائریکٹر جنرل بیتھ بیکڈول نے کہا ہے کہ شدید بھوک اور غذائی قلت پر قابو پانے کے لیے کشیدگی کا فوری خاتمہ کرنا، انسانی امداد کی فراہمی کو بحال کرنا اور موسم سرما کی فصلوں کے لیے زرعی مداخل مہیا کرنا ضروری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انسانی امداد سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ لوگوں کو تازہ اور غذائیت والی خوراک درکار ہے۔ کسانوں کو خوراک کی پیداوار دوبارہ شروع کرنے میں مدد دینا ہو گی اور اس کے ساتھ درآمدی خوراک اور غیرغذائی اشیا کی ترسیل بھی بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

مویشیوں کا نقصان

'ایف اے او' نے غزہ میں جنگ کے دوران بڑے پیمانے پر مویشیوں کے نقصان پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ادارے نے علاقے میں 30 ہزار بھیڑوں اور بکریوں کو تحفظ دینے کا پروگرام شروع کر رکھا ہے جو غزہ میں باقی مندہ مجموعی مویشیوں کی 40 فیصد تعداد ہے۔ ستمبر کے آخر تک اس نے رفح، خان یونس اور دیرالبلح میں 4,400 مویشی بانوں میں چارہ اور 2,400 گلہ بان خاندانوں کو بیمار مویشیوں کے علاج کا سامان مہیا کیا تھا۔

ادارے کا کہنا ہے کہ وہ رسائی، تحفط اور نقل و حرکت بحال ہونے پر مزید چارہ، گرین ہاؤس کے لیے پلاسٹک کی چادریں، پلاسٹک سے بنے پانی کے ٹینک، مویشیوں کی ویکسین، ان کے لیے مقوی خوراک اور پناہ گاہیں مہیا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان مویشیوں کی پرورش سے غزہ کے تمام بچوں کی ضرورت کے مطابق دودھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔