انسانی کہانیاں عالمی تناظر

لبنان: جنگ میں بے گھر ہونے والے افراد میں ہیضہ پھیلنے کا خطرہ

اسرائیلی حملوں سے جان بچانے کے لیے لبنان کے شہری بڑی تعداد میں ہمسایہ ملک شام کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔
© UNICEF/Rami Nader
اسرائیلی حملوں سے جان بچانے کے لیے لبنان کے شہری بڑی تعداد میں ہمسایہ ملک شام کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔

لبنان: جنگ میں بے گھر ہونے والے افراد میں ہیضہ پھیلنے کا خطرہ

امن اور سلامتی

شمالی لبنان میں انتہائی معتدی ہیضے میں مبتلا پہلا مریض سامنے آنے کے بعد عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی بمباری کے باعث بے گھر ہونے والے لوگوں کی صحت و زندگی کو اس مہلک بیماری سے سنگین خطرہ لاحق ہے۔

ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا ہے کہ لبنان میں ہیضے کے پھیلاؤ پر نظر رکھنے اور پانی کے نمونوں میں اس کے جراثیموں کی جانچ کے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔ پہلے مریض کا تعلق ملک کے انتہائی شمالی علاقے عکار سے ہے اور بیماری کی روک تھام کے لیے بروقت انتظامات نہ کیے گئے تو یہ تیزی سے وبائی صورت اختیار کر سکتی ہے۔

Tweet URL

انہون نے بتایا ہے کہ لبنان کے حکام نے اگست میں ہیضے کے خلاف ویکسینیشن مہم شروع کی تھی جس سے 350,000 لوگوں نے استفادہ کیا۔ تاہم حالیہ کشیدگی نے اس مہم کو بھی متاثر کیا ہے۔

ہیضے کے خلاف عدم تحفظ

لبنان میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے قائمقام نمائندے ڈاکٹر عبدالناصر ابوبکر نے کہا ہے کہ جنگ کے باعث جنوبی لبنان سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں لوگوں کو ہیضے سے تحفظ حاصل نہیں ہے جو کہ آلودہ پانی اور صحت و صفائی کے ناقص انتظام کی وجہ سے پھیلتا ہے۔ جنوبی لبنان اور بیروت سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگوں نے تین دہائیوں سے ہیضے کی ویکسین نہیں لگوائی جس کی وجہ سے یہ بیماری تیزی سے پھیل سکتی ہے۔

ڈاکٹر ٹیڈروز نے بتایا ہے کہ 'ڈبلیو ایچ او' لبنان میں ریڈ کراس اور ہسپتالوں کے اشتراک سے بلڈ بینک قائم کر رہا ہے تاکہ بمباری میں زخمی ہونے والے لوگوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔ تاہم، جنگ سے جنم لینے والی تکالیف کا حل امداد نہیں بلکہ امن ہے۔

طبی سہولیات پر حملے

'ڈبلیو ایچ او' کے مطابق تقریباً ایک مہینہ پہلے یہ جنگ شروع ہونے کے بعد طبی مراکز پر 23 حملے ہو چکے ہیں جن میں 72 افراد ہلاک اور 43 زخمی ہوئے۔ ان میں طبی کارکن اور مریض دونوں شامل ہیں۔ لبنان کے حکام نے بتایا ہے کہ ایک سال کے عرصہ میں اسرائیل پر حملوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 2,200 افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے۔

ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ شدید بمباری اور عدم تحفظ کے باعث خاص طور پر جنوبی لبنان میں ہسپتال تیزی سے بند ہو رہے ہیں۔ جنگ زدہ علاقوں میں نصف بنیادی مراکز صحت میں خدمات کی فراہمی معطل ہے جبکہ 11 ہسپتالوں کو مکمل یا جزوی طور پر خالی کرا لیا گیا ہے۔ جو طبی مراکز کام کر رہے ہیں ان پر زخمیوں اور بیمار لوگوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔

غزہ میں پولیو مہم

دوسری جانب، غزہ میں پولیو مہم کا دوسرا مرحلہ جاری ہے۔ ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ اس مہم کی کامیابی کا دارومدار 10 سال سے کم عمر کے 90 فیصد بچوں تک رسائی پر ہے۔ تاہم، شمالی غزہ میں بڑے پیمانے پر جاری تشدد کے باعث طبی مدد کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔

اکتوبر کے پہلے دو ہفتوں کے دوران 54 میں سے ایک طبی مشن کو ہی شمالی غزہ میں بھیجنے کی اجازت ملی تھی۔ انہوں نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ 'ڈبلیو ایچ او'  اور اس کے شراکت داروں کو شمالی غزہ تک رسائی دے تاکہ ضرورت مند لوگوں کو طبی امداد مہیا کی جا سکے۔

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کی قائمقام انڈر سیکرٹری جنرل جوئس مسویا نے گزشتہ روز سلامتی کونسل کو بتایا تھا کہ غزہ میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں تقریباً 400 افراد ہلاک اور 1,500 زخمی ہوئے ہیں۔

شمالی غزہ پر اسرائیل کے حملوں میں شدت آ گئی ہے جہاں زیر محاصرہ جبالیہ پناہ گزین کیمپ کے قریب شدید لڑائی ہو رہی ہے۔ فلسطینی مسلح گروہوں کی جانب سے اسرائیل پر اندھا دھند راکٹ باری بھی جاری ہے۔ اندازے کے مطابق جبالیہ سے 55 ہزار لوگوں نے نقل مکانی کی ہے جبکہ بڑی تعداد میں لوگ پانی اور خوراک کے بغیر اس علاقے میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 2 تا 15 اکتوبر شمالی غزہ میں کوئی خوراک نہیں پہنچ سکی اور علاقے میں کھانے پینے کی چیزوں کا ذخیرہ ختم ہونے کو ہے۔