انسانی کہانیاں عالمی تناظر

دنیا میں ایک ارب سے زیادہ لوگ انتہائی غربت کا شکار، رپورٹ

ایسے ممالک میں غربت کے خاتمے کی رفتار سست ترین ہے جو جنگوں سے متاثرہ ہیں اور وہاں غربت عموماً بلند ترین سطح پر ہوتی ہے۔
© UNICEF/Vincent Tremeau
ایسے ممالک میں غربت کے خاتمے کی رفتار سست ترین ہے جو جنگوں سے متاثرہ ہیں اور وہاں غربت عموماً بلند ترین سطح پر ہوتی ہے۔

دنیا میں ایک ارب سے زیادہ لوگ انتہائی غربت کا شکار، رپورٹ

پائیدار ترقی کے اہداف

دنیا میں ایک ارب سے زیادہ لوگ شدید درجے کی غربت کا شکار ہیں اور ان میں 40 فیصد ایسے ممالک میں رہتے ہیں جنہیں پرتشدد تنازعات کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ کے تعاون سے شائع ہونے والے کثیر پہلو عالمی غربت کے اشاریے (ایم پی آئی) میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں 455 ملین لوگوں کو جنگیں یا نازک معاشی حالات درپیش ہیں۔ جنگ سے متاثرہ ممالک میں ایک چوتھائی سے زیادہ آبادی کی بجلی تک رسائی نہیں ہے جبکہ مستحکم علاقوں میں ایسے لوگوں کی شرح صرف 5 فیصد ہے۔ تعلیم، غذائیت اور بچوں میں شرح اموات کے حوالے سے بھی یہی تفاوت پایا جاتا ہے۔

Tweet URL

دنیا میں 1.1 ارب غریب لوگوں میں نصف سے زیادہ تعداد (584 ملین) 18 سال سے کم عمر بچوں کی ہے۔ ان میں تقریباً 28 فیصد بچے غربت کا شکار ہیں جبکہ کرہ ارض کی مجموعی آبادی میں غربت کا شکار بالغ افراد کی تعداد 13.5 فیصد ہے۔

یہ اشاریہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) اور برطانیہ کی یونیورسٹی آف آکسفرڈ میں غربت کے خاتمے اور انسانی ترقی کے اقدام (او پی ایچ آر) نے مشترکہ طور پر شائع کیا ہے۔

غربت اور تفریق کا خاتمہ

'ایم پی آئی' کی اشاعت غربت کے خاتمے کے عالمی دن پر عمل میں آئی ہے جو ہر سال 17 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ غربت میں زندگی گزارنے والوں کے خلاف سماجی اور ادارہ جاتی تفریق کا خاتمہ امسال اس دن کا خاص موضوع ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اس دن پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ غربت کا خاتمہ تمام لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے والے انسان دوست اور باوقار معاشروں کی لازمی بنیاد ہے۔ اگرچہ غربت ایک عالمی وبا ہے جو کروڑوں لوگوں کو متاثر کرتی ہے تاہم یہ کسی کا مقدر نہیں بلکہ معاشروں اور حکومتوں کے غلط فیصلوں یا فیصلے نہ لینے کا براہ راست نتیجہ ہوتی ہے۔

عالمگیر غربت کا خاتمہ اور پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کا حصول حکومتوں سے ایسے ادارے اور نظام تشکیل دینے کا تقاضا کرتا ہے جن میں لوگوں کو فوقیت دی جائے۔ علاوہ ازیں، یہ باوقار روزگار، سیکھنے کے مواقع اور سماجی تحفظ پر سرمایہ کاری کو ترجیح دینے کا تقاضا بھی کرتا ہے جس سے غربت کے خاتمے میں مدد مل سکتی ہے۔

اپنے پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کی رفتار تیز کے اقدامات اور عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات کے ذریعے مستقبل کے معاہدے پر مکمل عملدرآمد کرنا ضروری ہے تاکہ ترقی پذیر ممالک کو اپنے لوگوں پر سرمایہ کاری میں مدد دی جا سکے۔

جنگیں اور زندگی کا نقصان

'ایم پی آئی' کا آغاز 2010 میں ہوا تھا اور امسال اس میں 112 ممالک کے 6.3 ارب لوگوں کا جائزہ شامل ہے۔

'یو این ڈی پی' کے منتظم ایکم سٹینر کا کہنا ہے کہ اس اشاریے میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں جنگیں شدت اختیار کر گئی ہیں اور ان میں انسانی نقصان غیرمعمولی طور پر بلند سطح پر پہنچ گیا ہے۔ ان کے نتیجے میں لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں اور بڑے پیمانے پر زندگیوں اور روزگار کا نقصان ہو رہا ہے۔

اس جائزے کے مطابق، ایسے ممالک میں غربت کے خاتمے کی رفتار سست ترین ہے جو جنگوں سے متاثرہ ہیں اور وہاں غربت عموماً بلند ترین سطح پر ہوتی ہے۔ جنگ زدہ ممالک میں کثیر پہلو غربت کے تمام اشاریے بدترین صورتحال دکھاتے ہیں۔ ان جگہوں پر بجلی، حسب ضرورت صاف پانی، صحت و صفائی اور نکاسی آب کی سہولیات، تعلیم اور غذائیت والی خوراک کا فقدان ہے۔

افغانستان کی صورتحال

افغانستان میں 2015 تا 2016 اور 2022 تا 2023 کے جنگ زدہ عرصہ میں مزید 5.3 لوگ کثیر پہلو غربت کا شکار ہوئے ہیں۔ گزشتہ برس کی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی تقریباً دو تہائی آبادی غریب ہے۔

ایکم سٹینر نے کثیر پہلو غربت کا سامنا کرنے والے لوگوں کی مدد کے لیے مزید اقدامات پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں غربت اور بحرانوں کے سلسلے پر قابو پانے کے لیے وسائل، مخصوص شعبوں میں ترقی اور بروقت بحالی کے اقدامات کی ضرورت ہے۔